عطارد، ایک ایسا سیارہ جو توقع سے کہیں زیادہ چھوٹا اور سورج کے قریب ہے۔ یہ طویل عرصے سے ماہرینِ فلکیات کے لیے معمہ بنا ہوا ہے۔ لیکن ایک نیا مشن جو 2026 میں اس پر پہنچے گا جو اس راز سے پردہ ہٹا سکتا ہے۔
عطارد کی ناسا کے ذریعے حاصل کی گئی تصویرسورج کے قریب اور جتنا بڑا ہونا چاہیے تھا اس سے کہیں چھوٹا سیارہ، عطارد طویل عرصے سے ماہرینِ فلکیات کو حیران کرتا رہا ہے کیونکہ یہ سیاروں کی تشکیل کے بارے میں ہمارے علم کے بیشتر حصے کو چیلنج کرتا ہے۔ ایک نیا خلائی مشن جو 2026 میں اس کے مدار تک پہنچے گا شاید اس معمہ کو حل کر سکے۔
بظاہر عطارد نظامِ شمسی کا سب سے غیر دلچسپ سیارہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کی خشک سطح پر نمایاں خصوصیات بہت کم ہیں، اس کے ماضی میں پانی کے کوئی شواہد نہیں ملتے اور اس کی کمزور فضا بہترین صورت میں بھی نہایت ہلکی ہے۔ اس کے گہرے گڑھوں میں زندگی ملنے کا امکان بالکل نہیں۔
تاہم قریب سے دیکھنے پر عطارد ایک حیرت انگیز اور غیر متوقع دنیا ہے جو اسرار میں لپٹی ہوئی ہے۔
سیاروں پر تحقیق کرنے والے سائنس دان اب بھی اس حقیقت پر حیران ہیں کہ سورج کے سب سے قریب موجود یہ سیارہ کس طرح وجود میں آیا۔ یہ نہایت چھوٹا ہے، زمین کے مقابلے میں اس کا وزن 20 گنا کم ہے اور اس کی چوڑائی بمشکل آسٹریلیا سے زیادہ ہے۔
عطارد کا مدار، جو سورج کے نہایت قریب ہے، بھی ایک نایاب مقام پر ہے جسے ماہرین فلکیات مکمل طور پر سمجھا نہیں پاتے۔ یہ ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ عطارد کس طرح بنا۔ ہماری سمجھ کے مطابق یہ سیارہ تو ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔
یہ راز کہ عطارد کہاں سے آیا، کس طرح بنا اور آج جیسا دکھائی دیتا ہے ویسا کیوں ہے، نظامِ شمسی کے سب سے بڑے رازوں میں سے ایک ہے۔
فرانس کی یونیورسٹی آف بوردو میں سیاروں کی تشکیل اور حرکیات کے ماہر شان ریمنڈ کہتے ہیں کہ ’یہ کچھ شرمندگی کی بات ہے۔ ہم کسی اہم باریک نکتے کو نظرانداز کر رہے ہیں۔‘
تاہم ان سوالوں کے کچھ جوابات شاید جلد سامنے آنے کا امکان بھی موجود ہے۔
بیپی کولومبو، یورپ اور جاپان کا مشترکہ خلائی مشن ہے جو 2018 میں روانہ ہوا تھا، اس وقت عطارد کی جانب محو سفر ہے۔ ایک انجن میں خرابی کے باعث سفر میں تاخیر کی وجہ سے اب یہ نومبر 2026 میں مدار میں داخل ہوگا۔ یہ مشن ایک دہائی سے زیادہ عرصے بعد عطارد کا پہلا دورہ ہو گا۔ اس کے اہم مقاصد میں سے ایک یہ ہوگا کہ عطارد کہاں سے آیا، اس کی گتھی سلجھائی جا سکے۔
