سٹیج پر ایک بڑی میز کے پیچھے بیٹھے تمام ملکوں کے سربراہان ِ حکومت کوباری باری خطاب کرنا تھا۔ 12 اکتوبر 1999 کو وزیرِ اعظم نواز شریف کو ہٹا کر اقتدارسنبھالنے والے جنرل پرویز مشرف بھی ان میں شامل تھے۔
پرویز مشرف: ’اپنی تقریر ختم کرکے میں سیدھا وزیر اعظم واجپائی کے سامنے جاکھڑا ہوا اور مصافحے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔ اُن کے پاس کھڑے ہو کر اسے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا‘یہ جنوری 2002 کا پہلا ہفتہ تھا جب نیپال میں جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم(سارک) کی 11ویں سربراہی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
یہ کانفرنس پہلے ہی انڈیا اور پاکستان کشیدگی کے باعث قریباً دو سال کی تاخیر سے منعقد کی جا رہی تھی اور پھر اس کا آغاز ایک روز کے لیے مزید مؤخر ہوا کیونکہ پاکستان کے صدر پرویز مشرف کو فضائی بندش کے باعث انڈیا کے مختصر راستےکی بجائے چین کے لمبے راستے سے نیپال پہنچنے میں چند گھنٹے تاخیر ہو گئی تھی۔
لیکن اخباری خبروں کے مطابق پاکستان نے الزام لگایا تھا کہ انڈیا نے کٹھمنڈو کے ساتھ مل کر یہ اجلاس ایک دن مؤخر کرایا تاکہ طلوعِ صبح کے مسحور کن منظر کے لیے مشہور، نگرکوٹ میں ریٹریٹ کے دوران وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور صدر پرویز مشرف کی ممکنہ ملاقات روکی جا سکے۔
پاکستانی حکومت کے اُس وقت کے ترجمان اشفاق احمد گوندل کے مطابق اُس روز صدر مشرف ساڑھے تین بجے نیپال پہنچ چکے تھے، اس لیے اجلاس چار بجے شروع ہو سکتا تھا۔
بہرحال کانفرنس کا افتتاح جمعہ کی بجائے ہفتہ کو ہوا۔
سارک کانفرنس کے انعقاد سے چند ماہ قبل نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں دیگر سرکاری عمارتوں کے ساتھ ساتھ ’بیرندرا انٹرنیشنل کنونشن سینٹر‘ کو بھی نذر آتش کیا گیا تھا، اور اسی کنونشن سینٹر میں اس سربراہی کانفرنس کا افتتاحی اجلاس تھا۔
سٹیج پر ایک بڑی میز کے پیچھے بیٹھے تمام ملکوں کے سربراہان حکومت کو باری باری خطاب کرنا تھا۔ 12 اکتوبر 1999 کو وزیرِ اعظم نواز شریف کو ہٹا کر اقتدارسنبھالنے والے جنرل پرویز مشرف بھی اُن میں شامل تھے۔
صدر مشرف نے اپنی تقریر میں سارک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم کسی حد تک اپنی راہ کھو چکا ہے۔
ٹریبیون نیوز سروس کے نامہ نگار ٹی آر رام چندرن کے مطابق نیپال، سری لنکا اور بنگلا دیش جیسے رُکن ممالک میں یہ تشویش پائی جاتی تھی کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان مسلسل کشیدگی سارک کی پیش رفت میں رکاوٹ نہ بن جائے۔
’اس مصافحے پر ہال میں تالیوں کی گونج قریب قریب کانوں کو بہرا کر دینے والی تھی‘اس سے قبل فروری 1999 میں انڈیا کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کے ساتھ 21 فروری 1999 کو لاہور اعلامیے پر دستخط کیے تھے۔
اعلامیے میں دونوں حکومتوں نے ایٹمی حادثات سے بچاؤ، کشمیر سمیت تمام اہم تنازعات پر مذاکرات اور معاشی اور علاقائی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا تھا۔
