لاہور کی رہائشی سوسائٹی جہاں سیلاب لوگوں کی جمع پونجی بہا لے گیا: ’سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ گھر چھوڑنا ہے یا رُکنا ہے؟‘

لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب واقع نجی ہاؤسنگ سوسائٹی پارک ویو میں دریائے راوی کی سیلابی ریلا جب داخل ہوا تو وہاں رہنے والے بہت سے لوگوں کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ باقاعدہ پلاننگ سے بنائی گئی اس سوسائٹی میں پانی کا ریلا یوں آنا فانا سب کچھ برباد کر دے گا اور انھیں اپنی جانیں بچانے کے لالے پڑ جائیں گے۔
لاہور میں سیلاب
BBC

’ایک طرف سوسائٹی کی انتظامیہ کہہ رہی تھی کہ ہم پانی روکنے کے لیے بند باندھ رہے ہیں کچھ نہیں ہو گا، تمام لوگ بے فکر رہیں تو دوسری جانب پولیس گھر چھوڑ کر نکلنے کے اعلانات کر رہی تھی۔ تو ہمیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ گھر چھوڑنا ہے یا رکنا ہے؟ اس کشمکش میں بہت سے لوگ نہیں نکل سکے اور یوں بہت مسئلہ ہوا۔‘

لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب واقع نجی ہاؤسنگ سوسائٹی پارک ویو سٹی میں جمعرات کی شب دریائے راوی کا سیلابی پانی جب داخل ہوا تو وہاں رہنے والے بہت سے لوگوں کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے بنائی گئی اس سوسائٹی میں آناً فاناً ایسے حالات پیدا ہوں گے کہ انھیں اپنی جانوں کے لالے پڑ جائیں گے۔

یہ کہانی صرف پارک ویو سٹی میں رہنے والے حماد کی نہیں بلکہ ان سینکڑوں لوگوں کی ہے جو لاہور کے ریور بیڈ (دریا کے راستے) پر بنی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں اس وقت پھنس گئے جب جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سیلاب کا پانی وہاں داخل ہوا۔

جمعرات کی شب لاہور میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب دریا کے کنارے واقع آبادیوں کے لیے تباہی کا پیغام لے کر آیا اور اس پانی نے جہاں چوہنگ میں تھیم پارک سوسائٹی جیسے کم آمدن اور غریب آبادی والے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا وہیں ٹھوکر نیاز بیگ سے آگے ملتان روڈ پر راوی کنارے بنائی گئی پارک ویو اور اس جیسی پوش سوسائٹیز بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکیں۔

حکام کے مطابق سیلابی پانی سے پارک ویو سوسائٹی کے چھ بلاکس متاثر ہوئے لیکن کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ بروقت کارروائی کرتے ہوئے رہائشیوں سے علاقہ خالی کروا لیا گیا تھا۔

تاہم بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر جمعے کے روز جب سیلاب سے متاثرہ پارک ویو سٹی پہنچیں تو وہاں امدادی کارکنوں کی جانب سے پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری تھا۔

ابتدا میں تو بی بی سی کی ٹیم کو ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ اور محافظین نے ریکارڈنگ سے روکا تاہم وہاں موجود سرکاری اہلکاروں کی مداخلت پر جب کام کرنے کی اجازت دی گئی تب بھی ان کا اصرار تھا کہ سوسائٹی کا اور اس کے مالک کا نام نہ آئے۔

خیال رہے کہ پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی جس گروپ کی ملکیت ہے اس کے مالک وفاقی وزیر علیم خان ہیں جنھیں راوی میں سیلاب آنے کے اگلے دن سوسائٹی کا دورہ بھی کرتے دیکھا گیا تھا۔

’سوسائٹی میں 13 فٹ پانی موجود‘

لاہور میں سیلاب
BBC

ایدھی فاؤنڈیشن سے منسلک سعد ایدھی بھی پارک ویو سٹی میں ریسکیو کے کاموں میں مصروف دکھائی دیے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ صرف ایدھی نے 800 سے زیادہ لوگ جمعے کی دوپہر تک ریسکیو کیے ہیں جبکہ یہاں دیگر ریسکیو سروسز بھی کام کر رہی ہیں۔

سعد ایدھی کے مطابق ’ایک کشتی میں 10 سے 12 لوگ ہی آ سکتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ سامان بھی ساتھ لانا چا رہے ہیں۔ چیلنج یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ سامان زیادہ ہو تو کشتی میں کم لوگوں کی گنجائش بچتی ہے۔ لوگ ناراض بھی ہوتے ہیں لیکن ہماری پہلی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ریسکیو کیا جائے۔ لوگوں کو بتانا پڑتا ہے کہ جان بچانا پہلے ضروری ہے۔‘