عطارد کی سطح گڑھوں اور لاوے کے اخراج سے بھری ہوئی ہے، لیکن اس کے نیچے ایک بہت بڑا دھاتی مرکز چھپا ہوا ہےیہ سمجھنا کہ عطارد کس طرح بنا نہ صرف ہمارے اپنے نظامِ شمسی کے آغاز کو جاننے کے لیے اہم ہے بلکہ دوسرے ستاروں کے گرد موجود سیاروں، یعنی ایکزوپلینٹس، کے مطالعے کے لیے بھی ضروری ہے۔
میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنس دان ساویریو کامبیونی کا کہنا ہے کہ ’اس کی غیر معمولی تشکیل کی وجہ سے عطارد شاید سب سے زیادہ ایکزوپلینٹ جیسا ہے جو ہمارے پاس ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز دنیا ہے۔‘
جب ناسا کی خلائی جہاز میرینر 10 نے 1974 اور 1975 میں تین بار اس سیارے کے قریب سے پرواز کی تو ماہرینِ فلکیات کو پہلی بار یہ احساس ہوا کہ عطارد کے ساتھ کچھ غیر معمولی ہے۔ یہ انسانیت کی نظامِ شمسی کے اندرونی حصے تک پہلی رسائی تھی۔
ان پروازوں کے نتیجے میں عطارد کی کششِ ثقل کی ابتدائی پیمائشیں ہوئیں، جس سے پہلی بار اس کے اندرونی حصے کی جھلک ملی اور اس کی عجیب ساخت سامنے آئی۔
زمین، زہرہ اور مریخ کے لوہے سے بھرپور مرکز ان کے نصف قطر کے قریب ہوتے ہیں۔ زمین کا مرکز ایک ٹھوس اندرونی حصے اور ایک مائع بیرونی حصے میں تقسیم ہے، جو حرکت کر کے مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے جو ہمارے سیارے کو محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے اوپر مینٹل اور پھر وہ سطح ہے جہاں ہم رہتے ہیں۔
عطارد بالکل مختلف ہے۔ اس کا مرکز تقریباً 85 فیصد قطر پر مشتمل ہے، جس کے اوپر صرف ایک پتلا پتھریلا مینٹل اور سطح ہے۔ یہی اس کی غیر معمولی کثافت کی وجہ ہے، لیکن اس کی ساخت ایسی کیوں بنی، یہ اب تک واضح نہیں۔
جرمنی کے ایرو سپیس سینٹر کے سائنس دان نکولا توسی کہتے ہیں کہ ’عطارد کی تشکیل ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ عطارد ایسا کیوں ہے۔‘
بعد میں ناسا کا مشن میسنجر، جو 2011 سے 2015 تک عطارد کے گرد مدار میں رہا، مزید سوالات لے کر ابھرا۔ سورج سے صرف 60 ملین کلومیٹر کے فاصلے پر گردش کرتے ہوئے عطارد پر دن کے وقت درجہ حرارت 430 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے جبکہ رات کو یہ -180 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔
لیکن ان انتہائی درجہ حرارت کے باوجود، میسنجر نے دریافت کیا کہ عطارد کی سطح پر پوٹاشیم اور ریڈیو ایکٹو تھوریم جیسے عناصر موجود ہیں، جو سورج کی شعاعوں سے بہت پہلے بخارات بن کر ختم ہو جانے چاہیے تھے۔ پیچیدہ سالمات جیسے کلورین اور یہاں تک کہ پانی کی برف بھی قطبی گڑھوں کے سائے میں پائی گئی۔ ایسی دریافتوں نے اس خیال کو تقویت دی ہے کہ عطارد اپنی موجودہ جگہ سورج کے گرد نہیں ہونا چاہیے۔
