اسد الدین اویسی نے کہا کہ ’نریندر مووی جی، امیت شاہ، جب ٹرمپ اپنی فوج کو وینیزویلا بھیج کر وہاں کے صدر کو اٹھا سکتا ہے، جب سعودی عرب یمن میں پورٹ پر بمباری کر سکتا ہے تو آپ کیا کم ہیں؟‘ ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر ملا جلا رد عمل پایا جا رہا ہے جبکہ پاکستان کے جرنلسٹ اور تجزیہ کار اس بیان کو ’مودی کی اپنی خواہش‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔
’مودی جی ہم آپ کو کہہ رہے ہیں کہ آپ پاکستان میں بھیج کرممبئی کی سڑکوں پر سازش کرنے والے نائن الیون کے ظالم لوگ، چاہے وہ مسعود اظہر ہو یا لشکر طیبہ کا وہ ظالم شیطان ہو، مودی جی 56 انچ کا سینہ ہے تو بھیج کر ان کو اٹھوا کر لاؤ۔‘
’اگر ٹرمپ کر سکتے ہیں تو کیا آپ کم ہیں؟ اگر ٹرمپ کر سکتا ہے تو آپ بھی کر سکتے ہیں کیونکہ مودی جی نے کہا تھا اب کی بار ٹرمپ سرکار۔‘
سوشل میڈیا پر موجود آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی کا یہ وہ بیان ہے جو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ایک تقریب سے خطاب میں انھوں نے کہا۔
اس کلپ میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج ہم نے دیکھا کہ ٹرمپ نے اپنی فوج کو وینیزویلا میں بھیج کر وہاں کے جمہوری طور پر منتخب شدہ صدر کو اسی کے ملک سے اٹھا کر امریکہ لے کر چلے گئے۔‘
’نریندر مووی جی، امیت شاہ، جب ٹرمپ اپنی فوج کو وینیزویلا بھیج کر وہاں کے صدر کو اٹھا سکتا ہے، جب سعودی عرب یمن میں پورٹ پر بمباری کر سکتا ہے تو آپ کیا کم ہیں؟‘
یاد رہے کہ وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں سنیچر کی صبح ہونے والے دھماکوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ کہ امریکہ نے وینزویلا پر حملہ کر کے صدر نکولس مادورو کواٹھا لیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر مادورو کو اس وقت نیویارک منتقل کیا جا چکا ہے۔
اسد الدین اویسی کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر ملا جلا رد عمل پایا جا رہا ہے جبکہ پاکستان کے جرنلسٹ اور تجزیہ کار اس بیان کو ’مودی کی اپنی خواہش‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان میں شدت پسندی کے امور پر تحقیق کرنے والے صحافی ماجد نظامی کے مطابق مسعود اظہر انڈیا کی جانب سے سب سے زیادہ مطلوب شخصیات کی فہرست میں شامل ہیں۔
’یہ صرف حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہے‘
انڈیا اور پاکستان کو حالیہ عرصے میں شدید لڑائی اور تناؤ کی صورتحال کا سامنا رہا اویسی کی جانب سے اس بیان پر ردِل عمل دینے والے بیشتر انڈینز نے اسے سیاسی بیان قرار دیا۔
کچھ کا خیال ہے کہ یہ مودی کو اکسانے کے لیے تھا اور کچھ کے خیال میں کم از کم اویسی نام نہاد محب وطن انڈین سیاستدانوں سے بہتر بات کر رہے ہیں۔
ایک صارف ابھیمنیو نے ایکس پر کہا کہ ’انڈیا انصاف قانون اور عالمی دباؤ کے ذریعے چاہتا ہے، طاقت کے بدترین استعمال کی مثالیں نقل کر کے نہیں۔‘
کرشنا نامی صارف نے لکھا کہ ’درست نکتہ ہے۔ تاہم، پاکستان ایک جوہری ریاست ہے جس کی قیادت غیر مستحکم ہے، اس کا تصور بھی ناممکن ہے۔ کوئی بھی ملک حتیٰ کہ امریکہ بھی، اس اقدام پر سنجیدگی سے غور نہیں کرے گا، خاص طور پر جنگ میں منصفانہ رویے کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے۔‘
وقاص نامی صارف نہ لکھا ’اویسی جانتے ہیں کہ مودی اور ان کے ساتھی ایسا نہیں کریں گے۔ کیونکہ امریکہ اور چین پاکستان کی حمایت کر رہے ہیں اور ان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ یہ صرف حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہے کہ وہ ردعمل دے۔‘
کچھ صارفین کے خیال میں ایسے کسی بڑے اقدام کے لیے قومی یکجہتی معنی رکھتی ہیں جو شاید انڈیا میں نہیں۔
ایسے ہی ایک انڈین تشار نامی صارف نے ساجی رابطی کی سائٹ ایکس پر ردِ عمل میں کہا ’کیونکہ انڈیا میں اویسی اور راہول گاندھی جیسے رہنما ہیں جو اپنے ہی ملک کے اقدامات پر سوال اٹھاتے ہیں۔ تاہم امریکی صدر کچھ بھی کر سکتے ہیں اور امریکی میڈیا اور امریکی ہر حال میں ان کی حمایت کریں گے۔
’بلی خود بھی نہیں بول رہی بلکہ اووروں سے بلوا رہی ہے‘
حالیہ عرصے میں شدید لڑائی اور تناؤ کی صورتحال کا سامنا کرنے والے ایٹمی قوت کے حامل دو ہمسائیہ ممالک کے اہم سیاسی عہدوں پر براجمان افراد کی جانب سے بیانات میں کس قدر سنجیدگی کی ضرورت ہے اور اسد الدین اویسی کا بیان کیا جنگ پر اکسانے کی ایک ’کوشش ہے‘؟
