سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ نابالغ بچے کے نان و نفقے کا تعین کرتے وقت بچے کی معقول ضروریات، والد کی مالی استطاعت، آمدنی اور سماجی حیثیت کو مدنظر رکھا جائے گا جبکہ نچلی عدالتوں کے فیصلوں میں صرف اسی صورت مداخلت کی جا سکتی ہے جب وہ واضح طور پر غیر معقول، من مانی یا قانون کے خلاف ہوں۔
جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے شاہین نواز کی اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ اپیلیٹ کورٹ کی جانب سے نابالغ بچے کا ماہانہ نان و نفقہ 30 ہزار روپے مقرر کیا گیا تھا، جس میں ہر سال 15 فیصد اضافے کا بھی حکم دیا گیا، اور یہ فیصلہ والد کی آمدنی، مالی وسائل، دیگر کفالتی ذمہ داریوں اور بچے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار نچلی عدالتوں کے فیصلوں میں کسی قانونی خامی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کو ثابت نہیں کر سکے، لہٰذا سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جاتا ہے۔