ماہرینِ فلکیات عرصے سے یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عطارد نظامِ شمسی میں اس مقام پر کیوں ہے، جہاں ایسے سیارے کا بننا آسان نہیں سمجھا جاتا۔
عطارد ’درد سر‘ ہے
ہم جانتے ہیں کہ نظامِ شمسی جیسے نظام ایک گرد و غبار اور گیس کے ڈسک سے شروع ہوتے ہیں جو ستاروں کے گرد ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ سیارے اس ڈسک میں خلا بناتے ہیں اور مزید مواد جذب کر کے بڑے ہوتے جاتے ہیں۔
لیکن عطارد زہرہ سے اتنا دور ہے کہ یہ بات سیاروں کی تشکیل کے موجودہ ماڈلز کے مطابق سمجھ میں نہیں آتی۔ سیاروں کی حرکیات کے ماہرین چاہے جتنے پیرامیٹرز ایڈجسٹ کریں، عطارد کو آج جیسا ہم دیکھتے ہیں ویسا سمجھانا ممکن نہیں۔
شان ریمنڈ نے اعتراف کیا کہ ’یہ ایک سر درد ہے۔ آخر میں آپ کے پاس صفر عطارد رہ جاتے ہیں۔‘
ماہرینِ فلکیات نے برسوں ماڈلز کو بہتر بنانے اور نظریات آزمانے میں لگائے ہیں تاکہ سمجھ سکیں کہ عطارد کس طرح بنا۔ کئی منظرنامے ممکن ہیں۔ سب سے زیادہ زیرِ بحث خیال یہ ہے کہ عطارد کبھی بہت بڑا تھا، شاید اپنے موجودہ حجم سے دوگنا اور تقریباً مریخ کے برابر۔ ممکن ہے کہ وہ سورج کے گرد زیادہ فاصلے پر مدار میں گردش کرتا رہا ہو۔
یہ خیال اس بات سے تقویت پاتا ہے کہ عطارد میں پوٹاشیم اور تھوریم کی سطحیں مریخ سے زیادہ مشابہ ہیں، جو سورج سے کہیں زیادہ دور بنا تھا۔
نظریہ یہ ہے کہ اپنی ابتدائی 10 ملین سالہ تاریخ میں کسی وقت اس ابتدائی عطارد کو ایک بہت بڑے جسم نے ٹکر ماری، شاید مریخ کے سائز کے کسی اور سیارے نے۔
اس تصادم نے عطارد کی بیرونی تہوں، سطح اور مینٹل، کو چھین لیا اور صرف لوہے سے بھرپور گھنا مرکز باقی رہ گیا، جو آج ہم دیکھتے ہیں اس سیارے کا زیادہ تر حصہ یہی بناتا ہے۔
بیپی کولومبو مشن دو خلائی جہازوں پر مشتمل ہے جو آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور یہ یورپی خلائی ایجنسی (ایسا) اور جاپانی خلائی ایجنسی (جاکسا) کے زیرِ انتظام ہیں۔الیساندرو موربیدیلی، جو فرانس کے شہر نیسا میں کوٹ دازور آبزرویٹری کے سیاروی حرکیات کے سائنس دان ہیں‘ کا کہنا ہے کہ یہ وضاحت شاید وہ ہے جسے اس وقت ماہرینِ فلکیات سب سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ عمومی تشریح یہ ہے کہ عطارد کو ایک بڑے تصادم کا سامنا کرنا پڑا جس نے اس کے مینٹل کا زیادہ حصہ چھین لیا۔ یہ تصادم ایک کنارے سے ٹکرانے والا ہونا چاہیے تھا تاکہ عطارد مکمل طور پر تباہ نہ ہو جاتا۔
ساویریو کامبیونی کے مطابق تاہم، اگرچہ نظامِ شمسی کے آغاز میں تصادم عام تھے، عطارد سے اتنا زیادہ مواد چھیننے کے لیے 100 کلومیٹر فی سیکنڈ سے زیادہ رفتار پر ٹکراؤ درکار ہوتا۔ یہ منظرنامہ زیادہ قابلِ یقین نہیں سمجھا جاتا کیونکہ زیادہ تر اجسام سورج کے گرد ایک ہی سمت میں اور تقریباً یکساں رفتار سے حرکت کرتے ہیں، جیسے گاڑیاں ایک گول چکر میں چلتی ہیں۔
