اکاؤنٹنٹ سے ارب پتی بنے کا سفر: وہ پاکستانی جن کی زندگی مہاتیر محمد سے ہوئی ایک ملاقات نے بدل دی

بشیر جان محمد نے اکاونٹنٹ کی نوکری سے شروعات لے کر اپنا نام ملک کی ارب پتی شخصیات میں شامل کروایا اور سنہ 2004 میں ملٹی نیشنل کمپنی یونی لیور سے مشہور بناسپتی برانڈ ڈالڈا خرید کر اس کے مالک بن گئے۔لیکن انڈیا میں پیدا ہونے والے بشیر جان محمد کا یہ سفر آسان نہیں تھا۔

خوردنی تیل پاکستان میں ایک وسیع کاروبار ہے جس کے بے تاج بادشاہ ایک ایسے سرمایہ کار ہیں جو نہ تو کسی سیٹھ کے بیٹے ہیں نہ ہی ان کا شجرہ کسی بڑے کاروباری خاندان سے ملتا ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان میں خوردنی تیل کے کاروبار کا سب سے بڑا نام بن جانے والی اس شخصیت نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک اکاوئنٹنٹ کی حیثیت سے کیا تھا۔

یہ کہانی ہے بشیر جان محمد کی جنھوں نے اکاونٹنٹ کی نوکری سے شروعات کر کے اپنا نام ملک کی ارب پتی شخصیات میں شامل کروایا اور سنہ 2004 میں ملٹی نیشنل کمپنی یونی لیور سے مشہور بناسپتی برانڈ ’ڈالڈا‘ خرید کر اس کے مالک بن گئے۔

لیکن انڈیا میں پیدا ہونے والے بشیر جان محمد کا یہ سفر آسان نہیں تھا۔ وہ پاکستان بننے کے بعد گجرات چھوڑ کر کراچی منتقل ہوئےتھے۔

ان کی اس کامیابی میں جہاں ان کی اپنی سوچ کا بڑی حد تک عمل دخل ہے وہیں قسمت نے بھی ان کا ساتھ دیا اور ایک ملاقات نے ان کی زندگی بدل دی۔

ڈالڈا
Getty Images

گجرات سے پاکستان تک

انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد میں اپنی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے بشیر جان محمد نے بتایا کہ ان کے خاندان کا تعلق انڈیا میں گجرات کے ایک چھوٹے سے قصبے بانٹوا سے تھا اور ان کی پیدائش بھی وہیں ہوئی۔

وہ بتاتے ہیں کہ جب تقسیم کی بات شروع ہوئی تو پہلے ان کے علاقے میں گاندھی آئے اور انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ آپ کاروباری لوگ ہیں، پاکستان نہ جائیں، یہیں رہیں۔ اس کے بعد جناح صاحب آئے اور انھوں نے ہمیں پاکستان کے بارے میں بتایا۔

بشیر جان کہتے ہیں کہ ان کا خاندان فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا لیکن اتنے میں چودہ اگست کو تقسیم ہوئی جس کے چھ دن بعد، بیس اگست کو سکھوں نے حملہ کیا۔ اس وقت یہ فیصلہ ہوا کہ پاکستان جانا ہو گا۔

بشیر جان بتاتے ہیں کہ ان کے والد دلی میں نوکری کر رہے تھے لیکن اسی اثنا میں پاکستان جانے کے لیے وہ اور ان کے دیگر اہلخانہ اوکھا کی بندرگاہ پہنچے۔ وہاں سندھیا نامی جہاز آیا جس میں بارہ سو لوگوں کو لے جانے کی جگہ تھی لیکن ہم بائیس سو لوگ تھے۔

بشیر جان اپنے گھر والوں کے ساتھ پاکستان پہنچ گئے لیکن ان کے والد دلی میں تھے۔

بشیر جان بتاتے ہیں کہ ان کے والد پر بھی حملہ ہوا جب وہ ایک ٹیکسی میں کچھ لوگوں کے ساتھ جا رہے تھے۔ اس گاڑی میں چھ لوگ سوار تھے جن میں سے تین مارے گئے لیکن خوش قسمتی سے میرے والد بچ گئے اور پاکستان پہنچنے میں کامیاب رہے۔

ڈالڈا
Getty Images
بشیر جان محمد کا پرانا خواب تھا ڈالڈا کی ملکیت حاصل کرنا

اکاوئنٹنٹ کی نوکری

انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد میں اپنی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے بشیر جان محمد نے بتایا کہ انھوں نے 1956 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔

بشیر جان نے پاکستانی صحافی کامران خان کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں بتایا کہ بی کام کرنے کے بعد انھوں نے پہلے وکالت کا کورس کیا اور پھر چارٹرڈ اکاوئنٹنٹ کا کورس مکمل کیا اور انھیں برما آئل مل سے ملازمت کی پیشکش ہوئی۔

لیکن ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ وکالت کریں۔ بشیر جان کہتے ہیں کہ میں نے نوکری کو ترجیح دی۔

یوں بشیر جان نے 1300 روپے ماہانہ تنخواہ پر برما آئل کے اکاوئنٹس ڈیپارٹمنٹ سے کریئر کا آغاز کیا۔ رفتہ رفتہ انھیں پام آئل کے کاروبار میں دلچسپی پیدا ہوئی۔

ان کے مطابق انڈونیشیا اور ملائیشیا ایسی منڈیاں تھیں جہاں سے سستا پام آئل درآمد کر کے اس کو ریفائن کیا جا سکتا ہے۔ یوں انھیں خیال آیا کہ پاکستان میں ایک انڈسٹری لگائی جا سکتی ہے۔

1971 میں سقوط ڈھاکہ کے بعد بھٹو حکومت آئی اور مختلف انڈسٹریز کو قومیانے کا منصوبہ بنایا گیا تو برما آئل مل بھی اس منصوبے کی زد میں آ گئی۔

بشیر جان نے اپنا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور ان کے مطابق چھوٹی سطح سے کام شروع کیا یعنی مڈل مین کے طور پر۔ ایسے میں ہی ان کی ایک ایسی شخصیت سے ملاقات ہوئی جس نے ان کی زندگی بدل دی۔

اس ملاقات کے احوال سے پہلے پاکستان میں پام آئل کے شعبے کے بارے میں چند اہم چیزیں جانتے ہیں۔

پاکستان میں پام آئل شعبہ

ہر سال پاکستان اربوں ڈالر مالیت کا پام آئل ملائیشیا اور انڈونیشیا سے درآمد کرتا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مالی سال دو ہزار چوبیس پچیس میں 32 لاکھ ٹن پام آئل درآمد کیا گیا جس کی مالیت تین عشاریہ چار ارب ڈالر تھی۔

1970 سے لیکر اب تک یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی پام آئل کی درآمد تھی۔ ناصرف یہ پاکستان میں ہر گزرتے سال کے ساتھ پام آئل کی طلب باقاعدگی سے بڑھ رہی ہے۔

ایک عام پاکستانی کی غذا میں خوردنی تیل کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی خصوصی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فی شخص سالانہ23 کلو خوردنی تیل استعمال ہوتا ہے۔

ان اعداد و شمار کے مطابق پاکستان دنیا میں خوردنی تیل استعمال کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں انڈیا خوردنی تیل کا استعمال فی شخص سالانہ اٹھارہ کلو تک ہے۔

لیکن ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا۔

ملیشیئن پام آئل بورڈ کے رسالے پام آئل ڈویلپمنٹ کے ستمبر 1994 کے ایڈیشن میں افتخار احمد پاکستان میں بناسپتی گھی کے مضمون میں لکھتے ہیں کہ1960 کی دہائی تک پاکستان میں خالص گھی زیادہ استعمال ہوتا تھا تاہم کپاس کے بیج سے بنا تیل اور سرسوں کا تیل بھی استعمال ہوتے تھے۔

ان کے مطابق پاکستان میں خام پام آئل اور سویا بین تیل کی درآمد کا باقاعدہ آغاز 1970 میں شروع ہوا۔

افتخار احمد کے مطابق سہولیات یعنی سٹوریج اور ریفائننگ کے فقدان کی وجہ سے پاکستان میں پام آئل کی جانب رجحان کم تھا اور بناسپتی گھی مختلف سبزیوں کے تیل سے بنتا تھا۔

ڈاکٹر مہاتیر سے دوستی جس نے بشیر جان کی زندگی بدل دی

سنہ 1974 میں بشیر جان نے ملائیشیا جانے کا فیصلہ کیا جہاں انھوں نے ملائیشیا فیڈرل لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے ملاقات کی درخواست کی۔ تین دن تک ان کی درخواست پر جواب نہیں ملا۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس دوران بناسپتی ان کے ایک دوست نے کھانے کی دعوت پر ان کا تعارف ایک شخص سے کروایا۔ یہ ڈاکٹر مہاتیر محمد تھے جو بعد میں ملائیشیا کے وزیر اعظم بنے۔

