پاکستانی شہری سے پسند کی شادی کرنے والی انڈین خاتون سربجیت کور کو بعض سفری دستاویزات مکمل نہ ہونے کے باعث ابھی تک انڈیا روانہ نہیں کیا جا سکا اور ان کو واپس بھیجنے کا عمل تاحال تاخیر کا شکار ہے۔
پاکستانی شہری سے پسند کی شادی کرنے والی انڈین خاتون سربجیت کور (نور فاطمہ) کو سفری دستاویزات مکمل نہ ہونے کے باعث ابھی تک انڈیا روانہ نہیں کیا جا سکا اور اُن کی ملک بدری کا عمل تاحال تاخیر کا شکار ہے۔
پنجاب کے اقلیتی اُمور کے وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے بی بی سی کو بتایا کہ سربجیت کور کو واپس بھیجنے کے لیے پیر (پانچ جنوری) کے روز واہگہ بارڈر پہنچایا گیا تھا تاہم ان کے سفری کاغذات میں کچھ تکنیکی مسائل تھے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ’میری اطلاعات کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے بھی تاحال سربجیت کور کو انڈیا واپس بھجوائے جانے کا این او سی جاری نہیں کیا گیا، کیونکہ انھوں (سربجیت) نے پاکستان میں اوور سٹے (ویزے کی معیاد سے زیادہ قیام) کیا تھا اسی لیے وہ وزارت داخلہ کی اجازت کے بغیر قانوناً ملک سے باہر نہیں جا سکتی ہیں۔‘
دوسری جانب واہگہ بارڈر پر موجود ذرائع نے بی بی سی کی شمائلہ خان کو بتایا کہ سربجیت کور کو پیر کے روز یہاں لایا گیا تھا لیکن چونکہ اُن کے ویزے کی معیاد ختم ہو چکی تھی اس لیے انھیں پاکستان سے روانہ کرنے کے لیے وزارت داخلہ کی اجازت درکار تھی۔
انھوں نے کہا کہ کاغذات مکمل ہونے پر ہی اُن کی امیگریشن ہو گی، لیکن چونکہ وزارت داخلہ نے ابھی تک این او سی (اجازت نامہ) نہیں دی تھی لہذا انھیں واہگہ بارڈر سے واپس بھیج دیا گیا۔
دوسری جانب سربجیت کور کے وکیل احمد حسن پاشا نے بی بی سی اردو سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ سربجیت کور کو اُن کی مرضی سے انڈیا واپس بھجوایا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ فارنرز ایکٹ 1946 کے تحت سربجیت کور فی الحال پاکستان میں قیام کی مجاز نہیں تھیں اور اسی لیے انھیں واپس انڈیا روانہ کیا جا رہا ہے۔
احمد حسن پاشا کہتے ہیں کہ سربجیت کور اب انڈیا سے ’سپاؤز ویزہ‘ حاصل کریں گی جس کے بعد وہ دوبارہ پاکستان آ سکتی ہیں اور پاکستان آ کر یہاں مستقل رہائش کی درخواست دے سکتی ہیں۔
’سربجیت کور کے پاس یاتری ویزہ تھا جس کی معیاد صرف دس روز تھی، یاتری ویزہ محدود شہروں کا ہوتا ہے اور اس میں توسیع نہیں ہو سکتی تھی۔‘
سربجیت کور کے خلاف ہائیکورٹ میں کیس کی پیروی کرنے والے وکیل علی چنگیزی سندھو ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ان کا کیس تاحال عدالت عالیہ میں زیر سماعت ہے اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے پانچ دسمبر کی سماعت کے دوران فیڈرل کیبنٹ ڈویژن، آئی جی پنجاب پولیس اور ایف آئی اے سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے رپورٹس طلب کر رکھی ہیں اور پاکستانی ادارے اسی لیے سربجیت کور کو جلد از جلد ان کے ملک بھجوانا چاہتے ہیں۔
سربجیت کور اور اُن کے شوہر زیرِ حراست
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے اتوار کی شب تصدیق کی تھی کہ سربجیت کور اور اُن کے پاکستانی شوہر ناصر حسین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
رمیش سنگھ اروڑہ نے بتایا تھا کہ 48 سالہ سربجیت کور کو ممکنہ طور پر واہگہ کے راستے انڈیا بھیجا جا سکتا ہے جبکہ ان کے پاکستانی شوہر کے خلاف ملکی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
سربجیت کور چار نومبر کو سکھ یاتریوں کے جتھے کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں اور اُن کے ویزے کی معیاد 13 نومبر تک تھی تاہم وہ واپس انڈیا نہ گئیں اور وسطی پنجاب کے شہر شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے شادی کر لی، جس کے بعد یہ مسلسل پاکستان میں ہی قیام پذیر تھیں۔
صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ کے مطابق چار جنوری کو ننکانہ صاحب کے ایک گاؤں ’پہرے والی‘ میں سربجیت کور اور ناصر حسین کی موجودگی کے بارے میں اطلاع ملنے پر خفیہ تحقیقاتی ادارے کی ٹیم نے فوری کارروائی کی۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے دوران سربجیت اور ناصر کو حراست میں لے لیا گیا اور پھر انھیں ننکانہ صاحب پولیس کے حوالے کیا گیا اور اب یہ دونوں تھانہ صدر میں زیرِ حراست ہیں۔
صوبائی وزیر کے مطابق پولیس اور انٹیلیجنس بیورو کے افسران نے ان سے مشترکہ طور پر تفتیش کی جس سے علم ہوا کہ سربجیت اور ناصر سنہ 2016 میں ٹک ٹاک پر ملے اور ان دونوں نے متعدد مواقع پر ویزے کے لیے درخواستیں بھی دیں، تاہم قانونی وجوہات کی بنا پر اُن کی ویزا درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔
رمیش اروڑہ کے مطابق چار نومبر 2025 کو ناصر گوردوارہ جنم ستھان، ننکانہ صاحب، گئے جہاں سے وہ سربجیت کور کے ساتھ اپنے آبائی علاقوں یعنی فاروق آباد ضلع شیخوپورہ چلے ائے۔
صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ تحقیقات کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ سربجیت کور کو ملک بدری کی مزید کارروائی کے لیے ای ٹی پی بی (متروکہ وقف پراپرٹی بورڈ) کے حوالے کیا جائے گا، جو کہ اسے ملکی قانون کے مطابق انڈیا واپس بھجوائے گا جبکہ اس کا شوہر زیر تفتیش رہے گا اور اس کے موبائل فون کے فرانزک تجزیہ کروایا جائےگا، جس کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
عدالت کا جوڑے کو ہراساں نہ کرنے کا حکم
خیال رہے کہ نومبر میں سربجیت کور کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پولیس کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
سربجیت کے وکیل احمد حسن پاشا کے مطابق پنجاب پولیس نے آٹھ نومبر کو سربجیت اور ناصر کی تلاش میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا اور ان پر شادی ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا اور اس درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ پولیس سربجیت کور اور ناصر حسین کی شادی شدہ زندگی میں مداخلت نہ کرے۔
سماعت کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس فاروق حیدر نے پنجاب پولیس کو سربجیت کو ہراساں کرنے سے روک دیا تھا اور اس بارے میں آئی جی پنجاب پولیس کو احکامات جاری کیے تھے۔
تاہم شیخوپورہ پولیس کے ترجمان رانا یونس نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ پولیس نے کسی انڈین خاتون یا اس کے پاکستانی شوہر کو ہراساں نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس بارے جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ حقیقت کے برعکس ہیں اور پولیس کا ان کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ 'چونکہ یہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے اس لیے اسے مختلف ادارے دیکھ رہے ہیں اور جو فیصلہ بھی ہو گا وہ پاکستان کے قانون کے مطابق ہی ہو گا۔‘
سربجیت کے وکیل کا کہنا ہے کہ انھوں نے 15 نومبر کو ’دونوں کو اپنے چیمبر بلایا تھا تاکہ یہ دونوں ملکی اداروں کے افسران کے روبرو اپنے بیانات قلمبند کروا سکیں لیکن وعدہ کرنے کے باوجود دونوں میاں بیوی نہیں آئے اور ناصر حسین کا موبائل فون بھی بند ہو گیا ہے۔‘
قبولِ اسلام اور نکاح
سربجیت کور چار نومبر کو سکھ یاتریوں کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں اور انھیں اگلے روز بابا گورونانک کے یوم پیدائش کے موقع پر ننکانہ صاحب جانا تھا مگر سات نومبر کو خاتون کی طرف سے شیخوپورہ کے جوڈیشل مجسٹریٹ میں دائر کیے گئے بیان کے مطابق انھوں نے پاکستان آمد کے بعد اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور ناصر حسین نامی پاکستانی شہری سے شادی کر لی تھی۔
اس بیان میں ان کے وکیل احمد حسن پاشا ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اس شادی کا اندراج شیخوپورہ کی متعلقہ یونین کونسل میں کرایا گیا۔