ایسا تصادم عطارد کو اس کے غیر مستحکم عناصر، بشمول تھوریم، سے بھی محروم کر دیتا، جس سے میسنجر مشن کی جانب سے ان عناصر کی موجودگی مزید پراسرار ہو جاتی ہے۔
آخر اتنے بڑے اور دھماکہ خیز واقعے کے بعد یہ عناصر کس طرح زندہ بچ گئے؟
عطارد پر دورِ قدیم میں آتش فشانی جیسی سرگرمیوں کی علامات موجود ہیںبغیر کسی تصادم کے بھی یہ واضح نہیں کہ یہ عناصر عطارد میں اب تک کیسے موجود ہیں۔
برطانیہ کی اوپن یونیورسٹی کے سیاروی ارضیات کے ماہر ڈیوڈ روتھری، جو بیپی کولومبو مشن پر موجود عطارد کے ایکس رے امیجنگ سپیکٹرو میٹر (مکسز) کے شریک ڈائریکٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ ’سورج کے اتنے قریب کوئی سیارہ غیر مستحکم عناصر سے مالا مال نہیں ہونا چاہیے۔‘
ان کا یہ سوال ہے کہ ’کیا عطارد نے اپنی ابتدا کہیں زیادہ دور سے کی تھی یا وہ چیزیں جو عطارد میں شامل ہوئیں، وہ زیادہ دور سے آئی تھیں؟‘
ممکن ہے کہ عطارد کو کسی بڑے جسم نے ٹکر نہ ماری ہو بلکہ وہ خود کسی اور سیارے جیسے زہرہ سے ٹکرا گیا ہو اور بعد میں اپنی موجودہ جگہ پر آ گیا ہو۔
یہ ایک پرکشش خیال ہے کیونکہ اس طرح کے تصادم میں عطارد کے مینٹل کو چھین لینا زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔ بیلجیئم کی کیتھولک یونیورسٹی آف لووین کے سیاروی ارضیات کے ماہر اولیویئر نامور کہتے ہیں کہ ’عطارد کو اس طرح سمجھانا زیادہ آسان ہے کہ وہ ٹکرانے والا تھا، نہ کہ وہ جسے ٹکر ماری گئی۔‘
یہ نظامِ شمسی کے ابتدائی دور میں واحد ’سیارے کے سائز کی توپ کا گولا‘ نہ ہوتا۔ یہ مانا جاتا ہے کہ ہمارا اپنا چاند اس وقت بنا جب مریخ کے سائز کا ایک جسم، جسے ’تھییا‘ کہا جاتا ہے، زمین سے ٹکرا گیا اور اس کا ایک بڑا حصہ الگ کر دیا۔
دیگر نظریات
عطارد کے کسی بھی تصادم کے منظرنامے میں یہ واضح نہیں کہ خلا میں پھینکے گئے پتھریلے ملبے نے دوبارہ سیارے پر کیوں بیٹھنا شروع نہیں کیا یا اپنی کوئی چاند کیوں نہیں بنایا۔ عطارد کے پاس کوئی چاند نہیں ہے۔
ایک امکان یہ ہو سکتا ہے کہ یہ عمل تصادم کی پاؤڈرائزیشن کہلاتا ہے، جس میں عطارد سے خارج ہونے والا مواد باریک ذرات میں ٹوٹ کر سورج کی ہوا کے ساتھ بہہ گیا۔
کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو کی سیاروی تشکیل کی ماہر جینیفر سکورا کہتی ہیں کہ ’تصادم کی پاؤڈرائزیشن وہی ملبہ ہے جو بار بار چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ٹوٹتا جاتا ہے۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’اس طرح آپ کے پاس ایک عطارد رہ جاتا ہے جو چھوٹا بھی ہے اور زیادہ کثیف بھی۔‘ لیکن اس عمل کے لیے جس رفتار کی ضرورت ہے وہ بہت زیادہ ہے، شاید اس سے بھی زیادہ جتنا ہم توقع کرتے ہیں۔
