ہم روزانہ کھانے پینے کی مختلف چیزوں کے بارے میں طرح طرح کے دعوے دیکھتے، سنتے اور پڑھتے ہیں کہ کون سی چیز ہمارے لیے مفید ہے اور کون سی نقصان دہ۔ مگر درست اور غلط دعوؤں میں فرق کیسے کیا جائے؟
یہ بات ثابت ہے کہ گاجر کھانے سے بینائی بہتر ہوتی ہے لیکن یہ مافوق الفطری طور پر بہتر نہیں ہوتیہم روزانہ کھانے پینے کی مختلف چیزوں کے بارے میں طرح طرح کے دعوے دیکھتے، سنتے اور پڑھتے ہیں کہ کون سی چیز ہمارے لیے مفید ہے اور کون سی نقصان دہ۔
مگر درست اور غلط دعووں میں فرق کیسے کیا جائے؟ یہاں ہم نے تین عام غذاؤں سے متعلق تین دعووں کی جانچ کی ہے۔
کیا گاجر کھانے سے رات میں بہتر دکھائی دیتا ہے؟
یہ بات چاہے افسانہ لگے یا کسی سپر ہیرو کی کہانی مگر گاجر کھانے سے رات میں بینائی بہتر ہوتی ہے، یہ بات دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں ابھری تھی۔
یہ بات اس لیے پھیلائی گئی تاکہ جرمنوں کو پتا نہ چلے کہ برطانیہ رات کے فضائی حملوں میں بمبار جہازوں کو تلاش کرنے کے لیے ریڈار کا استعمال کر رہا ہے۔
اُس وقت رائل ایئر فورس نے اخبارات میں یہ خبر شائع کرائی تھی کہ برطانوی پائلٹ بہت گاجر کھاتے ہیں، اسی لیے اُن کی رات میں دیکھنے کی صلاحیت غیر معمولی ہے۔
اس میں کہا گيا کہ گاجر میں بیٹا کیروٹین نامی مادہ کثرت سے ہوتا ہے۔ جب ہم گاجر کھاتے ہیں تو ہمارا جسم اسے وٹامن اے (ریٹینول) میں بدل دیتا ہے جو آنکھوں کی صحت کے لیے مفید ہے۔ پھر جسم کے دیگر انزائم ریٹینول کو ریٹینال میں تبدیل کرتے ہیں، جس سے روڈوپسِن بنتا ہے جو کہ ایک حیاتیاتی رنگین مادہ ہے جو شبکیہ میں پایا جاتا ہے اور کم روشنی میں دیکھنے میں مدد دیتا ہے۔
گاجر کھانا آنکھوں کے خلیات کو صحت مند رکھتا ہے اور اُن کی کارکردگی بہتر بناتا ہے، لیکن ماہرینِ غذائیت کے نزدیک گاجر آپ کو مافوق البشر قسم کی رات کی بینائی نہیں دے دیتی اور نہ ہی بینائی کو اس کی قدرتی حد سے آگے لے جاتی ہے۔
سیلیری کھانا اپنے آپ میں کسی ورزش سے کم نہیںکیا سیلیری کھانے سے کیلوریاں جلتی ہیں؟
ایک عام دعویٰ یہ ہے کہ سیلیری یا اجمود میں اتنی کم کیلوریاں ہوتی ہیں کہ صرف اسے چبانے میں ہی اس سے زیادہ کیلوری خرچ ہو جاتی ہے۔ گویا یہ 'منفی کیلوری' والی غذا ہے۔ لیکن یونیورسٹی آف الاباما ڈاکٹر ٹِم گاروی کے مطابق ایسی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں۔
یہ کرکرے ذائقے والی سبزی لگ بھگ 95 فیصد پانی پر مشتمل ہے اور اوسطاً سیلیری کی ہر ایک ڈنڈی میں 6 سے 10 کیلوریاں ہوتی ہیں۔ اور ڈاکٹر گاروی کے مطابق سیلیری کو چبانے اور ہضم کرنے میں ان کیلوریوں کا کچھ حصہ یا تقریباً پانچواں حصہ خرچ ہو جاتا ہے۔
یعنی اگرچہ سیلیری کم کیلوری والی ہے اور اس کی ہضم میں توانائی لگتی ہے، پھر بھی آپ اتنی کیلوریاں نہیں جلاتے جتنی آپ اسے کھا کر حاصل کرتے ہیں۔
شکر قندی وزن میں کمی اور ذیابیطس کے لیے باقاعدہ آلو کے مقابلے میں صحت مند انتخاب ہیںکیا شکر قندی آلو سے ’بہتر‘ ہے؟
شکر قندی (میٹھا آلو) کو دنیا بھر میں صحت مند غذا میں ایک 'ہیرو' کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں متعدد غذائی اجزا ہوتے ہیں، جن میں بیٹا کیروٹین بھی شامل ہے جو گاجر میں بھی پایا جاتا ہے۔ تو ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صحت مند کھانے کے انتخاب کے معاملے میں شکر قندی عام آلو سے 'بہتر' ہے؟
دکان سے ملنے والا عام آلو بھی وٹامن سے خالی نہیں ہوتا۔ اس کا چھلکا ریشے (فائبر) سے بھرپور ہوتا ہے اور اس میں پوٹاشیم، آئرن، وٹامن سی اور وٹامن بی6 جیسے غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔
سنہ 2024 کی ایک تحقیق میں کچی شکر قندی کا تقابل چھلے ہوئے اور پکے یا تلے ہوئے عام آلو سے کیا گیا۔ جب یہ طے کرنے کی بات آئی کہ کون سا 'زیادہ صحت مند' ہے تو تحقیق کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچی۔
شکر قندی مائکرونیوٹریئنٹس (یعنی ایس غذائیت جس کی قلیل مقدار بھی صحت کے لیے کافی ہو) سے بھرپور ہے، جب کہ عام آلو میں چکنائی اور شکر کم ہوتی ہے۔ اس لیے یہ پوچھنے کے بجائے کہ کون سا آلو بہتر ہے، ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ آپ کی مخصوص غذائی ضروریات کے مطابق کون سا آلو موزوں ہے۔
ان تینوں چیزوں کی جانچ سے پتا چلا کہ حقائق کی پڑتال ہمیں ہر موضوع کو گہرائی سے سمجھنے، رائج باتوں کو بغیر سوچے ماننے سے بچنے اور محض ظاہری تاثر پر فیصلہ نہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