دہشت گردی کے خلاف جنگ بزور طاقت جیتیں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر

image

پاکستان کے مسلح افواج نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کو دہرایا ہے۔ ترجمان آئی ایس پی آر، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے منگل کو میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ریاست کا شدت پسند گروپوں کے خلاف موقف واضح اور غیر متزلزل ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کا مشترکہ عزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک میں دہشت گردوں کے خلاف مجموعی طور پر 75,175 آپریشنز کامیابی سے انجام دیے گئے۔

انہوں نے دہشت گردوں کو ”خوارج“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم اور سراہا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ افغانستان ابھی بھی خطے میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے ایک مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان یا بلوچستان کو گروپوں جیسے ”فتنہ الخوارج“ اور ”فتنہ ہندستان“ سے جوڑنے والے دعوؤں کو مسترد کیا اور کہا کہ 2025 میں ریاست اور عوام کے لیے دہشت گردی کے معاملے میں مکمل وضاحت حاصل ہوچکی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردوں کی کوئی آئیڈیالوجی نہیں ہوتی، افغان طالبان کو ملٹی پل ایجنسیز استعمال کرتی ہیں، دہشتگردی کیخلاف جنگ ہم نے متحد ہوکر لڑنی ہے، دہشتگردی کیخلاف جو جنگ پاکستان نے لڑی دنیا میں کسی نے نہیں لڑی، خوارج سے کوئی بات چیت نہیں ہونی نہ ان کو کوئی اسپیس دینی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، خوارج فتنہ الہندوستان ہیں، خوارج کا بلوچستان اور بلوچیت سے کوئی تعلق نہیں، ریاست کا دہشتگردی کیخلاف مؤقف واضح ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دنیا نے دہشتگردی کیخلاف پاکستان کے اقدامات کو سراہا، گزشتہ سال دہشتگردوں کیخلاف 75 ہزار 175 آپریشنز کیے، خیبرپختونخوا میں 14 ہزار 658 اور بلوچستان میں 58 ہزار 778 آپریشنز کیے گئے، ملک کے دیگر حصوں میں 1739 آپریشنز کیے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ سال 27 خودکش دھماکے ہوئے، ملک بھر میں 5 ہزار 397 دہشتگردی کے واقعات ہوئے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 1235 افراد نے جام شہادت نوش کیا، 2597 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔

احمد شریف چوہدری نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق تھا، کے پی میں ہی دہشتگردی کے زیادہ واقعات کیوں ہورہے ہیں؟ دوحہ معاہدے میں طے ہوا تھا افغان سرزمین دہشتگردی کیلیے استعمال نہیں ہوگی، دہشتگرد اور کالعدم تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں، افغانستان خطے میں دہشتگردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ضروری ہے، افغانستان دہشتگردی کا گڑھ بن چکا ہے، امریکا اور اتحادی افواج کے انخلاء میں افغان طالبان کا کوئی کردار نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت سے دہشتگردوں کو پیسہ اور سرپرستی حاصل ہوتی ہے، معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا، بھارت کو سبق سکھانا ضروری تھا، معرکہ حق اور افغانستان میں کارروائی کے بعد دہشتگردی میں اضافہ ہوا، دہشتگردی کیخلاف جنگ بزور طاقت جیتیں گے، افغانستان میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، افغان طالبان کا بیانیہ حقائق پر مبنی نہیں، افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ دہشتگردی کیلیے استعمال ہورہا ہے، چند گھنٹوں میں افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ افغان طالبان گروہ ہے جس نے افغانستان پر قبضہ کیا ہوا ہے، پاکستان میں دہشتگردی کے 10 بڑے واقعات میں افغان ملوث تھے، خیبر پختونخوا کو دہشتگردوں کے حوالے نہیں کرنے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کیخلاف آپریشن نہیں کرنے دیں گے، پاکستان کی سلامتی کی حفاظت پاک فوج کا فرض ہے، کابل سے سیکیورٹی گارنٹی کی بھیک مانگی گئی، معدنیات کے 5 ہزار سے زائد لائسنس کس نے جاری کیے؟ اسمبلی میں بیٹھ کر جھوٹا بیانیہ بنایا جاتا ہے، ڈالر تو انہیں ملتے ہیں، خیبرپختونخوا میں غیرقانونی کان کنی ہورہی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن کے بعد ہی ترقی ہوگی، فتنہ الخوارج کبھی ان پر حملہ کیوں نہیں کیا؟ تمام پارٹیوں پر حملہ ہوا، یہ فتنہ الخوارج کے منظور نظر بننا چاہتے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ وزیر اعلیٰ فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے، یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارنٹی کرے، یہ کونسی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مدد کریں، وزیر اعلیٰ کے پی ایک مضحکہ خیز بات کرتے ہیں، کے پی کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے؟ کیا خارجی نور ولی محسود کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کرلی جائے؟ کیا ہیبت اللہ بتائیں گے چارسدہ میں کیا ہوگا؟

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پوری قوم اور سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے اور ایک صوبے کی حکومت کہتی ہے کہ ہم وہاں آپریشنز نہیں ہونے دیں گے تو کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جس طرح سوات میں ان دہشتگردوں نے ہزاروں افراد کو شہید کیا یہ دوبارہ سے ایسا ہی دہشتگردی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دہشتگردوں کی کوئی آئیڈیالوجی نہیں ہوتی، ان سب کا ایک ہی باپ ہے اور وہ افغان طالبان ہے، ملٹی پل ایجنسیز ان کو استعمال کرتی ہیں، دہشتگردی کیخلاف جنگ ہم نے متحد ہوکر لڑنی ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ مشکل جنگ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جو جنگ پاکستان نے لڑی دنیا میں کسی نے نہیں لڑی، خوارج سے کوئی بات چیت نہیں ہونی نہ ان کو کوئی اسپیس دینی ہے، دنیا کہہ رہی ہے افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ ہر طریقے سے لڑیں گے، مغلوب نہیں ہوں گے، ہر کونے تک دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں تک جائیں گے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کو دہشت گردوں کے حوالے نہیں ہونے دیں گے، کچھ عناصر کہتے ہیں خیبرپختونخوا میں آپریشن نہیں ہونے دیں گے، پاک فوج وطن کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔

بریفنگ میں موجودہ حفاظتی صورتحال اور قومی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ بھی پیش کیا گیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US