ایک اور منظرنامہ یہ ہے کہ عطارد کو کوئی بڑا تصادم پیش ہی نہیں آیا بلکہ وہ دراصل سورج کے قریب موجود زیادہ لوہے والے مواد سے بنا۔
اس صورتِ حال کو سویڈن کی یونیورسٹی آف لُند کے سیاروی تشکیل کے ماہر اینڈرز جوہانسن ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے مطابق عطارد نظامِ شمسی کے اس حصے میں بنا جو دوسرے سیاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ گرم تھا، جہاں ابتدائی سورج کے دھماکوں نے ہلکے ذرات کو بخارات بنا کر ختم کر دیا اور صرف بھاری لوہے سے بھرپور مواد باقی رہ گیا جو آپس میں جُڑ کر عطارد بنا۔
جوہانسن کہتے ہیں کہ ’اس طرح ایک لوہے سے مالا مال سیارہ تشکیل پا سکتا ہے۔‘
لیکن اس نظریے میں بھی مسائل ہیں۔ اگر یہ درست ہوتا تو عطارد اپنی موجودہ حالت پر کیوں رُک جاتا، بجائے اس کے کہ مزید لوہے والا مواد جمع کرتا رہتا؟
جوہانسن کہتے ہیں کہ ’اس وقت اردگرد بہت سا مواد موجود ہوتا، اس لیے ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آخر ہم اس چھوٹے سے سیارے تک کیسے پہنچے جو آج نظر آتا ہے۔‘
سپر عطارد
دیگر ستاروں کے گرد ہمیں عطارد کی بڑی شکلوں کے شواہد ملتے ہیں، جنھیں ’سپر عطارد‘ کہا جاتا ہے۔ یہ سیارے زمین سے کہیں زیادہ بڑے اور کثیف ہوتے ہیں، لوہے سے بھرپور اور پھر بھی ایک بڑے لوہے کے مرکز کے حامل ہوتے ہیں۔
ابھی تک عطارد کے سائز کے سیارے دریافت نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی میزبان ستارے کی روشنی اور کششِ ثقل کے اثر کے مقابلے میں بہت چھوٹے ہیں، اس لیے ان کا پتا لگانا مشکل ہے۔
دیگر ستاروں کی مشاہدات سے پتا چلتا ہے کہ سپر عطارد ہماری کہکشاں میں کافی عام ہو سکتے ہیں۔ ساویریو کامبیونی کے مطابق یہ شاید تمام سیاروں کا 10 سے 20 فیصد ہوں۔
ساویریو کامبیونی کا کہنا ہے کہ ’یہ بھی ایک مسئلہ پیدا کرتا ہے کیونکہ عطارد کی طرح ہمیں یہ معلوم نہیں کہ وہ کس طرح بنے۔کہتے ہیں۔ یہ غیر آرام دہ حد تک عام ہیں۔‘
عطارد کی تشکیل کے بارے میں ایک اور نظریہ بھی ہے کہ اندرونی سیارے اپنی موجودہ جگہ پر نہیں بنے بلکہ کچھ حرکت کر گئے۔
اس نظامِ شمسی کے ماڈل میں اندرونی سیارے۔۔۔ عطارد، زہرہ، زمین اور مریخ۔۔۔ سورج کے گرد دو الگ الگ حلقوں میں بنے۔ زمین اور زہرہ عطارد کے ساتھ اندرونی حلقے میں بنے تھے، لیکن بعد میں ’ہجرت کر گئے اور عطارد کو پیچھے چھوڑ دیا۔‘ شان ریمنڈ کے مطابق یہ اس کی کم کمیت کی وجہ سے ہوا۔
