قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں سیلابی صورتحال کے دوران اب تک 28 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ’ قصور کو بچانے کے لیے موجود بند میں سوراخ کرنا پڑ رہا ہے، اردگرد کے تمام علاقوں میں رہائشیوں کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے۔‘
- پی ڈی ایم اے نے پنجاب میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے دوران 28 اموات کی تصدیق کی ہے
- صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ دریائے راوی سے ملحقہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ صوبائی دارالحکومت کے بعض علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں
- حکام نے دریائے چناب اور راوی میں سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کیا ہے جبکہ جمعے سے پنجاب سمیت ملک کے کئی حصوں میں مون سون بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے
- حکومت پنجاب کے مطابق دریاؤں کے بہاؤ میں تیزی کئی شہروں جیسے لاہور، قصور اور ساہیوال، چینوٹ اور جھنگ کو متاثر کر سکتی ہے
- سیلاب اور بارشوں کے باعث متاثرہ علاقوں میں سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند ہیں
پنجاب میں غیر معمولی سیلاب کے سبب 28 اموات، قصور کو بچانے کے لیے بند میں سوراخ کرنا پڑ رہا ہے: پی ڈی ایم اے