عابد حسین عرف ’ملنگ‘ نے صرف ظہیر احمد اور ان کے بھائی ہی کو مدد فراہم نہیں کی بلکہ انھوں نے عورتوں اور بچوں سمیت کم از کم سو لوگوں کو بچایا۔ اس کا اعتراف خود حافظ آباد کے ریسکیو آفیسر محمد زمان نے کیا ہے۔
خانپور کے ایک گاؤں میں ظہیر احمد اور ان کے بھائی گاؤں سے باہر قائم اپنے ڈیرے سے واپس آ رہے تھے کہ اچانک پانی کا تیز بہاؤ آیا اور دونوں بھائی قریب ہی موجود ایک درخت کے ساتھ لگ گئے۔
یہ واقعہ پنجاب کے ضلع حافظ آباد کی تحصیل خانپور کے ایک گاؤں بالیکی نو کا ہے۔ یہ صبح کا وقت تھا جب دیہات میں عموماً کسان اپنے مال مویشی کی دیکھ بھال شروع کر دیتے ہیں۔
ظہیر احمد اور ان کے بھائی بھی کام سے فارغ ہو کر آئے تھے اور انھیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ اچانک پانی ان کے گاؤں میں داخل ہوجائے گا۔
ظہیر احمد اور ان کے بھائی کو ٹالی کے درخت کے ساتھ چپکے ہوئے تقریبا ایک گھنٹہ ہوا ہوگا کہ انھوں نے اچانک پانی میں ٹیوب کے ساتھ 50 سالہ عابد حسین کو دیکھا جو کہ ضلع گوجرانوالہ کے رہائشی ہیں مگر ان کی شادی اسی گاؤں میں ہوئی ہے۔ اس گاؤں میں روایت کے مطابق سبھی انھیں اپنا داماد سمجھتے ہیں۔
عابد حسین ملنگ اہل تشیع کی مجالس میں مشکیزے سے پانی پلانے کا کام کرتے ہیں اور خود کو ’ملنگ‘ کہلوانا پسند کرتے ہیں۔
عابد حسین کو دیکھ کر ظہیر احمداور ان کے بھائی نے ہاتھ ہلائے۔ تھوڑی دیر بعد ’ملنگ‘ نے ان کو ٹیوب کی مدد سے کنارے تک پہنچا دیا۔
عابد نے صرف ظہیر احمد اور ان کے بھائی ہی کو مدد فراہم نہیں کی بلکہ ریسکیو حکام کے مطابق انھوں نے عورتوں اور بچوں سمیت کم از کم سو لوگوں کو بچایا۔ اس کا اعتراف خود حافظ آباد کے ریسکیو آفیسر محمد زمان نے کیا ہے۔
’اپنی حاملہ بھانجی کو لینے گاؤں گیا تھا‘
ریسکیو افیسر محمد زمان کہتے ہیں کہ ’ہمیں خانپور تحصیل کے اس علاقے میں جب سیلاب کی اطلاع ملی تو ہم نے تیزی سے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔‘
اس موقع پر عابد حسین ’میرے پاس آیا اور مجھے بتایا کہ وہ تیراکی کے علاوہ کشتی چلانا بھی جانتا ہے اور اس سے پہلے بھی سیلاب میں خدمات انجام دے چکا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ملنگ نے مجھے زور دے کر کہا کہ وہ لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہے اور یہی ان کی زندگی کا مشن ہے۔۔۔ انھیں حفاظتی اقدامات کے ساتھ ریسکیو کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔‘
عابد حسین کا کہنا ہے کہ ان کی بھانجی خانپور کے ایک اور علاقے میں رہائش پذیر ہیں اور حاملہ تھیں۔ وہاں سیلاب کی وجہ سے ان کی واپسی کے لیے انتظامات نہیں ہو پا رہے تھے۔
ان کے مطابق یہ گاؤں ’میرا سسرال بھی ہے اور مجھے اپنے بھانجیوں، بیٹیوں سے محبت بھی ہے جس بنا پر میں نے فیصلہ کیا کہ میں خود جاؤں گا اور اس کو نکال کر لاؤں گا۔‘
انھوں نے 28 اگست سے قبل اپنی بھانجی کو اس علاقے سے نکال لایا تھا۔ ’مجھے پتا چلا کہ وہاں پانی آ گیا ہے تو میں فوراً موقع پر پہنچ گیا۔ مجھے لوگوں کی مدد کرنے کا شوق ہے اور امام حسین کی مجالس میں بھی مشکیزے میں پانی اس لیے پلاتا ہوں۔‘
اُن کے بقول وہ 80 کی دہائی میں دریائے راوی میں کشتی چلاتے رہے ہیں جبکہ نوے کی دہائی میں کراچی کے سمندر میں مچھلیاں پکڑنے جاتے تھے۔
