یہ عالمی سطح پر ایک جانا پہچانا نظریہ ہے جو کہتا ہے کہ آپ ہر ماہ اپنی تنخواہ سے زیادہ سے زیادہ پیسے بچائیں، اس سے سرمایہ کاری کریں اور 15، 20 سال میں مالیاتی آزادی حاصل کر کے ریٹائر ہو جائیں۔ لیکن کیا پاکستان جیسے ملک میں ایسا کرنا ممکن بھی ہے؟
عارف حبیب حال ہی میں اپنے کنسورشیئم کی طرف سے پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے خریدنے کے بعد شہ سرخیوں میں آئے ہیں مگر ان کے بقول ان کے کیریئر کی ابتدا سکول میں میٹرک کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران 17 سال کی عمر میں ایک بروکر کے طور پر ہوئی تھی جب ان کی تنخواہ صرف 60 روپے تھی۔
وہ مختلف انٹرویوز میں 1971 کے اس زمانے کو یاد کرتے ہوئے اپنے بڑے بھائی کی ایک بات دہراتے ہیں کہ ’سٹاک مارکیٹ کبھی اوپر جاتی ہے اور کبھی نیچے۔ سب سے بڑا فائدہ تو بروکر کو ہوتا ہے۔‘
ان کی کمپنی عارف حبیب لمیٹڈ پاکستان کے بڑے بروکریج ہاؤسز میں سے ایک ہے مگر اس گروپ کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری کئی شعبوں میں پھیلی ہوئی ہے، جیسے سیمنٹ، فرٹیلائزر، سٹیل، ریئل اسٹیٹ وغیرہ۔
اب جب کہ دسمبر 2025 میں 135 ارب ڈالر کی کامیاب بولی لگا کر عارف حبیب کنسورشیئم نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص خرید لیے ہیں تو یہ سوال بارہا پوچھا جا رہا ہے کہ آیا یہ سرمایہ کاروں اور حکومت پاکستان دونوں کے لیے ایک اچھی ڈیل ہے۔
خود عارف حبیب اکثر سرمایہ کاری سے متعلق اپنے فلسفے کو کرکٹ کی مثالوں سے سمجھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جو بال سمجھ نہ آئے تو لیو اِٹ۔ اگر سمجھ آئے تو ہِٹ اِٹ۔‘
2025 میں پاکستانی سوشل میڈیا پر سرمایہ کاری سے متعلق ویڈیوز کی بھرمار ہے اور اسی دوران ایکس اور ریڈاِٹ پر ایسی کمیونٹیز مقبول ہونے لگی ہیں جو معاشی آزادی اور قبل آز وقت ریٹائرمنٹ سے متعلق معلومات شیئر کرتی ہیں۔
یہ عالمی سطح پر ایک جانا پہچانا نظریہ ہے جو کہتا ہے کہ آپ ہر ماہ اپنی تنخواہ سے زیادہ سے زیادہ پیسے بچائیں، اس سے سرمایہ کاری کریں اور 15، 20 سال میں مالیاتی آزادی حاصل کر کے ریٹائر ہو جائیں۔
یہ وہ خواب ہے جو شاید پاکستان میں بسنے والی کئی نسلوں نے کبھی دیکھا بھی نہیں ہوگا۔
اور اس بارے میں پاکستان میں ایسے وقت پر بات ہو رہی کہ جب معاشی پیداوار سست روی کا شکار ہے، مقامی کرنسی تاریخی طور پر گراوٹ کا شکار رہی ہے، برآمدات میں کوئی بڑا اضافہ نہیں ہو رہا اور مہنگائی اپنی رفتار برقرار رکھے ہوئے ہے۔
تو کیا ایک عام پاکستانی نوجوان اِن سب مشکلات کے باوجود مالیاتی آزادی اور جلدی ریٹائرمنٹ کا خواب دیکھ سکتا ہے؟

آپ کی بچت چٹ کر جانے والا دیمک
آگے بڑھنے سے پہلے اس سوال کا جواب دیں: 2005 میں 100 روپے کی قدر آج کے اعتبار سے کتنی بنتی ہے؟
اگرچہ 100 روپے کا نوٹ آج بھی 100 روپے کا ہی ہے لیکن اگر آپ کسی چیٹ بوٹ سے پوچھیں گے تو وہ آپ کو بتائے گا کہ چونکہ 20 برسوں کے دوران پاکستان میں سالانہ افراط زر قریب 10 فیصد رہی ہے تو فیوچر ویلیو فارمولا کے مطابق 2005 میں 100 روپے کا نوٹ دراصل آج 2025 میں 675 روپے کے برابر ہے۔