بیپی کولومبو مشن، جو 2018 میں روانہ ہوا تھا، کے کاموں میں سے ایک یہ ہوگا کہ وہ سورج کے سب سے قریب موجود سیارے کی کششِ ثقل اور اس کے کمزور مقناطیسی میدان کا مطالعہ کرے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے سیاروی حرکیات کے سائنس دان میٹ کلیمنٹ کی ایک ماڈلنگ یہ تجویز کرتی ہے کہ پتھریلے سیارے سورج کے کہیں زیادہ قریب، عطارد کی موجودہ مدار کے اندر، بنے تھے اور بعد میں باہر کی طرف منتقل ہو گئے۔
میٹ کلیمنٹ کہتے ہیں کہ ’عطارد عمل سے باہر رہ گیا اور اسے مواد نہیں ملا۔‘ یہ خیال مکمل طور پر یہ نہیں بتاتا کہ عطارد کا مرکز اتنا بڑا کیوں ہے، سوائے اس کے کہ وہ نظامِ شمسی کے اس حصے میں منتقل ہوا ہو جو لوہے سے زیادہ مالا مال تھا۔ لیکن یہ وضاحت کرتا ہے کہ عطارد کا سائز ایسا کیوں ہے اور وہ زہرہ سے اتنی دوری پر کیوں ہے۔ کلیمنٹ کے مطابق: ’میرا خیال ہے کہ نقل و حرکت ضروری ہے۔‘
کچھ مزید غیر معمولی خیالات بھی ہیں۔ اگر عطارد دراصل کوئی پتھریلا سیارہ نہ ہو بلکہ کسی بڑے گیس کے سیارے جیسے مشتری کا برہنہ مرکز ہو جس کی فضا چھین لی گئی ہو؟
اگرچہ یہ خیال پیش کیا گیا ہے۔ تاہم ساویریو کامبیونی اسے ممکن نہیں سمجھتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’مشتری کے سائز کے سیارے کی فضا کو ہٹانا بہت مشکل ہے، اس کی زبردست کششِ ثقل کی وجہ سے۔‘
یہ سب ماہرینِ فلکیات کو کئی اشارے فراہم کرتا ہے، لیکن اس بات پر کوئی اتفاق نہیں کہ عطارد کس طرح بنا۔ بیپی کولومبو مشن شاید اس متعلق کچھ جوابات دے سکے۔
یہ مشن، جو دراصل دو خلائی جہاز ہیں، یورپی خلائی ایجنسی (ایسا) اور جاپانی خلائی ایجنسی (جاکسا) کے زیرِ انتظام جب عطارد کے گرد مدار میں داخل ہوگا تو دونوں جہاز الگ ہو جائیں گے۔
یہ اپنے آلات استعمال کر کے سیارے کی سطح کی ساخت کا نقشہ بنائیں گے اور دیگر مشاہدات کے ساتھ ساتھ ہی عطارد کی کششِ ثقل اور اس کے کمزور مقناطیسی میدان کا مطالعہ کریں گے۔
عطارد واقعی دوسرے سیاروں کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے۔ یہاں اسے بائیں جانب ایک ننھے نقطے کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے، جب وہ سورج کے سامنے سے گزرتا ہے۔ نکولا توسی کا کہنا ہے کہ بیپی کولومبو مزید پیمائشیں کرے گا جو ہمیں عطارد کے ماخذ کے بارے میں معلومات دے سکتی ہیں۔ خاص دلچسپی یہ جاننے میں ہوگی کہ سیارے کی سطح اور زیرِ سطح کس چیز سے بنی ہے۔
نکولا توسی کے مطابق ’اس ترکیب کو جاننا سیارے کی تشکیل پر پابندیاں لگاتا ہے۔‘
اگر عطارد کبھی بڑا تھا اور بعد میں حجم کھو بیٹھا، تو اس سے ایک عارضی پگھلا ہوا مینٹل بنتا، ایک وسیع میگما کا سمندر جس کی آج ہمیں شہادت مل سکتی ہے۔ نکولا توسی کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک خاص انداز میں ٹھوس ہوتا ہے۔‘
