وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں سیاسی استحکام کے لیے اپوزیشن سے مذاکرات کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر حکومت نے باقاعدہ حکمتِ عملی ترتیب دے دی ہے جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو اپوزیشن سے بات چیت کا گرین سگنل بھی دے دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کی درخواست پر حکومتی وفد بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ پلان کے تحت مذاکرات صرف پاکستان تحریکِ انصاف کے منتخب نمائندوں سے کیے جائیں گے جبکہ وفاقی حکومت نے غیر منتخب نمائندوں سے بات چیت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا مقصد سیاسی تناؤ میں کمی اور جمہوری عمل کو مضبوط بنانا ہے اور حکومت کی جانب سے رابطوں کا آغاز جلد متوقع ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تحریک انصاف سمیت اپوزیشن جماعتوں کو اپنے چیمبر میں مذاکرات کے لیے آنے کی دعوت دی، لیکن اپوزیشن نے اب تک رابطہ نہیں کیا۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق اسپیکر کی درخواست پر حکومتی وفد مذاکرات کے لیے تیار ہے اور وزیراعظم نے بھی اسپیکر کو گرین سگنل دے دیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اگر اپوزیشن مذاکرات کے لیے رضا مند ہوتی ہے تو اسپیکر فوری طور پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے تاکہ موجودہ سیاسی صورتحال پر بات چیت کی جاسکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی یہ پیشکش پارلیمانی عمل کو مضبوط کرنے اور تمام جماعتوں کے درمیان بات چیت کے فروغ کے لیے کی گئی ہے۔