انُ کا کہنا تھا کہ سوسائٹی کے اندر تقریباً 13 فٹ تک پانی کھڑا ہے اور لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ ایسے ہی افراد میں حماد نامی شہری کے رشتہ دار بھی شامل تھے۔

کنفیوژن واٹس ایپس گروپ کی وجہ سے ہو رہی تھی

حماد ایک محفوظ مقام پر کھڑے اپنی بہن اور ان کی فیملی کے منتظر تھے۔ حماد کا اپنا گھر بھی پارک ویو سٹی میں ہی ہے۔ ان کے مطابق ساری زندگی کی جمع پونچی انھوں نے یہاں گھر بنانے میں لگائی اور ان کی محبت میں بہن نے بھی ایسا ہی کیا تاکہ دونوں بہن بھائی قریب قریب رہ سکیں۔

حماد کے مطابق ’ہمارے باقی بھی کچھ رشتہ دار یہاں رہتے ہیں۔ پانی آنے سے پہلے میں خود تو نکلنے میں کامیاب رہا لیکن میری بہن اپنی فیملی اور ملازمین کے ساتھ وہاں پھنسی ہوئی ہیں۔‘

بی بی سی سے بات چیت کے دوران حماد نے بتایا کہ سوسائٹی میں پانی داخل ہونے کا احوال سنایا۔

’پچھلے چار سال سے ہم یہاں رہتے ہیں اور جب سیلاب آنے کا خطرہ سامنے آیا تو انتظامیہ نے بھی بتایا کہ شاید یہاں خطرہ ہے مگر کچھ واضح نہیں ہو پا رہا تھا۔‘

’کل رات 11 بجے سے اعلانات شروع ہوئے اور پھر پولیس آئی اور اس نے لوگوں سے کہا کہ اپنا سامان اٹھا کر فوراً نکلیں۔ کچھ لوگ تو نکل گئے مگر بہت سوں نے کہا کہ یہیں ٹھہرنا محفوظ ہے۔‘

حماد کے مطابق ’ایک کنفیوژن واٹس ایپس گروپ کی وجہ سے ہو رہی تھی اور انھیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ رکنا ہے یا نکلنا ہے۔ انتظامیہ نے ایک طرف کہا کہ ہم بند باندھ رہے ہیں کچھ نہیں ہو گا بے فکر رہیں، تو دوسری جانب پولیس نکلنے کے اعلانات کر رہی تھی۔ اس کشمکش میں بہت سے لوگ سوسائٹی سے نہیں نکل سکے اور بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے۔‘

حماد نے بتایا کہ ’سامان تو سب ڈوب گیا لیکن بچے وغیرہ اب بھی اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ اب بہت سے لوگ بچوں کے ساتھ اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ کھانے پینے کی بہت پریشانی ہے، پتا نہیں اندر کچھ بچا بھی ہے یا نہیں۔‘

جب ہم نے حماد سے سوال کیا کہ کیا انھیں معلوم تھا کہ سوسائٹی دریا کے راستے میں بنی ہوئی ہے اور کیا انھیں کبھی خیال نہیں آیا کہ اگر یہاں سیلاب آیا تو کیا ہو گا؟

اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں حکومت اور اتھارٹیز کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی کہ یہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھاٹی (روڈا) سے منظور شدہ سوسائٹی ہے اور روڈا حکومت کا پروگرام ہے تو ہمیں لگا کہ یہ محفوظ ہو گا۔‘

ان کے مطابق ’ترجمان پنجاب حکومت عظمیٰ بخاری نے کل بھی شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں دعویٰ کیا کہ یہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے بنا اور وہاں پوری منصوبہ بندی سے گھر بنے ہیں۔‘

’ہم نے ایسے دعوے سن کر یہاں اپنی جمع پونجی لگا دی۔‘

جب بی بی سی نے متعلقہ حکام اور پی ڈی ایم اے والوں سے اس سے متعلق سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’وہاں بند کا لینا دینا نہیں۔ وہ سوسائٹی ریور بیڈ کا حصہ ہے۔ یہاں پانی آنا ہی آنا تھا۔‘

موقع پر موجود خالد نامی ایک شخص نے بتایا کہ انھوں نے اس سوسائٹی میں پانچ مرلے کا گھر بنا لیا تھا جو اب زیر آب ہے۔ ’میں نے 60 لاکھ کا پلاٹ لیا تھا جبکہ گول چکر سے آگے پلاٹ ایک کروڑ تک کا ہے۔ لوگوں کے کروڑوں روپے ڈوبے ہیں۔‘

