امریکہ کی وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو پکڑنے کی ڈرامائی کارروائی کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔ اس دوران اس آپریشن کے پیچھے موجود انٹیلی جنس سے متعلق کئی تفصیلات واضح ہو چکی ہیں۔ تاہم اب بھی چند اہم سوالات جواب طلب ہیں۔
امریکہ کی وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو پکڑنے کی ڈرامائی کارروائی کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔ اس دوران اس آپریشن کے پیچھے موجود انٹیلی جنس سے متعلق کئی تفصیلات واضح ہو چکی ہیں۔ تاہم اب بھی چند اہم سوالات جواب طلب ہیں۔
خفیہ معلومات
یہ مشن کئی مہینوں کی منصوبہ بندی اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کا نتیجہ تھا۔ ممکنہ طور پر اگست میں سی آئی اے کی جانب سے خفیہ افسران کی ایک ٹیم وینزویلا بھیجی گئی تھی۔
چونکہ وینزویلا میں امریکہ کا کوئی فعال سفارت خانہ موجود نہیں تھا اس لیے یہ ٹیم سفارتی تحفظ کے بغیر کام کر رہی تھی۔ انٹیلی جنس کی زبان میں اسے ’ڈنائیڈ ایریا‘ کہا جاتا ہے، یعنی وہ علاقہ جہاں آپ کا داخلہ ممنوع ہے۔
یہ خفیہ افسران زمینی حقائق جانچنے، اہداف کی نشاندہی کرنے اور ایسے افراد کو بھرتی کرنے کے لیے موجود تھے جو اس آپریشن میں انھیں مدد فراہم کر سکیں۔
امریکی حکام کے مطابق ان کے پاس ایک نہایت اہم ذریعہ موجود تھا جو نکولس مادورو کی نقل و حرکت سے متعلق تفصیلی انٹیلی جنس فراہم کر رہا تھا۔ یہی ذریعہ اس آپریشن کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا۔
عام طور پر ایسے ذرائع کی شناخت صیغہ راز میں رکھی جاتی ہے۔ تاہم جلد ہی یہ بات سامنے آئی کہ یہ ایک ’حکومتی‘ ذریعہ یا اہلکار تھا، جو ممکنہ طور پر مادورو کے انتہائی قریبی حلقے کا حصہ تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ مادورو کب اور کہاں موجود ہوں گے۔
اسی وجہ سے اس حکومتی اہلکار اور اس کے انجام کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ لیکن اب تک شناخت عوام کے سامنے نہیں آئی۔
زمین پر موجود انسانی انٹیلی جنس کو دیگر تکنیکی ذرائع جیسے نقشوں اور سیٹلائٹ تصاویر کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر پورے آپریشن کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
ٹرمپ نے صدر نکولس مادورو کی ایک تصویر شیئر کی جس میں اُن کی آنکھوں پر ماسک تھا، ہاتھوں میں پانی کی بوتل اور وہ ٹریک سوٹ پہنے ہوئے تھےمشن
اس آپریشن کا حجم، رفتار اور کامیابی غیر معمولی تھی۔
لاطینی امریکہ میں سی آئی اے کے آپریشنز کے سابق سربراہ ڈیوڈ فٹزجیرالڈ نے ماضی میں امریکی فوج کے ساتھ خفیہ مشنز کی منصوبہ بندی کی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ کارروائی ’ایک گھڑی کی طرح درست ہوئی۔ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ ایسے آپریشنز عسکری حکمتِ عملی سے نہیں بلکہ انٹیلی جنس سے آگے بڑھتے ہیں۔‘
اس مشن میں تقریباً 150 طیارے شامل تھے۔ جبکہ ہیلی کاپٹرز زمین سے صرف سو فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے مادورو کے کمپاؤنڈ تک پہنچے۔
کاراکس کی فضا میں اڑتے امریکی فوجی ہیلی کاپٹر اور کارروائی کے بعد اڑتے دھوئیں کے بادلتاہم اس آپریشن کے کچھ پہلو اب بھی ایک معمہ ہیں۔ ایک بڑا سوال یہ ہے کہ امریکہ نے کس طرح کاراکس میں بجلی منقطع کی تاکہ سپیشل فورسز کی آمد ممکن ہو سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’کاراکس کی لائٹس بڑی حد تک ہماری ایک خاص مہارت کے ذریعے بند کر دی گئیں — اندھیرا اور خطرناک صورتحال تھی۔‘