واجپائی نے لاہور کے مینار پاکستان پر کھڑے ہو کر یہ نظم پڑھی تھی:
جنگ نہ ہونے دیں گے، ہم جنگ نہ ہونے دیں گے
جو ہم پر گزری، بچوں کے سنگ نہ ہونے دیں گے
لیکن مئی 1999 میں شروع ہونے والی کارگل جنگ نے امن کے اس عمل کو دھچکا لگایا اور لاہور اعلامیہ غیر موثر ہو کر رہ گیا۔ سنہ2001 میں واجپائی، مشرف آگرہ سربراہی ملاقات کی ناکامی کے باعث کشیدگی بڑھ رہی تھی۔
سارک کانفرنس میں مشرف نے اپنی تقریر میں تجویز کیا کہ آگے بڑھنے کا راستہ یہ ہے کہ سارک کو حقیقی معنوں میں مؤثر بنایا جائے اور اس کے ذریعے اختلافات کم کیے جائیں، خودمختار مساوات کی بنیاد پر تنازعات حل کیے جائیں۔
اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ ’ہم میں سے کوئی خود کو دوسروں سے زیادہ برابر نہ سمجھے۔‘
انگریزی روزنامہ ڈان کے نامہ نگار جاوید نقوی کے مطابق یہاں ان کی تقریر سمٹ سکتی تھی، مگر پھر انھوں نےایک ایسا اقدام کیا جس سے ان کے قریبی معاونین بھی بے خبر تھے۔
انھوں نے انڈین وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی طرف رُخ کرتے ہوئے کہا ’اس سٹیج سے اُترتے ہوئے میں وزیر اعظم واجپائی کی جانب دوستی کا ایک مخلص اور سچا ہاتھ بڑھاتا ہوں۔ ہمیں مل کر جنوبی ایشیا میں امن، ہم آہنگی اور ترقی کے سفر کا آغاز کرنا چاہیے۔‘
یہ اُن کی لکھی ہوئی تقریرسے ہٹ کر تھا۔ مگر اگلا قدم اس سے بھی بڑھ کر ہونے والا تھا۔
اپنی کتاب ’اِن دی لائن آف فائر‘ میں مشرف لکھتے ہیں کہ ’اپنی تقریر ختم کرکے میں سیدھا وزیر اعظم واجپائی کے سامنے جاکھڑا ہوا اور مصافحے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔ اُن کے پاس کھڑے ہو کر اسے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔‘
’سرکاری وقار سے بوجھل ہال میں حیرت (اور شاید تحسین) کی ایک بلند سرگوشی پھیل گئی کہ ’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘ کے وزیر اعظمپر یوں سبقت لے لی گئی تھی۔‘
نقوی لکھتے ہیں کہ تالیوں کی گونج قریب قریب کانوں کو بہرا کر دینے والی تھی اور انڈیا اور پاکستان کے میڈیا کے کئی ارکان بھی لمحہ بھر کو پیشہ ورانہ ضبط کھو کر تالیاں بجاتے دکھائی دیے۔
پاکستانی صحافی آغا مسعود حسین اس کانفرنس میں شریک تھے۔ اپنے ایک کالم میں وہ لکھتے ہیں کہ ہال میں موجود تمام لوگ کھڑے ہو گئے اور بہت دیر تک تالیاں بجاتے رہے۔ دوسرے دن سارک ممالک میں تمام بڑے بڑے اخبارات نے اسے ’تاریخی مصافحہ‘ قرار دیا۔
مشرف نے لکھا ہے کہ ’واجپائی کونیچا دکھانا میرا مقصد ہرگز نہ تھا، مقصد آگرہ میں پیدا ہونے والے تعطل کو توڑنا تھا۔‘
نقوی کے مطابق جنرل مشرف کی تقریر واجپائی سے تین مقررین پہلے ہوئی تھی، جس سے انڈین رہنما کو اپنی تقریر پر نظرِ ثانی کا موقع مل گیا۔

واجپائی کا جواب اگرچہ جوش کو کسی حد تک کم کرنے والا تھا، تاہم پاکستانی حکام کے مطابق اس میں کچھ مثبت پہلو بھی تھے، اگرچہ وہ قدرے ہچکچاہٹ کے ساتھ سامنے آئے۔