اس وقت ڈاکٹر مہاتیر ملائیشیا کی ایک سرکاری ایجنسی کے صدر تھے۔ جب انھیں بشیر جان سے معلوم ہوا کہ وہ ملائیشیا فیڈرل لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے ملنا چاہتے ہیں تو فورا وہیں سے فون کیا اور اتھارٹی میں ایک عہدیدار سے کہا کہ پاکستان سے میرے دوست آئے ہیں، ان سے ملاقات کر لیں۔

کامران خان کو دیے جانے والے انٹرویو میں بشیر جان کہتے ہیں کہ انھیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ ڈاکٹر مہاتیر نے ان کو اپنا دوست کیسے قرار دے دیا جبکہ ان کی یہ پہلی ملاقات تھی۔

تاہم ابتدائی ملاقات ڈاکٹر مہاتیر اور بشیر جان کے درمیان تعلق کا آغاز تھا۔ بشیر جان کے مطابق چند ماہ بعد ان دونوں کی ملاقات لندن میں اتفاقیہ ہوئی تو ڈاکٹر مہاتیر نے ان سے پوچھا کہ وہ کس ہوٹل میں ٹھہرے ہیں اور اس کا کرایہ کتنا ہے۔

جب بشیر جان نے بتایا کہ وہ انیس ڈالر کرایہ دے رہے ہیں تو ان کے مطابق ڈاکٹر مہاتیر نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ اس ہوٹل میں منتقل ہو جائیں جہاں وہ ٹھہرے ہوئے ہیں۔ لیکن اس ہوٹل کا کرایہ اکیس ڈالر تھا۔

بشیر جان کے مطابق ڈاکٹر مہاتیر نے ان سے کہا کہ اس طرح ان کی روز ملاقات ہو سکے گی۔ بشیر جان نے ہوٹل بدل لیا اور اگلے چار دن میں ان کے بقول ان کی گہری دوستی ہو گئی اور ان کی زندگی بھی بدل گئی۔

مہاتیر کی دعوت اور پہلی فیکٹری

1976 میں ڈاکٹر مہاتیر ملائیشیا کے نائب وزیر اعظم بنے تو ان کی ایک ذمہ داری یہ بھی تھی کہ پام آئل کی برآمدات میں اضافہ کیا جائے۔ جنوبی ایشیا کی ایک بڑی منڈی تھی اور یوں ڈاکٹر مہاتیر نے اپنے دوست بشیر جان کو ملائیشیا آنے کی دعوت دی۔

بشیر جان کے بقول جب وہ ملائیشیا پہنچے تو ڈاکٹر مہاتیر نے انھیں ریفائننگ کا کام سونپا اور بینکوں کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ پاکستان میں اس زمانے میں شرح سود گیارہ فیصد تھی جبکہ ملائیشیا میں تین فیصد۔ لیکن بشیر جان بینک سے قرضہ نہیں لینا چاہتے تھے۔ انھوں نے ڈاکٹر مہاتیر کو مشورہ دیا کہ ریفائننگ کے بجائے سٹوریج سے آغاز کیا جائے اور یوں بشیر جان نے 1980 میں ساڑے چار لاکھ کی سرمایہ کاری سے پام آئل کی بیس ہزار ٹن سٹوریج کی فیکٹری کراچی میں لگائی۔

بشیر جان کے مطابق آج ان کے پاس تین لاکھ ٹن سے زیادہ کی سٹوریج کی سہولت موجود ہے۔

بشیر جان کی ملائیشیا سے شراکت نے پاکستان میں پام آئل کی دستیابی اور کھپت میں اضافہ کر دیا۔ افتخار احمد لکھتے ہیں کہ سٹوریج سہولت میسر ہونے کے بعد پاکستان میں خوردنی تیل کی انڈسٹری نے پام آئل کو اپنانا شروع کر دیا اور 1985 تک بناسپتی گھی میں پام آئل کی مقدار پانچ سے پندرہ فیصد سے بڑھ کر اسی فیصد سے زیادہ ہو چکی تھی۔