بی بی سی کے اس سوال کے جواب میں تجزیہ کار اور جرنسلٹ نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ ’ٹرمپ نے جو کیا وہ تو قانون کو توڑا لیکن اس بیان کو ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ بلی کو چھیچھڑوں کے خواب آ رہے ہیں اور بلی خود بھی نہیں بول رہی بلکہ اووروں سے بلوا رہی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اسد الدین اویسی صاحب جو فرما رہے ہیں وہ معذرت کے ساتھ خود مضحکہ خیز یا احمقانہ بات ہے۔ تاہم بہرحال انڈیا کو ابھی تک مئی 2025 میں اپنی ہی جارحیت کے جواب میں جو پسپائی ہوئی اور مار پڑی، اس کو انڈیا ابھی تک ہضم نہیں کر پایا۔ بہت سی ہوائی باتیں (انڈین) حکومت خود بھی کرتی ہے۔ ‘
نسیم زہرہ نے دعویٰ کیا کہ ’انڈیا میں نہ اتنی صلاحیت ہے نہ ہمت ہے نا صلاحیت ہے کہ جنگ جیتیں۔ خطے میں ان کے کتنے برے حالات ہیں اورچھوٹے بڑے تمام ملک ان کی صورت حال کو سمجھتے ہیں۔ وہ خود کو حاکم سمجھتے ہیں لیکن ان کا نہ تعلق قانون سے ہے نہ بین الاقوامی تعلقات اور اصولوں کی بنیاد سے ان کا تعلق ہے۔‘
’اسد اویسی کا اندرون خانہ بی جے پی کے ساتھ گھٹ جوڑ ہے‘
بی بی سی سے بات چیت میں سینیئر جرنلسٹ اور اینکر حامد میر نے کہا کہ ’اسد اویسی نے جو مطالبہ کیا ہے وہ دراصل مودی کی ہی اپنی ایک خواہش ہے جس پر عمل درآمد کی کئی بار کوشش کر چکے ہیں جس میں انھیں ہمیشہ ناکامی ہوئی ہے۔‘
’میرے خیال میں یہ بیان جنگ پر اکسانے کی کوشش نہیں بلکہ انھوں نے مودی حکومت کے کہنے پر بیان دیا ہے تاہم مودی کی حواہش پہلے بھی ناکام ہوئی آئیندہ بھی ناکام ہو گی۔‘
حامد میر کے مطابق ’اسد الدین اویسی بظاہر موودی کےمخالف نظر آتے ہیں لیکن یہ اندر سے ہمیشہ ان کے ساتھ رہے ہیں اور مودی صاحب کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں لیکن اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ پچھلے سال پہلگام کے واقعے کے بعد موودی کی حکومت نے پارلیمانی وفد مختلف ممالک میں بھیجا اس میں ششی تھرور اور اسد اویسی بھی شامل تھے جنھوں نے وہاں جا کر مودی سرکار کے جھوٹ پر مبنی بیانیے کو ہی پروموٹ کیا تھا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اسد اویسی کے والد جب سیاست میں تھے تواسد اویسی کا خود سٹوڈنٹ پالیٹکس کے زمانے سے ہے اور یہ انھی کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔‘
ایٹمی قوت کے حامل دو ہمسائیہ ممالک کے اہم سیاسی عہدوں پر براجمان افراد کی جانب سے بیانات میں کس قدر زمہ داری اور سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے؟
حالیہ عرصے میں شدید لڑائی اور تناؤ کی صورتحال کے بعداہم سیاسی عہدوں پر براجمان افراد کی جانب سے بیانات میں کس قدر سنجیدگی کی ضرورت ہے
اس کے جواب میںنسیم زہرہ نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان انڈیا کے ساتھ اپنے معاملات میں ہمیشہ ذمہ دارانہاور قانون سے جڑے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں انڈیا کو دیکھیں تو چاہے مئی 2025 کی پاکستان کے ساتھکی جنگ ہو، چاہے 2019 میں جب (انڈیاکے زیر انتظام) کشمیر میں جب حق خودارادیت کے جواب میں اس کو ہڑپ کرنے کی کوشش یا پہلگام واقعے کے بعد ان کا رد عمل ہو تو اس میں موودی کی حکومت، جو پہلے ایک زعم میں تھے اور مئی میں ہونےوالی پسپائی کے بعد‘ ایک بوکھلاہٹ کا شکار نظر آتی ہے ان کے رویے غیر زمہ دارانہ ہیں جو خطرناک ہوتے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’پاکستان کی جانب سے سلجھی ہوئی بات یا سوچ ہوتی ہے البتہ پاکستان کا یہ ضرور کہنا ہے کہ اگر انڈیا نے دوبارہ ایسا کیا تو اس کو اور بھی پسپائی کا سامنا ہو گا۔‘
ان کے مطابق ’لڑائی اور تناؤ کے ماحول میں انڈیا کی خود چاہے مودی بات کریں یا ان کی فوج اور وزیر مثلاًامیت شاہ جو کرکٹ کے میدان تک دشمنی لے گئے تو انڈیا کو سوچنا ہو گا کہ خطے میں وہ کس طرح رہنا چاہتا ہے۔ انڈیا کے معاملات سب کے سامنے ہیں اور ان کی باتیں بھی سب کے سامنے ہیں تاہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ انڈیا کو جتنی جلدی سمجھ آئے اتنا بہتر ہے البتہ وہ چاہتے ہیں کہ پس پردہ کہیں ڈائیللاگ شروع ہوں لیکن جو باتیں وہ علی الاعلان کرتے ہیں وہ انتہائی غیر زمہ دارانہ ہیں۔‘