سال کے آغاز میں خلائی جہاز کے پہلے قریب سے گزرنے پر بھیجی گئی ابتدائی تصاویر نے اس ابتدائی میگما کے سمندر کی کوئی شہادت نہیں دکھائی، لیکن ایک ایسی سطح ضرور دکھائی جو تصادم کے گڑھوں سے بھری ہوئی ہے اور قدیم لاوے کے بہاؤ سے چِھد گئی ہے۔
وہاں تقریباً 3.7 ارب سال پرانی لاوے کی ایک بڑی سیلابی باقیات بھی نظر آئیں، جو وسیع ہموار سطحوں میں سخت ہو گئی تھیں اور پرانے گڑھوں کو بھر رہی تھیں۔
اگرچہ یہ ممکنہ میگما کے سمندر سے کہیں زیادہ حالیہ ہے، لیکن ہموار سطح پر نمایاں جھریاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ عطارد اربوں سالوں میں ٹھنڈا ہوتے ہوئے ڈرامائی طور پر سکڑتا رہا ہے۔
2025 کے آغاز میں ایک مختصر دورانیےکے لیے قریب سے گزرنے کے بعد بیپی کولومبو نے عطارد کی سطح کی تصاویر بھیجیں خلائی جہاز کی کششِ ثقل کی پیمائشیں، جو یہ ریکارڈ کرتی ہیں کہ سورج کی کششِ ثقل کے جواب میں عطارد کس قدر بگڑتا ہے اور اس کی سطح پر لیزر کے انعکاس کے ذریعے معلوم کی جاتی ہیں، سائنس دانوں کو سیارے کے مرکز کی ساخت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیں گی۔ یہ عطارد کی تاریخ کا ایک اور اہم حصہ ہے۔
نکولا توسی کا کہنا ہے کہ ’مرکز کی ترکیب کو جاننا عطارد کے ماخذ کو دوبارہ تعمیر کرنے میں بھی مدد دے گا۔‘
بیپی کولومبو کو عطارد کے غیر مستحکم عناصر کے بارے میں بھی مزید انکشاف کرنا چاہیے، جو اب تک الجھے ہوئے ہیں۔ روتھری کے مطابق ’ہم جانتے ہیں کہ عطارد غیر مستحکم عناصر سے مالا مال ہے، لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں کہ وہ سب کون سے ہیں۔‘
یہ مشن عطارد کے دیگر رازوں کو بھی حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جیسے کہ اس کی سطح، جو گڑھوں سے بھری ہوئی ہے، اتنی تاریک کیوں ہے۔ یہ سیارہ چاند کی روشنی سے تقریباً دگنا روشنی منعکس کرتا ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ شاید عطارد کی سطح پر کسی تاریک مواد — جیسے گریفائٹ — کی ایک تہہ موجود ہے۔
عطارد کی سطح کافی تاریک ہے، جس سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ گریفائٹ سے ڈھکی ہوئی ہے۔ یہ مرکب تصویر، جو خلائی جہاز میرینر 10 نے لی تھی کو اس طرح رنگا گیا ہے کہ سیارے کے تقریباً اصل رنگ کو ظاہر کرے۔عطارد کے ماخذ کو واقعی سمجھنے کے لیے سائنس دان اس سیارے پر اترنے کے منصوبے تیار کر رہے ہیں تاکہ وہاں سے نمونے لائے جا سکیں۔ یہ بیپی کولومبو کی ابتدائی تجویز کا حصہ تھا، لیکن لاگت اور پیچیدگی کی وجہ سے اسے فی الحال ترک کر دیا گیا۔