امریکی سائبر کمانڈ کو کھلے عام سراہا جانا اس قیاس کو تقویت دیتا ہے کہ امریکی فوجی ہیکرز نے وینزویلا کے نیٹ ورکس میں پہلے سے دراندازی کر کے بجلی کے نظام کو ایک مخصوص وقت پر بند کیا۔ تاہم اس بارے میں تفصیلات محدود ہیں۔
چینی اور روسی فضائی دفاعی نظام کی ناکامی پر بھی سوالات اٹھے ہیں کہ امریکہ نے کس قسم کی جیمنگ یا الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی استعمال کی۔ امریکی سپیس کمانڈ کو بھی سپیشل فورسز کے لیے ’محفوظ راستہ‘ بنانے کا کریڈٹ دیا گیا ہے۔
یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ سٹیلتھ ڈرونز استعمال کیے گئے۔ ان تمام صلاحیتوں کی مکمل تفصیل ممکنہ طور پر خفیہ ہی رہے گی۔ تاہم امریکہ کے مخالفین یہ جاننے کی بھرپور کوشش کریں گے کہ آخر ہوا کیا تھا۔
جھڑپ
ایسے پیچیدہ خفیہ آپریشنز کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے مطابق یہ حیرت انگیز بات ہے کہ سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا جو کہ عام طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ ایک ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا گیا مگر وہ پرواز کے قابل رہا۔ کسی امریکی اہلکار کی ہلاکت نہیں ہوئی۔
تاحال مادورو کے کمپاؤنڈ میں ہونے والی جھڑپوں کی تفصیلات محدود ہیں۔
کیوبا کی حکومت کے مطابق اس کے 32 شہری امریکی فورسز کے حملے میں مارے گئے۔ یہ افراد مادورو کے محافظ تھے۔ کیوبا کی حکومت صرف محافظ ہی نہیں بلکہ پورا سکیورٹی ڈھانچہ فراہم کرتی ہے۔
ڈیوڈ فٹزجیرالڈ کے مطابق کمپاؤنڈ کے اندر مادورو کی حفاظت پر مامور افراد میں شاید وینزویلا کا کوئی اہلکار نہیں تھا اور بیرونی حصار میں دونوں ممالک کے اہلکار شامل ہو سکتے تھے۔
ان محافظوں کی طرف سے غیر موثر مزاحمت نے بھی سوالات کو جنم دیا ہے کہ شاید حکومت کے کچھ عناصر نے کسی نہ کسی شکل میں مشن میں سہولت فراہم کی۔
امریکی فورسز اس وقت مادورو تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں جب وہ سٹیل کے محفوظ کمرے میں بند ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر اس کا دروازہ بند کرنے سے پہلے ہی انھیں پکڑ لیا گیا۔
فورسز کے پاس دروازہ کاٹنے والے آلات اور دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔ لیکن امریکی اہلکاروں کی رفتار اس بات کا ثبوت ہے کہ انھیں کمپاؤنڈ کے نقشے کی انتہائی درست معلومات حاصل تھیں۔
امریکی آپریشن کے دوران وینزویلا کے سب سے بڑے فوجی کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیامنصوبہ
سی آئی اے نے آپریشن سے پہلے ایک خفیہ تجزیہ کیا تھا کہ اگر مادورو کو ہٹایا گیا تو کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں نے مختلف امکانات کا جائزہ لیا اور رپورٹس کے مطابق اس نتیجے پر پہنچے کہ جلا وطن اپوزیشن رہنماؤں کو اقتدار دلانے کے بجائے موجودہ نظام کے کچھ عناصر کے ساتھ مل کر کام کرنا زیادہ استحکام لا سکتا ہے۔
اسی تجزیے کے تحت امریکہ نے نائب صدر ڈیلسی رودریگیز کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ آپریشن سے پہلے مادورو حکومت کے چند عناصر کے ساتھ خفیہ رابطے موجود تھے تاکہ مختلف ممکنہ نتائج کی صورت میں پوزیشنز طے کی جا سکیں۔
ان رابطوں کی تفصیلات اب بھی صیغہ راز میں ہیں لیکن امکان ہے کہ یہی رابطے امریکی مشن کے انعقاد، اس کی کامیابی اور آئندہ کی منصوبہ بندی کی وضاحت کرتے ہیں۔