پہلی سٹوریج سہولت کی بنیاد رکھنے کے بعد بشیر جان محمد اور ان کے ویسٹبری گروپ نے سٹوریج میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس گروپ کا لینڈ مارک پراجیکٹ تھا ماپاک اڈیبل آئل جس کا نام پاکستان اور ملائیشیا کے ناموں کا مجموعہ تھا۔ آج بھی یہ ایک جوائنٹ وینچر ہے اور بشیر جان محمد کے مطابق ہر سال تیس سے چالیس فیصد رائلٹی ملائیشیا بھیجی جاتی ہے۔

1995 میں ماپاک ڈھائی لاکھ ٹن سٹوریج کی سہولت حاصل کر چکی تھی۔ دوسری طرف دیگر گورپس نے بھی اس میدان میں قدم رکھا اور پاکستان میں پام آئل سے تیار کردہ بناسپتی اور خوردنی تیل عام ہو گیا۔

اس کے باوجود ایک خواب ایسا تھا جو بشیر جان پورا کرنا چاہتے تھے۔

ڈالڈا کی ملکیت کا خواب

بشیر جان محمد کا پرانا خواب تھا ڈالڈا کی ملکیت حاصل کرنا۔ انھوں نے صحافی کامران خان کو ایک پوڈ کاسٹ میں بتایا کہ ہر آدمی کو خواب دیکھنا چاہیے، میرا خواب تھا پاکستان کی سب سے بڑے ریفائنری اور ڈالڈا۔

یاد رہے کہ انیس سو اسی میں یونی لیور دنیا کی سب سے بڑی کمپنی تھی۔ لیکن سنہ دو ہزار تین تک معاملات بدل چکے تھے۔

دادا بناسپتی ڈالڈا کیسے بنا؟

بشیر جان محمد کی کہانی سمجھنے کے لیے لازمی ہے کہ برصغیر میں سبزی سے تیار ہونے والے خوردنی تیل کی بنیاد کو سمجھا جائے۔ تاریخی طور پر اس خطے میں گائے یا بھینس کے دودھ سے بنا دیسی گھی سب سے زیادہ استعمال ہوتا تھا لیکن سرسوں اور تل کا تیل بھی استعمال ہوتا تھا۔

1931 میں ہندوستان بناسپتی مینویکچرنگ کمپنی کی بنیاد رکھی گئی جس کا بانی مشہور دادا خاندان تھا۔ نیدرلینڈز میں یونی نامی مارجرین کمپنی نے سبزی سے ہائیدروجنیٹ کر کے ایک ایسا تیل ایجاد کیا تھا جو گھی جیسا دکھتا تھا۔ ہندوستان بناسپتی مینوفیکچرنگ کمپنی نے دیسی گھی کے مقابلے میں اس سبزی کے تیل کو درآمد کیا اور دادا بناسپتی گھی کے نام سے بیچنا شروع کیا جو نسبتا سستا تھا۔

معروف انڈین اخبار بزنس سٹینڈرڈ کے مطابق اسی زمانے میں ڈچ کمپنی یونی کا برطانوی صابن تیار کرنے والی کمپنی لیور برادرز کے ساتھ الحاق چل رہا تھا اور دونوں کمپنیوں کی کامیابی کی وجہ پام آئل بنا۔

یونی مارجرین پام آئل کی مدد سے تیار کرتا تھا اور لیور برادرز صابن میں پام آئل استعمال کرتے تھے۔ اس الحاق کے بعد یہ دو بڑی کمپنیاں یونی لیور کے نام سے ایک ہو گئیں۔ ادھر دادا بناسپتی کی کامیابی دیکھتے ہوئے یونی لیور نے بھی ہندوستان میں بناسپتی کاروبار میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا۔

لیکن کوئی نیا برانڈ متعارف کروانے کے بجائے یونی لیور نے دادا خاندان سے بناسپتی گھی برانڈ خریدنے کا فیصلہ کیا۔ یہ سودا اس شرط پر ہوا کہ اس بناسپتی گھی کا نام دادا ہی رہے گا۔

قاسم دادا نے اپنی آپ بیتی اے ریمبل تھرو لائف میں لکھا ہے کہ یونی لیور نے جواب میں صرف ایک درخواست کی کہ لیور برادرز کی نشان دہی کے لیے دادا بناسپتی اپنے نام میں انگریزی زبان کا ایل شامل کرے۔ یوں دادا ڈالڈا بن گیا۔

