وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبے سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے عوام کو 100 میگاواٹ شمسی بجلی کی فراہمی کے منصوبے کے تمام اخراجات خود برداشت کرے گی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ منصوبے پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور اسے جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
وزیراعظم نے منصوبے کے تمام مراحل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے غیر جانبدار تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کرانے کی بھی ہدایت دی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کی سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن کے لیے 18 میگاواٹ شمسی توانائی کا منصوبہ زیر عمل ہے۔ بریفنگ کے مطابق گلگت اور دیامیر ڈویژنز کی سرکاری عمارتوں کے لیے 18 میگاواٹ کا منصوبہ دسمبر 2026 تک جبکہ بلتستان ڈویژن کی سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن اکتوبر 2026 تک مکمل کر لی جائے گی۔
حکام نے مزید بتایا کہ گلگت، سکردو، چلاس اور خپلو میں گھریلو صارفین کے لیے 82 میگاواٹ شمسی توانائی کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے، جس سے مقامی آبادی کو سستی اور ماحول دوست بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