ایران میں امریکہ سے معاہدے کی مخالفت: ’یہ دستاویز ملک کو امریکی کالونی بنا دے گی‘

ایرانی قیادت امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو پسپائی کے بجائے مزاحمت اور کامیابی کا نتیجہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایرانی قیادت امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو پسپائی کے بجائے مزاحمت اور کامیابی کا نتیجہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے
Reuters
ایرانی قیادت امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو پسپائی کے بجائے مزاحمت اور کامیابی کا نتیجہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے

ایرانی قیادت امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو پسپائی کے بجائے مزاحمت اور کامیابی کا نتیجہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم یہ مؤقف پیش کرنا آسان نہیں۔

ایران حال ہی میں ایک تباہ کن جنگ سے گزرا ہے، ملکی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے جبکہ اسلامی جمہوریہ کے حامی حلقوں کا ایک حصہ کئی ماہ سے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کی مفاہمت کی مخالفت کرتا رہا ہے۔

اس کے علاوہ ملک کے اندر اور بیرونِ ملک موجود بعض ایرانی حلقے اس بحران کو سفارت کاری کا موقع نہیں بلکہ حکومت کی تبدیلی کے امکان کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ایسے منقسم سیاسی ماحول میں تہران اب اس معاہدے کو عوام اور سیاسی حلقوں کے سامنے قابلِ قبول بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

سینئر ایرانی حکام نے اس معاہدے کو ایک اہم کامیابی قرار دیا۔ ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف اور مذاکرات میں نمایاں ایرانی شخصیت نے کہا کہ ایران نے ’حتمی فتح کی جانب ایک بڑا قدم اٹھایا۔‘

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس مفاہمت کو ایک ممکنہ انقلابی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر اس پر مکمل عمل درآمد ہوا تو یہ ایران کے بہت سے مسائل حل کر سکتی ہے اور ایران و مشرقِ وسطیٰ کے لیے ’ایک نئی دنیا‘ تشکیل دے سکتی ہے۔‘

تجزیہ کاروں کے مطابق باقر قالیباف کی کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ وہ صدر پزشکیان کے معتدل سیاسی دھڑے سے وابستہ نہیں سمجھے جاتے۔ ان کی جانب سے معاہدے کی کھل کر حمایت اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ سمجھوتہ اسلامی جمہوریہ کے طاقتور حلقوں، حتیٰ کہ پاسدارانِ انقلاب کے بعض بااثر عناصر کی بھی تائید حاصل کر چکا ہے۔

ایسے منقسم سیاسی ماحول میں تہران اب اس معاہدے کو عوام اور سیاسی حلقوں کے سامنے قابلِ قبول بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
EPA
ایسے منقسم سیاسی ماحول میں تہران اب اس معاہدے کو عوام اور سیاسی حلقوں کے سامنے قابلِ قبول بنانے کی کوشش کر رہا ہے

ایرانی قیادت اس معاہدے کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے کیونکہ تہران کے مؤقف کے مطابق امریکہ اور اسرائیل اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ’نہ تو ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکا، نہ اسلامی جمہوریہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا، نہ فوجی کارروائی کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کیا جا سکا اور نہ ہی ایران کے حزب اللہ کے ساتھ تعلقات منقطع کیے جا سکے۔‘

اس کے برعکس ایران اب بھی مذاکرات کی میز پر موجود ہے، لبنان کو بھی مذاکراتی فریم ورک کا حصہ بنایا گیا اور ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔

تاہم حکومت کا یہ بیانیہ ایران کے اندر متنازع حیثیت رکھتا ہے۔

ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ایک سخت گیر نائب چیئرمین نے مبینہ طور پر مجوزہ معاہدے کو ایسی دستاویز قرار دیا جو ایران کو ’امریکی کالونی‘ میں تبدیل کر دے گی۔

انھوں نے مذاکرات کاروں پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ انھوں نے رہبرِ اعلیٰ کی اس ہدایت کو نظرانداز کیا جس میں آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ نہ کھولنے کا کہا گیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنقید اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ نظامِ حکومت کے مخالفین کی جانب سے نہیں بلکہ قومی سلامتی کی نگرانی کرنے والے ایک اہم سرکاری ادارے کے اندر سے سامنے آئی۔