مہاتیر محمد
AFP
بشیر جان کہتے ہیں کہ انھیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ ڈاکٹر مہاتیر نے ان کو اپنا دوست کیسے قرار دے دیا جبکہ ان کی یہ پہلی ملاقات تھی

ڈالڈا کی تشہیری مہم اور مفت پکوان

ساگر بوکے، بن گھی انڈیا کے مارکیٹنگ سربراہ تھے، جنھوں نے دو ہزار پندرہ میں انڈین اخبار بزنس سٹینڈرڈ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ یونی لیور نے بناسپتی گھی کے لیے اس زمانے کی پہلی تشہیری مہم کا آغاز کیا تاکہ لوگوں کو اس بات پر قائل کیا جا سکے کہ بناسپتی دیسی گھی جیسا نظر ہی نہیں آتا بلکہ معیار میں بھی اچھا ہے۔ بن گھی نامی کمپنی آج انڈیا میں ڈالڈا کی مالک ہے۔

ملاٹھے سریرام انڈین اخبار بزنس لائن میں لکھتی ہیں کہ شہروں میں ٹھیلے لگائے گئے جہاں ڈالڈا میں بنے پکوان راہ گزرتے لوگوں کو مفت کھلائے جاتے اور ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کو بھی ٹن میں پکوان فراہم کیا جاتا۔

یونی لیور کی اس تشہیری مہم سے ہی دور جدید کے وہ ٹھیلے شروع ہوئے جن پر ہم آج سموسے اور پکوڑے تلتے اور بکتے دیکھتے ہیں۔ اس مہم نے ڈالڈا کو جنوبی ایشیا میں مشہور کر دیا۔

ہندوستان کی تقسیم ہوئی تو یونی لیور بھی بٹ گئی اور پاکستان اور انڈیا میں دو نئی کمپنیوں کا آغاز ہوا۔ لیکن دونوں نے ہی ڈالڈا کی فروخت جاری رکھی۔

سنہ2003 میں یونی لیور نے انڈیا اور پاکستان میں ڈالڈا برانڈ کو بیچنے کا فیصلہ کیا۔ تب ڈالڈا کا یونی لیور پاکستان کی کل آمدنی کا تقریبا 19 فیصد حصہ تھا اور اس کی فروخت کا مطلب تھا کمپنی کے کاروبار کا ایک بڑا حصہ بیچنا۔

بشیر جان اسی موقع کی تلاش میں تھے۔ بشیر جان کے مطابق انھیں اندازہ تھا کہ ایک دن یونی لیور ڈالڈا کو بیچے گا کیوں کہ خوردنی تیل میں منافع کا مارجن کم ہوتا ہے تقریبا تین سے چار فیصد جبکہ یونی لیور کی باقی مصنوعات جیسے صابن اور شیمپو میں تیس سے چالیس فیصد تک کا مارجن ہوتا ہے۔

2004 کی ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک عشاریہ تینتیس ارب روپے میں ڈالڈا ویسٹبری گروپ کے حوالے کر دیا گیا۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں بشیر جان محمد نے تلو برانڈ بھی خرید لیا۔ یہ برانڈ انیس سو ترپن میں پاکستان کی مشہور کاروباری شخصیت سید واجد علی نے لاہور میں قائم کیا تھا۔ سید واجد علی لمز کے بانی اور پیکیجز گروپ کے مالک سید بابر علی کے بڑے بھائی تھے۔

پاکستانی مارکیٹ میں اس وقت صوفی، میزان سمیت دیگر برانڈ بھی موجود ہیں لیکن ویسٹبری گروپ اس شعبے پر حاوی ہے۔

ڈالڈا
Getty Images
پاکستانی ریٹیل میں خوردنی تیل کی فروخت 86 ارب روپے ہوئی جس میں سے ڈیڑھ سو ارب یعنی بیس فیصد حصہ ڈالڈا کا تھا

کاروباری فلسفہ اور بینکاری سے دور رہنے کا فیصلہ

بشیر جان محمد کو تلو خریدے ہوئے سترہ سال ہو چکے ہیں۔

بی بی سی اردو کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پچھلے سال پاکستانی ریٹیل میں خوردنی تیل کی فروخت 86 ارب روپے تھی، جس میں سے ڈیڑھ سو ارب یعنی بیس فیصد حصہ ڈالڈا کا تھا جبکہ دوسرے نمبر پر میزان گروپ تھا جس کی آمدنی تقریبا 54 ارب روپے تھی۔ صوفی گروپ کی کمائی بھی تقریبا اتنی ہی تھی اور باقی حصہ حبیب گروپ، یونائیٹڈ اور شجاع آباد ایگرو جیسے ناموں کا تھا۔