شیخوپورہ کے جوڈیشل مجسٹریٹ محمد خالد محمود وڑائچ کی عدالت میں جو دستاویزات جمع کروائے گئے ہیں ان کے مطابق سربجیت کور نے قاری حافظ رضوان بھٹی کے ہاتھوں اسلام قبول کیا جس کے بعد ان کا اسلامی نام ’نور‘ رکھا گیا۔ انھیں پانچ نومبر کو سند قبولِ اسلام جاری کی گئی تھی۔
عدالت میں جو نکاح نامہ جمع کروایا گیا، اس کے مطابق ناصر حسین کی عمر 43 سال جبکہ دلہن کی عمر ساڑھے 48 سال بنتی ہے۔ نکاح نامے کے مطابق حق مہر دس ہزار روپے مقرر کیا گیا۔
اس میں یہ بھی درج ہے کہ ناصر حسین پہلے سے شادی شدہ ہیں اور انھیں دوسری شادی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔
انڈین خاتون کی جانب سے پولیس کے خلاف عدالت میں ایک شکایت بھی دائر کی گئی ہے جس میں پولیس پر دھمکیاں دینے اور جھوٹا مقدمہ درج کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
انھوں نے جوڈیشل مجسٹریٹ محمد خالد محمود وڑائچ کی عدالت میں زیرِ دفعہ 200 کے تحت دائر کیے جانے والے استغاثہ میں موقف اختیار کیا کہ انھوں نے اپنی خوشی سے ناصر حسین سے نکاح کیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا، میں نے اپنی آزاد مرضی سے شادی کر لی۔ میں اپنے والدین کے گھر سے صرف تین کپڑوں میں آئی ہوں اور کوئی چیز اپنے ساتھ نہیں لائی ہوں۔‘
اس بیان میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پولیس میرے نکاح کرنے کی وجہ سے سخت ناراض ہے اور 5 نومبر کو رات 9 بجے پولیس اہلکار زبردستی ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور مجھے کہا کہ ہمارے ساتھ چلو مگر میرے انکار پر وہ غصے میں آ گئے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’میرے شور مچانے پر اہل محلہ بھی آ گئے جنھوں نے منت سماجت کر کے ہماری جان بخشی کروائی۔‘ انڈین خاتون نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ انھیں اور ان کے خاوند کو پولیس سے تحفظ فراہم کیا جائے۔
سربجیت کور ناصر حسین کو ’نو سال سے جانتی تھیں‘
انڈین میڈیا کی خبروں کے مطابق سربجیت کا تعلق ریاست پنجاب کے ضلع کپور تھلہ سے ہے جہاں کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر تحقیقات جاری ہیں۔
انڈین نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق وہ تقریباً دو ہزار سکھ یاتریوں کے گروہ میں شامل تھیں۔ یہ گروپ 10 دن کے دورے کے بعد 13 نومبر کو انڈیا واپس آیا لیکن سربجیت کور ان کے ساتھ واپس نہیں گئیں۔
کپور تھلہ پولیس کے اے ایس پی دھیریندر ورما کا کہنا ہے کہ سربجیت کی طرف سے مذہب کی تبدیلی کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں جنوری 2024 کو پاسپورٹ جاری کیا گیا تھا۔
انڈین میڈیا کی خبروں کے مطابق سربجیت طلاق یافتہ ہیں اور ان کی پچھلی شادی سے دو بیٹے ہیں جبکہ ان کے سابقہ شوہر قریب تین دہائیوں سے انگلینڈ میں مقیم ہیں۔
ضلع کپور تھلہ کے گاؤں تلوندی چوہدریاں کے ایس ایچ او نرمل سنگھ کے مطابق انھیں اس بارے میں اطلاع گاؤں کے سرپنچ سے ملی۔
ان کے مطابق پولیس ابھی تکسربجیت کور کے خاندان والوں سے بات نہیں کر سکی کیونکہ ان کے بیٹے ابھی گھر پر موجود نہیں ہیں۔
دوسری طرف وکیل احمد حسن پاشا کا کہنا ہے کہ ناصر حسین پیشے کے اعتبار سے زمیندار ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کے ساتھ ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں سربجیت کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ان کی طلاق ہو گئی ہے اور انھوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنے اور ناصر حسین سے شادی کا فیصلہ کیا۔
وہ کہتی ہیں کہ وہ ناصر حسین کو نو سال سے جانتی ہیں۔
وکیل احمد حسن پاشا نے بتایا کہ سربجیت اور ناصر کی بات چیت انسٹاگرام پر ہوتی رہی ہے اور چھ ماہ قبل دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں ان کے پاس قانونی مدد کے لیے آئے تھے۔