کرنسی کی قدر میں مسلسل ہونے والی اسی کمی کے بارے میں عموماً ماہرین خبردار کرتے رہتے ہیں کیونکہ یہ آپ کی بچت کو کسی دیمک کی طرح چٹ کر جاتی ہے۔
معاشی امور کے ماہر جنید اقبال کو حال ہی میں آپ نے ’شارک ٹینک پاکستان‘ نامی شو میں دیکھا ہوگا۔ ان کے بقول اپنا بچا کچا پیسہ بینک میں رکھنا ’یقینی طور پر نقصان دہ ہے کیونکہ افراطِ زر آپ کی بچت کی قوتِ خرید کو کم کر دیتی ہے۔‘
’اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی ماہانہ بچت کی اصل قدر برقرار رہے تو کم از کم افراطِ زر سے بچنا ضروری ہے۔‘
تو لوگ اس بڑھتی مہنگائی، اخراجات اور ٹیکسز کے بوجھ تلے پاکستان میں جلد ریٹائرمنٹ اور مالیاتی آزادی (فائر) کے بارے میں سوچ بھی کیسے سکتا ہے؟
فرقان پونجانی ’انویسٹ کار‘ نامی یوٹیوب چینل چلاتے ہیں جہاں وہ پاکستانی نوجوانوں کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’بدقسمتی سے ہماری سوچ بن گئی ہے کہ ہمیں کل ہی امیر ہونا ہے۔ ہم سالوں میں نہیں بلکہ دنوں میں سوچتے ہیں۔ لیکن سرمایہ کاری طویل مدتی عمل ہے۔‘
مہنگائی سے بچنا بھی ہے اور دولت میں اضافہ بھی چاہیے، مگر کیسے؟
فرقان بتاتے ہیں کہ فنانشل فریڈم کا تعلق اِن دو سوالوں سے ہے کہ افراط زر سے بچنے کے لیے آپ ہر ماہ کتنے پیسے بچا سکتے ہیں اور اور اس پر کتنے قسم کا ریٹرن یعنی منافع کما سکتے ہیں۔
یعنی آپ کو اس ایسٹ کلاس (اثاثے) کا انتخاب کرنا ہے جو آپ کو افراطِ زر سے بہتر ریٹرن دے۔ ورنہ آپ کی نقد یا بینک میں موجود رقم ہر سال اپنی قدر کھو رہی ہے۔
سرمایہ کاری: کہاں اور کیسے؟
پاپولیشن سروے کے مطابق پاکستان کی 24 کروڑ کی آبادی میں سے 26 فیصد لوگوں کی عمریں 15 سے 29 سال ہیں جبکہ نصف سے بھی زیادہ آبادی ورکنگ ایج گروپ کی ہے۔
تو ایسے میں نوجوان سرمایہ کاری کریں بھی تو کہاں کریں؟
جنید اقبال کہتے ہیں کہ دیرپا سرمایہ کاری اور کمپاؤنڈنگ ’دنیا کا آٹھواں عجوبہ‘ ہے۔
ان کی رائے میں اگر پاکستان میں آپ درمیانے یا کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں تو اپنی دولت بڑھانے کا ’واحد آزمودہ طریقہ‘ ایکویٹیز یعنی سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری ہے۔ ’زیادہ اہم بات یہ نہیں کہ آپ کس کمپنی کا سٹاک خریدتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ اپنی بچت کا کتنا حصہ کتنی باقاعدگی سے سٹاک مارکیٹ میں لگاتے ہیں۔‘
عالمی سطح پر سرمایہ کاری کو اس اعتبار سے دیکھا جاتا ہے کہ آپ کی عمر کتنی ہے اور آپ کتنا رِسک لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
فرقان پونجانی بتاتے ہیں کہ ’اگر آپ نوجوان ہیں، آپ پر ذمہ داریاں کم ہیں تو یہی وقت ہے زیادہ سے زیادہ پیسے بچانے کا اور زیادہ رِسک لینے کا۔ آپ ابھی دولت جمع کرنے کے مرحلے میں ہیں اور آپ زیادہ رِسک لے سکتے ہیں۔ جب آپ کے اخراجات اور ذمہ داریاں بڑھ جائیں تو آپ کم رِسک لیتے ہیں۔‘