اچانک سے اعلانات ہوئے اور تھوڑی ہی دیر میں پانی تیزی سے آیا

بی بی سی کی ٹیم نے ریسکیو سرگرمیوں کے دوران دو نوجوانوں کو دیکھا جن کے ساتھ ان کے والد بھی تھے۔ وہ سیلابی پانی سے بھیگے ہوئے تھے اور مسلسل ہانپ رہے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہمیں سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ کیا ہو رہا ہے۔ 24 گھنٹے سے زیادہ ہو گئے ہم نے کچھ نہیں کھایا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں پہلے سے کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔ بس اچانک سے اعلانات ہوئے اور تھوڑی ہی دیر میں اچانک پانی تیزی سے آیا اور ہمیں اتنا موقع ہی نہیں ملا کہ ہم پہلے سے کچھ انتظامات کر سکیں۔‘

ریسکیو ہونے والوں میں ایک شخص ایسے بھی تھے جن کی عمر 60 سال سے زیادہ تھی۔ ان کو کشتی سے اتار کر فوراً ایمبولینس میں شفٹ کیا گیا کیونکہ ان کی حالت بگڑ چکی تھی۔

جہاں لوگ اپنے اہلخانہ یا رشتہ داروں کو ترجیحاً مدد دلوانے کے لیے کوشاں تھے تو وہاں کچھ اپنے پالتو جانوروں اور پرندوں کے پھنسنے کے سبب بھی پریشان تھے۔

تاہم دوسری جانب ریسکیو والے سب کو تسلی دے رہے تھے۔ ریسکیو اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں ان کا نقصان ہوا۔ سیلاب میں پھنسنے والوں کا نقصان ہوتا ہے، انھوں نے کچھ کھایا پیا بھی نہیں ہوتا۔ ایسے میں وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔‘

ریسکیو کے کاموں کے دوران ایک دلچسپ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب انخلا کے اعلانات کے دوران اچانک سات، آٹھ مزدور آئے۔

وہ پانی کی طرف تیزی سے جانے لگے۔ جب تک سکیورٹی والے ان کو روکتے وہ کچھ آگے نکل گئے تھے۔ فوج کے روکنے پر انھوں نے کہا کہ ’ہم مزدوری کرنے آئے ہیں، واپس نہیں آ سکتے۔‘

’ایک صاحب نے ہمیں بلایا ہے کہ گراؤنڈ فلور سے پہلی منزل پر ہمیں سامان پہنچانا ہے اور اس کے بدلے وہ منھ مانگے پیسے دیں گے۔‘

تو یہ مزدور چند ہزار کے بدلے اپنی جان کو داؤ پر لگا رہے تھے جبکہ پولیس اعلان کر رہی تھی کہ ’رک جائیں وہاں 10 سے 12 فٹ پانی کھڑا ہے۔‘

ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ کا موقف

بی بی سی کی ٹیم جب پارک ویو سوسائٹی پہنچی تو وہاں موجود گارڈز کا کہنا تھا کہ سیلابی پانی آنے سے قبل ہی لوگوں کو خبردار کر دیا گیا تھا جبکہ لاہور کی انتظامیہ کا موقف بھی ایسا ہی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو جمعرات کی شب سیلابی پانی کی آمد کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا اور علاقہ چھوڑنے کو کہا گیا تھا۔

رہائشی منصوبے کے زیر آب آنے کے بعد پارک ویو سوسائٹی لاہور کی انتظامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ وہ اس مشکل وقت میں اپنے تمام رہائشیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

’ہم ان کو یقین دلاتے ہیں کہ انتظامیہ ان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔ جس گھر کا بھی اس سیلاب سے نقصان ہوا، ہم ایک ایک گھر کا ازالہ کریں گے۔‘

سوشل میڈیا پر ہی ایک ویڈیو بیان میں پارک ویو سوسائٹی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار شعیب صدیقی نے کہا کہ پارک ویو سٹی کی انتظامیہ اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور تمام متاثرہ افراد کو مدد اور ریلیف فراہم کرنے کے لیے انتھک محنت کر رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’چیئرمین وژن گروپ عبدالعلیم خان کے ویژن اور رہنمائی پر عمل کرتے ہوئے یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ نقصانات کا سامنا کرنے والے تمام رہائشیوں کو مکمل معاوضہ دیا جائے گا۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US