روتھری کہتے ہیں کہ ’ہم جو واقعی چاہتے ہیں وہ عطارد کا ایک نمونہ ہے، جس سے ہم بالکل جان سکیں گے کہ یہ سیارہ کس چیز سے بنا ہے۔‘
ایسا فوری طور پر تو کوئی مشن زیر غور نہیں ہے مگر کچھ تجاویز ضرور دی گئی ہیں۔
روتھری کہتے ہیں کہ ’اس سیارے پر اترنے کے بجائے ہماری سب سے بڑی اُمید یہ ہے کہ ہمیں کوئی شہابِ ثاقب مل جائے جو عطارد سے آیا ہو۔‘ یہ ممکن بھی ہے۔ مریخ کے سینکڑوں شہابِ ثاقب زمین پر ملے ہیں، لیکن کوئی بھی ایسا نہیں جو یقینی طور پر عطارد (یا زہرہ) سے آیا ہو۔
یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ زمین پر پائے جانے والے شہابِ ثاقب کی ایک نایاب قسم، جسے ’اوبریٹاس‘ (ایک قسم کی اکونڈریٹ) کہا جاتا ہے، دراصل ایک فرضی ’پروٹو عطارد‘ کے ٹکڑے ہیں۔ یہ وہ بڑا ابتدائی سیارہ ہے جو کسی دوسرے جسم سے ٹکرا گیا تھا۔
موربیدیلی کے مطابق یہ خیال ایک ’غیر معقول قیاس آرائی‘ ہے، لیکن پھر بھی پُرکشش ہے، کیونکہ ان کی کیمیائی اور معدنیاتی ساخت وہی ہے جو ہم سمجھتے ہیں کہ ایک پروٹو عطارد کی ہو سکتی تھی۔
سائنس دان یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ عطارد سورج کے اتنے قریب کس طرح موجود ہےفرانس کی یونیورسٹی آف لورین کی پیٹرولاجسٹ کیمیل کارٹیئر آئندہ برسوں میں اس امکان کی تحقیق کے لیے اوبریٹا (ایک قسم کا شہابِ ثاقب) پر مطالعہ کی قیادت کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارے پاس اوبریٹا شہابِ ثاقب کا ایک شاندار ذخیرہ ہے‘، جس میں ان کی ٹیم کے جمع کیے گئے تقریباً 20 مختلف نمونے شامل ہیں۔ اب وہ ان کا مطالعہ کریں گے تاکہ یہ جان سکیں کہ آیا یہ واقعی عطارد کے ٹکڑے ہیں۔
کارٹیئر کے مطابق ’ہمیں اس مفروضے کے حق یا مخالفت میں ٹھوس شہادت حاصل کرنی چاہیے۔‘
عطارد کی تشکیل کو سمجھنے کے لیے اصل میں یہ جاننا ضروری ہے کہ سیارے کس طرح بنتے ہیں۔ کیا عطارد محض ایک اتفاق تھا، نظامِ شمسی میں کسی تیز رفتار تصادم کا نتیجہ، یا کچھ زیادہ عام؟ نکولا توسی تجویز کرتے ہیں کہ ’شاید عطارد کوئی اتنا نایاب جسم نہیں بلکہ سیاروی تشکیل کا قدرتی نتیجہ ہے۔‘
فی الحال عطارد کے ماخذ کا معمہ برقرار ہے۔ آخر ہمارے نظامِ شمسی میں یہ عجیب طور پر چھوٹا اور انتہائی دھاتی سیارہ کیوں موجود ہے، اور کیا دیگر ستاروں کے اپنے عطارد بھی ہیں؟
ظاہری طور پر عطارد ایک بھورا سا جہاں ہے جس میں کوئی خاص دلچسپی دکھائی نہیں دیتی، لیکن اندرونی طور پر یہ پراسرار دنیا نظامِ شمسی کے سب سے دلچسپ مقامات میں سے ایک ہو سکتی ہے۔
جینیفر سکورا کہتی ہیں کہ ’ممکن ہے کہ عطارد محض ایک غیر ممکنہ سیارہ ہو، ایسا جو زیادہ تر زمانی خطوط میں وجود نہیں رکھتا، لیکن ہمارے میں موجود ہے۔‘