ادھر جنید اقبال نے سرمایہ کاری کرنے کا ایک سادہ سا فارمولا اپنانے کی تجویز دی ہے، یعنی 100 کو اپنی عمر سے مائنس کرنا۔
’اگر آپ کی عمر 20 سال ہے تو 80 فیصد سرمایہ ایکویٹیز میں ہونا چاہیے اور 20 فیصد فکسڈ انکم میں۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، یہ تناسب ایڈجسٹ کریں۔‘
فکسڈ انکم سے مراد کِم رِسک والے سیوینگ اکاؤنٹ یا میوچوئل فنڈز ہیں جہاں ملک کے موجودہ شرح سود کے مطابق ریٹرن ملتا ہے۔
جہاں تک بات سٹاکس کی ہے تو اگر آپ ہر مہینے یہ سوچنا نہیں چاہتے کہ آپ کو کس کمپنی میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے تو جنید اقبال کا مشورہ ہے کہ آپ کسی میوچوئل فنڈ یا ای ٹی ایف کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ ’اگر کوئی مجھ سے مشورہ مانگے تو میں کہوں گا کہ پانچ بہترین فنڈز میں سرمایہ کاری کریں۔ لمبے عرصے میں یہ فرق نہیں پڑے گا کہ کون سا فنڈ بہتر رہا، اصل بات یہ ہے کہ آپ ابھی اس بس پر سوار ہو جائیں۔‘
’اگر آپ ہر ماہ جتنا بھی پیسہ بچا سکتے ہیں، چاہے 5 ہزار، 20 ہزار یا ایک لاکھ، اسے ایکویٹیز میں لگائیں۔ وقت کے ساتھ یہ رقم کمپاؤنڈ ہوتی رہے گی۔‘
وہ اس کی مثال کچھ اس طرح دیتے ہیں کہ اگر سٹاک مارکیٹ میں کوئی اچھی کمپنی ہر سال صرف پانچ فیصد گروتھ کرے اور یہ عمل جاری رہے تو چند برسوں میں اس کی مالیت ’دوگنی ہو جاتی ہے‘ اور یوں سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے لوگوں کو بھی اس کا فائدہ ہوتا ہے۔
تمام ایسٹ مینیجمنٹ کمپنیوں کے سٹاک ایکسچینج، منی مارکیٹ یا پنشن فنڈز کی اقسام کے میوچوئل فنڈز ہوتے ہیں جن میں یہ کمپنیاں لوگوں کے دیے گئے پیسوں سے سرمایہ کاری کرتی ہیں اور اپنی فیس/کمیشن وصول کرتی ہیں۔ دوسری طرف ای ٹی ایف سٹاک ایکسچینج پر کسی عام شیئر کی طرح خریدے و بیچے جاتے ہیں۔ ای ٹی ایف میں کوئی ایک کمپنی نہیں بلکہ مختلف کمپنیوں کے شیئرز ہوتے ہیں تاکہ سرمایہ کار کوئی ایک ای ٹی ایف خرید کر ہی مختلف کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر سکے۔
دولت میں اضافہ کیسے ہوگا؟
جنید اقبال نے ہمارے ساتھ ایک چارٹ شیئر کیا جس کے مطابق گذشتہ 20 برسوں کے دوران ہر سال پاکستانی کرنسی نے اپنی قدر آٹھ فیصد کھو دی۔ جبکہ 20 برسوں کے دوران کے ایس سی 100 اینڈیکس (یعنی سٹاک ایکسچینج پر پاکستان کی 100 بہترین کمپنیوں کی فہرست) کی قدر میں سالانہ اوسطاً 16 فیصد بہتری آئی۔
انھوں نے سٹاک ایکسچینج پر موجود بعض پاکستانی کمپنیوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 15، 20 برسوں کے دوران ان کی مالیت کئی گنا بڑھی اور اس کے ساتھ ان میں پیسہ لگانے والے شیئر ہولڈرز کو بھی فائدہ ہوا ہے۔
فرقان پونجانی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پچھلے 20 برسوں کے دوران سٹاک مارکیٹ نے افراط زر کے مقابلے سات سے آٹھ فیصد زیادہ ریٹرن دیا ہے اور گولڈ نے آٹھ سے نو فیصد تک۔