واجپائی نے کہا: ’مجھے خوشی ہے کہ صدر مشرف نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ میں نے آپ کی موجودگی میں ان سے مصافحہ کیا ہے۔ اب صدر مشرف کو اس اشارے کے بعد یہ یقینی بنانا ہو گا کہ پاکستان یا اس کے زیرِ انتظام کسی علاقے سے ایسی کوئی سرگرمی نہ ہو جو انڈیا میں دہشت گردی کو ممکن بنائے۔‘
نقوی لکھتے ہیں کہ جنرل مشرف کی تقریر اور واجپائی کے ردِعمل نے آگرہ سربراہی ملاقات کی ناکامی کے بعد دونوں رہنماؤں کی پہلی ملاقات کی صورت اختیار کی، وہی آگرہ جہاں 16 جولائی کو واجپائی انھیں رخصت کرنے باہر بھی نہ آئے تھے۔
’صدر مشرف نے ہفتے کی تقریر میں کشمیر کا نام لیے بغیر بات کی، اور یہ حکمتِ عملی کارگر ثابت ہوئی، کیونکہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ جسونت سنگھ اور عبد الستار کی ملاقات ممکن ہو سکی، جو چند دن پہلے تک ناقابلِ تصور تھی۔‘
’اگرچہ اس ملاقات کی نوعیت پر مختلف تشریحات سامنے آئیں، واجپائی حسبِ توقع اجلاس کے غیر رسمی حصے (ریٹریٹ) میں شریک نہیں ہوئے اور جنرل مشرف کی فوری پیش رفت کی خواہش سے گریز کیا، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں رہنماؤں کی آئندہ ملاقات کے امکانات روشن ہو گئے تھے۔‘
صحافی کرشن کمار (کے کے) کٹیال نے اپنی کتاب ’جرنی ٹو ایمیٹی: انڈیا اینڈ مشرف پاکستان‘ میں لکھا ہے کہصدر مشرف نے غیر متوقع طور پر واجپائی کی نشست تک جا کر دوستی کا ہاتھ بڑھایا، جسے ایک علامتی سفارتی پیش رفت سمجھا گیا۔ اس کے باوجود دونوں جانب اس بات پر اختلاف رہا کہ آیا کوئی باضابطہ ملاقات ہوئی بھی یا نہیں۔
’اگرچہ یہ رابطہ سابقہ عدم رابطے کی کیفیت سے ایک محدود پیش رفت تھا، مگر کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہ آ سکا۔‘
البتہ اپنی کتاب میں مشرف لکھتے ہیں: ’مجھے خوشی ہوئی کہ اس مصافحے نے مطلوبہ اثر دکھایا۔‘
’وزیر اعظم واجپائی نے جنوری 2004 میں سارک سربراہی اجلاس کے لیے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ ہماری ملاقات خوشگوار رہی اور اس بار ہم ایک تحریری مشترکہ اعلامیے پر متفق ہوئے، جو بعد میں ’اسلام آباد اعلامیہ‘ کے نام سے معروف ہوا۔ ہم نے ’جامع مذاکرات‘ کے ذریعے، جس میں جموں و کشمیر کا تنازع بھی شامل تھا، امن عمل کو آگے بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا۔‘
تاہم یہ سلسلہ بھی زیادہ آگے نہ بڑھ سکا۔
مشرف لکھتے ہیں کہ ’جامع مذاکرات کے رفتار پکڑنے سے پہلے ہی انڈیا میں قبل از وقت انتخابات ہو گئے اور وزیر اعظم واجپائی کی جماعت، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) شکست کھا گئی۔‘
’سونیا گاندھی کی کانگریس پارٹی نے نئی مخلوط حکومت تشکیل دی، جس میں وزیر اعظم کے طور پر من موہن سنگھ آئے۔ اس تبدیلی نے امن عمل کا پورا منظرنامہ بدل دیا۔ مجھے افسوس ہے کہ آگرہ کے ایک سال بعد یہ موقع بھیضائع ہو گیا۔‘
کٹیال کے مطابق آگرہ اور کٹھمنڈو مختلف حالات کی پیداوار تھے: آگرہ ایک دوطرفہ امن کوشش تھی جو کشمیر پر اختلافات کے باعث ناکام ہوئی، جبکہ کٹھمنڈو ایک علاقائی اجلاس تھا جو پاک انڈیا کشیدگی کے زیرِ سایہ رہا۔ دونوں مواقع پر امید کی جھلک ضرور نظر آئی، مگر پائیدار پیش رفت نہ ہو سکی۔