گزشتہ کئی ماہ سے پارلیمنٹ کے سخت گیر ارکان، ریاستی حمایت یافتہ میڈیا اور حکومت نواز اجتماعات میں یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا تھا کہ امریکہ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ’جنگ شروع ہونے سے کچھ ہی عرصہ قبل سفارتی مذاکرات جاری تھے لیکن ان کے بقول ٹرمپ انتظامیہ نے مذاکرات کو ایک پردے کے طور پر استعمال کیا جبکہ اسرائیل اور امریکہ فوجی کارروائی کی تیاری کر رہے تھے۔ ان کے نزدیک واشنگٹن کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ کمزوری یا خوشامد کے مترادف ہو سکتا ہے۔‘

تاہم حالیہ دنوں میں ان سخت گیر آوازوں میں کسی حد تک خاموشی دیکھی جا رہی ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ معاہدے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ ریاستی قیادت کی اعلیٰ ترین سطحوں سے منظوری کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

اس کے باوجود یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ نظام کے اندر مکمل اتفاقِ رائے موجود ہے۔ البتہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طاقت کے مرکز نے فی الحال یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ معاہدے کو مسترد کرنے کی سیاسی اور معاشی قیمت، سخت گیر حلقوں کی ناراضی برداشت کرنے کی قیمت سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے حالیہ فیصلوں کے پس منظر میں معاشی دباؤ اہم عنصر کے طور پر سامنے آیا۔

ایرانی قیادت اگرچہ اس معاہدے کو اپنی عسکری طاقت اور دباؤ کا نتیجہ قرار دے رہی ہے، جس میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے اقدامات اور امریکی و علاقائی توانائی مفادات کو نشانہ بنانے کا عنصر بھی شامل ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ معاشی مشکلات نے بھی تہران کو مذاکرات کی جانب بڑھنے پر مجبور کیا۔

جنگ، بین الاقوامی پابندیوں، بحری نقل و حمل پر عائد رکاوٹوں، تیل کی منڈیوں اور غیر ملکی زرمبادلہ تک محدود رسائی، نیز بلند ترین سطح کی مہنگائی نے ایرانی معیشت اور عام شہریوں کو شدید مغشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے۔

ایسے حالات میں بہت سے ایرانی خاندانوں کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت اس معاہدے کو کامیابی قرار دیتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا اس معاہدے کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی آئے گی، روزمرہ اشیا کی قیمتیں کم ہوں گی اور ایک نئی جنگ کے خدشات میں کمی واقع ہو گی یا نہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے حالیہ فیصلوں کے پس منظر میں معاشی دباؤ ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آیا ہے۔
Getty Images
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے حالیہ فیصلوں کے پس منظر میں معاشی دباؤ ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آیا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کو امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے نہیں دیے جائیں گے تاہم اگر تہران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے اور اس پر عائد پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو اسے اربوں ڈالر تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

اس بیان سے ایران کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اس معاہدے کو امریکہ پر انحصار کے بجائے سرمایہ کاری، اقتصادی بحالی اور تعمیرِ نو کے راستے کے طور پر پیش کرے۔

تاہم معاہدے سے متعلق کئی خطرات اور غیر یقینی صورتحال اب بھی موجود ہیں۔ اس معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آئیں جبکہ اس سلسلے میں مزید مذاکرات جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سب سے پیچیدہ معاملات، جن میں ایران کے افزودہ یورینیئم کا مستقبل، یورینیئم افزودگی کی مجاز سطح، نگرانی اور تصدیق کا نظام، پابندیوں میں نرمی، آبنائے ہرمز اور لبنان سے متعلق امور شامل ہیں، ابھی مذاکرات کی میز پر زیرِ بحث آئیں گے۔

دوسری جانب اسرائیل کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان سے نکل جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج لبنان میں ’جب تک ضرورت ہو گی‘ موجود رہیں گی۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’وہاں بہت زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ طے پانے سے کچھ دیر قبل بیروت پر ہونے والے اسرائیلی حملے پر وہ ناخوش تھے‘ تاہم اس کے باوجود انھوں نے زور دیا کہ نیتن یاہو کے ساتھ ان کے تعلقات بدستور بہترین ہیں۔