ان کا ماننا ہے کہ پاکستان میں رہتے ہوئے اوسط ریٹرنز کے ذریعے بھی مالیاتی آزادی ممکن ہے اگر آپ باقاعدگی سے پیسے بچا کر سرمایہ کاری کرتے رہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں کئی لوگ سٹاک مارکیٹ کو اس لیے ترجیح دیتے ہیں کیونکہ جن ملکوں میں افراط زر یعنی مہنگائی تیزی سے بڑھتی ہے وہاں کی کمپنیاں خود کو مہنگائی سے بچا لیتی ہیں۔ وہ اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ مہنگائی کے باوجود کمپنیوں کا منافع بڑھتا ہے۔ ’اسی طرح پاکستان میں گولڈ کا ریٹرن بھی بہتر ہے۔‘
مگر کیا آپ کو ڈیجیٹل گولڈ خریدنا چاہیے، سٹاک پِکنگ کرنی چاہیے یا میوچل فنڈز اور ای ٹی ایف آزمانے چاہییں، فرقان کے مطابق یہ ہر شخص کی اپنی مرضی ہو سکتی ہے۔
فرقان اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ کوئی عام شخص سٹاک پِکنگ نہیں کر سکتا، یعنی کس کمپنی کے شیئر خریدنے چاہییں، اس کا فیصلہ اپنے طور پر نہیں کیا جا سکتا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’سٹاک پِکنگ پہاڑ کی چوٹی ہے۔ اس سے بہتر پیسیو یا غیر فعال سرمایہ کاری ہے جس میں آپ کو صرف کسی میوچوئل فنڈ کو پیسے دینے ہیں یا ای ٹی ایف خریدنے ہیں۔‘
دونوں صورتوں میں فرقان کے بقول اپنے شعبے کے ماہر لوگ ہی فیصلہ کریں گے کون سا سٹاک خریدنا ہے، کب بیچنا ہے اور کب لینا ہے۔ وہ اس کی تین، چار فیصد کی فیس لیتے ہیں۔

پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں رکاوٹیں کیوں؟
اگر یہ سب اتنا ہی آسان ہوتا تو شاید ہمارے اردگرد سبھی اب تک امیر ہو چکے ہوتے اور نوکری سے استعفی دے کر گھر بیٹھے ہوتے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔
اب بھی سٹاک ایکسچینج یا دیگر جگہوں پر سرمایہ کاری کرنے میں بہت سے پاکستانیوں کے لیے رکاوٹیں ہیں۔
جنید اقبال کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے صاف اور سفید پیسہ چاہیے۔ لیکن بہت سے لوگ ٹیکس فائلر نہیں ہیں یا نقد کاروبار کرتے ہیں۔ اسی لیے مارکیٹ میں حصہ لینے والوں کی تعداد کم ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’لوگ اکثر غلط وقت پر مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں، یعنی جب مارکیٹ عروج پر ہوتی ہے۔ پھر جب مارکیٹ میں معمولی کمی آتی ہے تو وہ گھبرا کر غلط وقت پر نکل جاتے ہیں۔ اصل حکمتِ عملی یہ ہے کہ اچھی کمپنیوں کے مالک بنیں اور لمبے عرصے تک مالک رہیں۔‘
جنید اقبال کہتے ہیں کہ ایک ملک کی سٹاک مارکیٹ اپنے شہریوں کے لیے کوئی اجنبی چیز نہیں ہوتی۔ ’یہ وہی کمپنیاں ہیں جو ہمیں روزمرہ کی اشیا اور سروسز فراہم کرتی ہیں۔ آپ بینک میں پیسہ رکھ کر افراطِ زر کے ہاتھوں نقصان اٹھا سکتے ہیں یا اپنی معیشت کے مالک بن سکتے ہیں، فیصلہ آپ کا ہے۔‘
لیکن وہ کہتے ہیں کہ سرمایہ کاری کی تمام آپشنز پر حکومتی پالیسیاں بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ ’اگر حکومت توانائی، ٹیکس اور تعلیم میں اصلاحات کرے گی تو مارکیٹ بہتر ہوگی۔‘
فرقان کا کہنا ہے کہ ’ہم نوکری پیشہ مزدور لوگوں کے لیے مالیاتی آزادی کا یہی راستہ ہے کہ تنخواہ سے تھوڑا تھوڑا بچائیں اور باقاعدہ سے سرمایہ کاری کریں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں جہاں نوکری پیشہ افراد کو ایک طرف زیادہ ٹیکس دینا پڑتا ہے وہیں انھیں اپنی ریٹائرمنٹ کے بارے میں بھی خود ہی پلان کرنا ہوتا ہے۔