اس میں سے 32 فیصد حصہ نجی تیل کے برانڈز کا ہے جن کے شاید نام بھی کوئی نہیں جانتا۔ یہ وہ تیل ہے جو عموما چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں دستیاب ہوتے ہیں جو چھوٹے یونٹس میں تیار ہوتے ہیں۔

تو بشیر جان محمد کی کامیابی کا راز کیا ہے؟ یہ ایک کاروباری فلسفہ ہے جو ان سے اکثر پوچھا جاتا ہے۔ ان سے یہ سوال بھی ہوتا ہے کہ آخر انھوں نے پام آئل کے علاوہ کوئی کاوبار کیوں نہیں کیا۔

حالیہ دنوں میں انھوں نے صحافی کامران خان کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ باقی سرمایہ کار اتنی کامیابی کے بعد فرٹیلائزر، سیمنٹ اور بینکنگ جیسے شعبوں میں لگاتے ہیں یا ٹیکنالوجی سٹارٹ اپ، سٹاک مارکیٹ میں پیسہ لگاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب میں ایم سی بی میں بطور ڈائریکٹر کام کر رہا تھا۔ اس وقت میرے پاس بڑے بڑے خاندانوں کے لوگ قرض معاف کروانے یا لوٹانے میں مہلت حاصل کرنے آتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ میں یہ رسک لینا پسند نہیں کرتا۔

زبیر طفیل فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر رہ چکے ہیں۔ وہ بشیر جان محمد کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ زبان کے پکے ہیں۔ کاروبار میں جو بات طے ہو گئی اس سے پیچھے نہیں ہٹتے چاہے اس میں نفع ہو یا نقصان۔

معروف سرمایہ کار اور جے ایس بینک کے مالک جہانگیر صدیقی کے مطابق بشیر جان محمد کے دل میں جو ہوتا ہے وہی منھ سے کہہ دیتے ہیں اور صاف صاف کہہ دیتے ہیں۔

پام آئل کی درآمد کا بوجھ

بشیر جان محمد کی کامیابی ایک طرف، پاکستان میں پام آئل کی درآمد ایک قسم کا بوجھ بھی ہے۔ ہر سال اربوں ڈالر پام آئل کی کھپت پاکستان کے درآمدی بل پر بھاری پڑتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں مقامی طور پر پام آئل نہیں اگایا جاتا۔ اس کے متبادل کنولا، سورج مکھی، تل، کپاس اور سرسوں کا تیل مقامی طور پر ضرور استعمال ہوتا ہے۔

بشیر جان محمد کے نزدیک یہی اس شعبے کی ایک بڑی ناکامی بھی ہے کہ پاکستان اپنا خوردنی تیل اپنی زمین سے نہیں نکال سکا۔

ایک انٹرویو میں انھوں نے حال ہی میں بتایا کہ 1980 سے آئل سیڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کا حصہ ہونے کے باوجود آج تک کسی حکومت نے اس کام پر سنجیدگی نہیں دکھائی ہے۔

ایسا نہیں کہ پاکستان میں پام آئل کو مقامی سطح پر فروغ دینے کی کوششیں نہیں کی گئیں۔ 1994 میں نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ کونسل نے سندھ میں تقریبا پونے چار ملین ہیکٹرز پر، جن میں ساحلی اضلاع شامل تھے، سویا بین اگانے کے لیے سروے کیا جس میں تمام ضروری چیزوں کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ ایک عشاریہ پینسٹھ ملین ہیکٹرز پر کام شروع کیا جائے۔

لیکن اس پائلٹ منصوبے کو مسائل کا سامنا رہا۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق کچھ علاقوں میں کھیتوں کا خیال مناسب طریقے سے نہیں رکھا گیا جبکہ کچھ جگہوں پر بیج کو صحیح طریقے سے سنبھالا نہیں گیا۔ اس کے علاوہ رپورٹ کے مطابق کھاد کا اسعتمال بھی درست انداز میں نہیں ہوا، پانی کی کمی، اور بیماری کی وجہ سے یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہوا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US