جہیز میں ملے 31 لاکھ ٹھکرانے والا شوہر کا سلوک کیسا ہے؟ دلہن نے اصلیت بتا دی ، ویڈیو

image

"میرے والد بہت پہلے دنیا سے چلے گئے تھے، اس کے بعد میری پرورش نانا نے کی۔ جب بات پکی ہوئی تو لڑکے والوں نے واضح کہہ دیا کہ ہم جہیز نہیں لیں گے، صرف روایتی طور پر ایک روپیہ چاہتے ہیں، اور شادی والے دن انہوں نے بالکل ایسا ہی کیا۔ یہ بات مجھے گھر والوں نے بتائی، سن کر دل خوشی سے بھر گیا کیونکہ آج کل تو لوگ خود جہیز طلب کرتے ہیں۔ میں اپنی نئی زندگی میں بہت مطمئن ہوں، میرے شوہر اور سسرال والے میرا بے حد خیال رکھ رہے ہیں۔"

بھارت کے ضلع مظفر نگر میں ہونے والی ایک شادی اس وقت سرخیوں میں آ گئی جب دلہن کے خاندان کی جانب سے پیش کیے گئے 31 لاکھ روپے دولہا نے نہ صرف لینے سے انکار کر دیا بلکہ سب کے سامنے وہ رقم واپس بھی کر دی۔ یہ واقعہ ایسے معاشرے میں پیش آیا ہے جہاں اکثر گھرانے بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے سے پہلے قرض اور مالی دباؤ کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔

اودھیش رانا نامی دولہا جب شادی کی تقریب میں پہنچا تو روایت کے مطابق دلہن والے بڑی رقم ان کے ہاتھ میں تھمانا چاہتے تھے، مگر وہ ایک لمحے کو بھی نہ رکا۔ اس نے سب کے سامنے صاف کہہ دیا کہ اس کا گھرانہ جہیز لینے کے نظریے کو گناہ سمجھتا ہے، اس لیے انہیں اس رقم کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس نے مزید کہا کہ کسی والد کو صرف اس لیے قرض میں نہیں ڈूबنا چاہیے کہ اس نے بیٹی کو رخصت کرنا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ رشتہ ایک روپے پر طے ہوا تھا اور وہیں ختم ہوتا ہے۔

ادھر دلہن ادیتی سنگھ، جو اپنے والد کے انتقال کے بعد نانا کی سرپرستی میں پلی بڑھیں، جب انہیں پتا چلا کہ لڑکے والوں نے واقعی ایک روپیہ کے سوا کچھ بھی قبول نہیں کیا، تو وہ جذبات سے بھر گئیں۔ ان کے مطابق ایسی مثالیں بہت کم سامنے آتی ہیں، ورنہ عام طور پر لوگ کھلے عام مطالبات رکھتے ہیں۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ شادی کے بعد وہ اپنی نئی زندگی میں بے حد آسودہ ہیں اور شوہر سمیت پورا سسرال انہیں اپنی بیٹی کی طرح رکھ رہا ہے۔

یہ سارا منظر 22 نومبر کو شہر کے ایک بینکوئٹ ہال میں اس وقت سامنے آیا جب شادی کی رسم کے دوران دلہن کے گھر والے لاکھوں روپے پیش کرنا چاہتے تھے، لیکن اودھیش نے سختی سے انکار کرتے ہوئے پورا ماحول بدل دیا۔ اس کا مؤقف تھا کہ معاشروں میں بہتری تب آئے گی جب لوگ اپنی لالچ کے بجائے انسانیت کو ترجیح دیں گے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US