کسی بھی سرمایہ کاری کے لیے سٹاک ایکسچینج یا دیگر آپشنز میں جانے سے پہلے تحقیق کرنا ضروری ہے اور کچھ مواد تو ویسے بھی عوامی سطح پر موجود ہوتا ہے۔
جیسے کسی کمپنی کا شیئر خریدنے سے پہلے لوگ اس کی سہہ ماہی اور سالانہ کارکردگی کی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں، اس کی آمدن کا جائزہ لے سکتا ہے اور مستقبل میں پیداوار کے امکانات جان سکتے ہیں۔ وہیں کسی بھی میوچوئل فنڈ کی خریداری سے پہلے اس کی ماہانہ فنڈ مینیجر رپورٹ کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سونے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا تاریخی ریکارڈ بھی باآسانی انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔
فرقان کہتے ہیں کہ اگر کہیں مارکیٹ کے لگ بھگ ریٹرن مل رہا ہو تو یہ محفوظ سرمایہ کاری ہے۔ جبکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ایکسپینس ریشو (اخراجاتی تناسب) کتنا ہے، یعنی کوئی ایسٹ مینجمنٹ کمپنی کمیشن، فیس یا اخراجات کی مد میں لوگوں سے کتنے وصول کرتی ہے۔ ’آپ کی جتنی جمع پونجی ہوگی، اتنا ہی زیادہ ایکسپینس ریشو وصول کی جائے گی۔‘
اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کسی فنڈ میں مزید اپنی سرمایہ کاری رکھنا نہیں چاہتے تو آپ اسے دوسرے فنڈ میں منتقل کر سکتے ہیں۔ وہ ریٹائرمنٹ فنڈ کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ 20 سال تک آپ کا سرمایہ ’لاک‘ نہیں ہوتا، آپ جب چاہے کم فیس لینے والی کمپنی کے پاس اسے منتقل کر سکتے ہیں۔
فرقان اس جانب بھی اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں ریٹائرمنٹ فنڈ کی صورت میں آپ کو کچھ مراعات ملتی ہیں، جیسے سالانہ انکم ٹیکس اور کیپیٹل گینز ٹیکس پر چھوٹ۔
تاہم فرقان کہتے ہیں کہ پاکستانی سٹاکس میں اب بھی بہت زیادہ اتار چڑھاؤ ہوتا ہے۔ ’اگر دو سال، دو دو سو فیصد ریٹرن بنیں مگر پھر 40-40 فیصد کی گراوٹ آئے تو مجھے نہیں لگتا بہت زیادہ سرمایہ کار اس میں دلچسپی لیں گے۔ اس کا تعلق معیشت سے ہے۔ اگر معیشت پانچ، سات سال تک ٹھیک ہے تو بہت سے لوگ اس میں آ سکتے ہیں۔‘
کیا پاکستان میں بھی معاشی آزادی ممکن ہے؟
میرے اس سوال پر فرقان پونجانی کا جواب تھا کہ دنیا بھر میں بہت کم لوگ یہ حاصل کر پاتے ہیں اور پاکستان میں بھی کم لوگ یہ حاصل کر پائیں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس کے لیے دو چیزیں اہم ہیں: کیریئر کی ابتدا میں آپ کی آمدن زیادہ ہونی چاہیے اور دوسرا یہ کہ آپ زیادہ آمدن میں سے بھی زیادہ بچت کر سکیں۔‘
’اپنی تنخواہ کا 50، 60 فیصد بچا پانا مشکل تو لگتا ہے لیکن یہ ناممکن نہیں ہے۔ پاکستان میں یہ اسی صورت ممکن ہے اگر آپ کے پاس سرمایہ کاری کا صحیح پلان اور ڈسپلن ہو۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں کسی عام پاکستانی کو 15، 20 سال لگیں مگر یہ بالکل ممکن ہے۔‘