تہران کے لیے واشنگٹن اور اسرائیل کے درمیان یہ ظاہر ہونے والا اختلاف فائدہ مند سمجھا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام اسے اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کر سکتے ہیں کہ ایران کے دباؤ نے اسرائیل کی کارروائیوں کی آزادی کو محدود کر دیا۔

تاہم یہی صورتحال معاہدے کو نازک بھی بنا سکتی ہے۔ اگر اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو ایران پر ردِعمل دینے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر واشنگٹن اسرائیل کو روکنے میں ناکام رہتا ہے تو تہران کا یہ دعویٰ کہ لبنان بھی اس مفاہمتی فریم ورک کا حصہ ہے، جلد ہی ایک عملی امتحان سے گزر سکتا ہے۔

جبکہ بی بی سی فارسی کے ناظرین اور قارئین کے ردِعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے معاہدے کو ’فتح‘ قرار دینے والا بیانیہ عوامی سطح پر یکساں طور پر قبول نہیں کیا جا رہا اور اس حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی مفاہمت پر ایرانی عوام کے ردِعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاہدے کے بارے میں رائے عامہ منقسم ہے۔
Getty Images
ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی مفاہمت پر ایرانی عوام کے ردِعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاہدے کے بارے میں رائے عامہ منقسم ہے

ایک ایرانی شہری نے کہا کہ وہ ایک اور اسرائیلی حملے کے خدشے کے باعث شدید پریشانی میں مبتلا تھے لیکن معاہدے کی خبر سننے کے بعد بھی انھیں ’کوئی اعتماد نہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انھیں اس بات کی فکر ہے کہ اگر یہ معاہدہ برقرار رہا تو آیا ملک کو مؤثر انداز میں چلایا جا سکے گا یا نہیں۔‘

ایک اور حکومت مخالف ایرانی، جو ابتدا میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے حامی تھے، نے سوال اٹھایا کہ اگر اس کارروائی کے نتیجے میں ایران میں سیاسی تبدیلی نہیں آئی تو اس سے حاصل کیا ہوا؟ ان کے بقول ’ہمیں امید تھی کہ حکمران اور نظام تبدیل ہو جائے گا لیکن مزید مشکلات، مہنگائی اور معیشت کو نقصان پہنچنے کے سوا عوام کو کیا فائدہ ہوا؟‘

دوسری جانب بعض افراد نے حکومتی مؤقف کی حمایت بھی کی۔ ایک شہری نے ایران کو اس تنازع کا فاتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ نے ثابت کر دیا کہ پابندیاں ’منت سماجت‘ سے نہیں بلکہ طاقت کے استعمال سے ختم کروائی جا سکتی ہیں۔

ایک اور شہری نے محتاط انداز میں معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سے لوگوں کو نسبتاً سکون کے ساتھ اپنی روزمرہ زندگی اور کام کاج کی طرف واپس لوٹنے کا موقع ملے گا۔‘

انھوں نے کہا ’میرے خیال میں یہ عارضی انتظام ہے لیکن ہمیں چند ماہ کے سکون اور سانس لینے کے لیے مہلت کی ضرورت تھی۔‘

تجزیہ کاروں کے مطابق شاید یہی اس صورتحال کی سب سے حقیقت پسندانہ تشریح ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اس معاہدے کو کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے کیونکہ اسے محض ایک مجبوری کے طور پر عوام کے سامنے پیش کرنا آسان نہیں۔

تاہم بہت سے ایرانیوں کے نزدیک اس معاہدے کی کامیابی کا فیصلہ نعروں یا سیاسی بیانیوں سے نہیں ہوگا، بلکہ اس بات سے ہوگا کہ آیا جنگ واقعی رکتی ہے، مہنگائی میں کمی آتی ہے، پابندیوں میں نرمی کا عملی فائدہ ملتا ہے اور آیا ملکی قیادت کسی نئی کشیدگی یا بحران کے بغیر آئندہ مرحلے کو سنبھالنے میں کامیاب رہتی ہے یا نہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US