ایلون مسک کی ٹیسلا کو مات دینے والی چینی گاڑی جس کی قیمت بھی اپنے حریفوں سے کم ہے

یہ پہلا موقع ہے کہ بی وائی ڈی نے سالانہ فروخت میں اپنے امریکی حریف کو مات دی ہے۔بی وائی ڈی نے اعلان کیا کہ گزشتہ سال اس کی بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت تقریباً 28 فیصد بڑھ کر 22 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ ہو گئی۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ ٹیسلا کی کاروں کی فروخت میں کمی آئی ہے۔
الیکٹرک کار
Getty Images

الیکٹرک کار بنانے والی چین کی بڑی کمپنی بی وائی ڈی نے امریکی کمپنی ٹیسلا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک وہیکلز بنانے والی کمپنی کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ بی وائی ڈی نے سالانہ فروخت میں اپنے امریکی حریف کو مات دی ہے۔

بی وائی ڈی نے اعلان کیا کہ گزشتہ سال اس کی بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت تقریباً 28 فیصد بڑھ کر 22 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ ہو گئی۔

دوسری جانب ٹیسلا نے بتایا کہ 2025 میں اس کی گاڑیوں کی عالمی فروخت تقریباً نو فیصد کم ہو کر 16 لاکھ 40 ہزار یونٹس رہی۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ ٹیسلا کی کاروں کی فروخت میں کمی آئی ہے۔

امریکی کمپنی ٹیسلا کے لیے یہ سال مشکل رہا، نئی گاڑیوں پر ملا جلا ردعمل، ایلون مسک کی سیاسی سرگرمیوں پر بے چینی اور چینی کمپنیوں کی سخت مسابقت نے اس کے کاروبار کو متاثر کیا ہے۔

سال 2025 کے آخری تین ماہ میں ٹیسلا کی فروخت میں 16 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کمی کی ایک وجہ اس حکومتی سبسڈی کا خاتمہ بھی قرار دیا جا رہا ہے جس کے تحت بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں، پلگ اِن ہائبرڈ اور فیول سیل گاڑیوں کی قیمت میں 7,500 ڈالر تک کمی کی جاتی تھی۔

وال سٹریٹ کے تجزیہ کاروں نے 2026 میں ٹیسلا کی فروخت بھی کم ظاہر کی ہے جس سے کمپنی کے مستقبل کے بارے میں نسبتا مایوس کن منظرنامہ ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔

چین کی سب سے بڑی الیکٹرک کار کمپنی بی وائی ڈی سمیت گیلی(Geely)، ایم جی سمیت دیگر کمپنیوں نے مغربی حریفوں پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اپنی گاڑیوں کی قیمتیں معروف برانڈز سے کم رکھی ہیں۔

اکتوبر میں ٹیسلا نے فروخت بڑھانے کے لیے امریکہ میں اپنی دو سب سے زیادہ فروخت ہونے والی ماڈلز کے کم قیمت ورژن متعارف کرائے۔

الیکٹرک کار
Getty Images

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کے سامنے اب ایک بڑا چیلینج ہے کہ انھیں آئندہ دس سال میں ٹیسلا کی فروخت اور کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں نمایاں اضافہ کرنا ہے تاکہ وہ ریکارڈ ساز معاوضے کے پیکیج کے اہل ہو سکیں۔

نومبرمیں شیئر ہولڈرز کی جانب سے منظور کیے جانے والے اس معاہدے کے تحت ایلون مسک کو کھربوں ڈالرز(740 ارب پاؤنڈ) تک کی ادائیگی ہو سکتی ہے۔

تاہم اس معاہدے کے مطابق مسک کو دس برسوں میں دس لاکھ ہومینوئیڈ روبوٹس (انسان نما روبوٹس) بھی فروخت کرنا ہوں گے۔ ٹیسلا نے اپنے آپٹیمس پروڈکٹ اور خودکار روبوٹیکسیز میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کمپنی کے شیئرز کو ریکارڈ سطح تک پہنچانے والے ٹیسلا کی روبوٹیکسی اور خودکار ڈرائیونگ کی لانچنگ 2026 میں اس کی مجموعی کارکردگی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوگی۔

اگرچہ ٹیسلا کی خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیتوں پر بڑے سوالات اٹھائے گئے ہیں اس کے باوجود بعض ماہرین پرامید ہیں۔

مالیات پر نظر رکھنے والی لاس اینجلس کی کمپنی ویڈبش سیکیورٹیز کے ڈین آئیوز کا دعویٰ ہے کہ کیونکہ دنیا کی کوئی اور کمپنی اس پیمانے اور دائرہ کار کا مقابلہ نہیں کر سکتی لہذا آئندہ دہائی میں ٹیسلا خودکار ڈرائیونگ مارکیٹ کا تقریباً 70 فیصد حصہ اپنے پاس رکھے گی۔

ٹیسلا کے علاوہ ایلون مسک کے کاروبار میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس راکٹ کمپنی سپیس ایکس اور سرنگیں کھودنے والی بورنگ کمپنی بھی شامل ہیں۔

ایلون مسک نے انھی ذمہ داریوں کے ساتھ گزشتہ سال کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے محکمہ برائے حکومتی کارکردگی (Doge) بھی چلایا جس پر کچھ سرمایہ کاروں نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ وہ ٹیسلا پر پوری توجہ نہیں دے رہے۔

اور پھر کچھ عرصے بعد مسک نے امریکی حکومت میں اپنی ذمہ داریوں سے علیحدگی اختیار کر لی۔

اگرچہ حالیہ چند سالوں میں بی وائی ڈی کو تیزی سے کامیابی تو ملی تاہم 2025 میں اس کی فروخت کی رفتار پانچ سال میں سب سے کم رہی۔ اس کی ایک بڑی وجہ چین میں شدید مسابقت ہے جو کمپنی کی سب سے اہم مارکیٹ ہے۔

اگرچہ گاڑیوں کی فروخت میں بی وائی ڈی نے ٹیسلا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے لیکن منافع کے لحاظ سے امریکی کمپنی ٹیسلا حالیہ سہ ماہی میں زیادہ کامیاب رہی ہے۔

باوجود اس کے کہ کئی ممالک نے چین کی الیکٹرک گاڑیوں پر بھاری ٹیکس لگا رکھے ہیں، بی وائی ڈی اب بھی دنیا کی ایک بڑی الیکٹرک گاڑی بنانے والی کمپنی ہے غالباً اس کی وجہ اکثر دیگر کمپنیوں سے قیمتیں کم ہونا ہے۔

شینزن میں قائم یہ کمپنی تیزی سے دنیا بھر میں پھیل رہی ہے،خاص طور پر لاطینی امریکہ، جنوب مشرقی ایشیا اور یورپ کے کچھ حصوں میں اس نے اپنی جگہ بنائی ہے۔

اکتوبر میں بی وائی ڈی نے بتایا کہ چین کے بعد برطانیہ اس کی سب سے بڑی مارکیٹ بن گیا ہے۔ کمپنی نے دعویٰ کیا کہ برطانیہ میں اس کی فروخت ستمبر کے آخر تک ایک سال میں 880 فیصد بڑھ گئی اور اس کی ایس یو وی کار ’سیل یو‘ کے پلگ اِن ہائبرڈ ورژن کی زبردست مانگ رہی۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US