وہ یاد کرتے ہیں کہ ’2014 میں جب زلزلہ آیا تو اس وقت پانی میں ریسکیو والوں کی کشتی خراب ہوگئی تھی تو میں نے ٹھیک کر کے دی تھی جس کے بعد انھوں نے مجھے اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔‘
’بچوں کے کندھوں اور سر تک پانی پہنچ چکا تھا‘
نصیر اقبال گاؤں کی شریف کالونی میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’ہمارے تین بچے باہر کھیل رہے تھے کہ اچانک پانی آ گیا اور بچے پانی میں پھنس چکے تھے۔۔۔ گھر کی خواتین چھت پر چڑھ گئی تھیں۔‘
’پانی کا ریلا تیز تھا۔ بچے گلی میں گھر کے باہر سیڑھیوں پر کھڑے تھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ جب پانی آیا تو عابد حسین نے ’ٹیوب کی مدد سے لوگوں کی مدد کرنا شروع کر دی۔ اس نے ہمارے تین بچوں کو اپنی ٹیوب کی مدد سے ریسکیو کیا۔‘
عابد حیسن یاد کرتے ہیں کہ ’گھروں میں موجود خواتین قدرے محفوظ تھیں مگر باہر گلی محلے میں کھیلنے والے بچے خطرے کا شکار تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں بچوں کو تلاش کرتا تھا۔ ایک، ایک چکر میں چھ، چھ بچوں کو کنارے پر پہنچاتا تھا۔ پانی اکثر بچوں کے سروں اور کندھوں تک پہنچ چکا تھا جن کو میں اپنے ساتھ ٹیوب پر لاتا اور پھر واپس جاتا تھا۔‘
وہ شام تک لوگوں کو بچانے میں مصروف رہے اور انھوں نے ’سو سے زیادہ لوگوں کی ریسکیو کیا۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ علاقے میں پانی صبح سے شام تک چھ، سات کلو میٹر تک پھیل چکا تھا۔ ’زیادہ لوگوں کے ساتھ ٹیوب کو پانی کے بہاؤ کے مخالف چلانا بہت مشکل اور محنت طلب ہوتا ہے۔‘
ایک ہزار روپے انعام ’کروڑوں روپے سے بہتر‘
عابد حسین ملنگ کہتے ہیں کہ اب وہ واپس گوجرانوالہ آ چکے ہیں۔ ان کا تعلق وزیر آباد سے ہے مگر وہ اپنی بچیوں کی تعلیم کے لیے شہر میں مقیم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے ساتھ مجالس منعقد کروانے والے اور اس کے شرکا تعاون کرتے ہیں جس سے میری دال روٹی چل رہی ہے۔‘
عابد بتاتے ہیں کہ ’یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ میں نے اس طرح مدد کی ہو۔ 2005 کے زلزلے کے دوران میں بالاکوٹ چلا گیا تھا جہاں پر میں کئی ماہ تک رہا اور لوگوں کے گھروں کی تعمیر اور ہر طرح کا کام کرتا رہا۔‘
’اس دور میں، میں نے ایک ماہ میں پانچ مرتبہ خون دیا۔ 2014 کے سیلاب میں بھی لوگوں کی مدد کی اور شکر ہے کہ مجھے اب بھی موقع ملا کہ میں لوگوں کی مدد کرنے کے قابل ہوا ہوں۔ اس کے لیے مجھے کسی قسم کی کوئی لالچ نہیں ہے۔ یہ کام میں اپنی دلی سکون کے لیے کرتا ہوں۔‘
لوگوں کو ریسکیو کرنے کے بعد جب وہ اپنے سسرالی گھر جا رہے تھے تو ’ایک بڑے صاحب نے مجھے ایک ہزار روپے انعام دیا اور کہا کہ ’ملنگ! کیا بات ہے تم نے جو کیا وہ کوئی اور نہیں کرسکتا۔ اگر تم نہ ہوتے تو پتا نہیں ان بچوں اور عورتوں کا کیا ہوتا‘۔‘
عابد کے لیے ’یہ ایک ہزار روپے بہت قیمتی ہیں۔ میں نے اس کو سنبھال کر رکھ لیا ہے کہ اس کی قیمت میرے لیے کروڑوں روپے سے بہتر ہے۔‘
عابد حسین ملنگ کی بیٹی عروج فاطمہ کہتی ہیں کہ ’ابو نے جو کیا، ہمیں اس پر بالکل حیرت نہیں۔ ہمیں پتا ہے کہ دوسروں کی مدد کر کے ان کو خوشی ہوتی ہے۔‘