خواتین میں بیضے محفوظ کروانے کا بڑھتا رجحان: ’جب میں نے والد کو اپنا فیصلہ بتایا تو وہ زور زور سے ہنسنے لگے‘

2000 کی دہائی کے آغاز سے غیر طبی وجوہات کے لیے انڈے محفوظ کرنے کا رجحان بہت بڑھ گیا اور 30 کی دہائی میں موجود خواتین اس میں سب سے تیزی سے شامل ہو رہی ہیں لیکن اب کم عمر خواتین میں بھی اس کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
لبی ولسن
Libby Wilson
لبی ولسن نے اپنے انڈوں کا بڑا حصہ محفوظ کروا لیا تھا

’مجھے ڈیٹنگ کے دوران اپنے اوپر آنے والے دباؤ کا اندازہ اس وقت تک نہیں ہو سکا جب تک کہ میں نے (بیضہ دانی یا اووری میں موجود) اپنے انڈے محفوظ نہیں کروا لیے اور اس عمل کے بعد میں اس بوجھ سے نکل آئی۔‘

یہ کہنا ہے لبی ولسن کا جنھوں نے 25 سال کی عمر میں تولیدی عمل میں ضروری اپنے انڈے محفوظ کروا لیے تھے۔

عمر کی 20ویں دہائی کے آغاز میں موجود لبی ولسن کا تعلق جنریشن زی سے ہے اور وہ اپنی تولیدی صحت کی زرخیزی کو محفوظ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اور اس کے پیچھے ان کی رشتوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اور آزادی کا لطف اٹھانے کی خواہش موجود ہے تاکہ بڑھتی عمر کے ساتھ زرخیزی کم ہونے کا دباؤ ان پر نہ رہے۔

یاد رہے کہ ہر لڑکی کے جسم میں پیدائشی طور پر مخصوص تعداد میں انڈے ہوتے ہیں۔ وہ مخصوص انڈے جب تک بیضہ دانی میں پیدا ہو رہے ہیں تو ماہواری کا عمل جاری رہتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ان کی مقدار اور معیار کم ہوتا جاتی ہے، جس سے حمل ٹھہرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

2000 کی دہائی کے آغاز سے غیر طبی وجوہات کے لیے انڈے محفوظ کرنے کا رجحان بہت بڑھ گیا اور 30 کی دہائی میں موجود خواتین اس میں سب سے تیزی سے شامل ہو رہی ہیں لیکن اب کم عمر خواتین میں بھی اس کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

یہ عمل تقریباً دنیا بھر میں عام ہو رہا ہے تاہم ہر جگہ اس کے لیے قوانین مختلف ہیں۔

چین میں غیر شادی شدہ خواتین کو طبی وجوہات کے بغیر ایسا کرنے کی اجازت نہیں جبکہ ہنگری اور آسٹریا جیسے ممالک میں بھی بغیر طبی وجہ کے انڈے محفوظ کرنا ممنوع ہے۔

برطانیہ میں 18 سے 24 سال کی خواتین میں اپنے انڈے محفوظ کرنے کے عمل میں چار سال میں 46 فیصد اضافہ ہوا، جس کی تصدیق ہیومن فرٹیلائزیشن اینڈ ایمبریولوجی اتھارٹی کے تازہ ترین اعداد و شمار سے ہوتی ہے۔

تاہم طبی ماہرین کے نزدیک اس میں 100 فیصد کامیابی کی ضمانت نہیں اور منجمد انڈے سے بچے پیدا ہونے کا امکان بہت کم ہے۔

Nastya looks side-on at the camera, her long brown hair over her shoulders. She is sat inside, in front of a house plant.
Nastya Swan
25 سالہ نستیا سوان نے پچھلے سال اپنی اووری کے انڈے محفوظ کروائے

’ڈیٹنگ مارکیٹ میں بہت گڑبڑ ہے‘

25 سالہ نستیا سوان آٹھ سال سے امریکہ میں رہ رہی ہیں اور انھوں نے پچھلے سال اپنی اووری کے انڈے محفوظ کروائے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ گو کہ ابھی جوان ہیں لیکن کافی عرصے سے سنگل ہیں اور یہ بھی جانتی ہیں کہ وہ ماں بننا چاہتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں بہت محتاط ہوں کہ کس کے ساتھ اپنی زندگی بنانی ہے اور ڈیٹنگ مارکیٹ میں بہت گڑبڑ ہے۔‘

نستیا کا تعلق بنیادی طور پر روس سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جب میں نے اپنے والد کو بتایا تو وہ زور زور سے ہنسنے لگے اور کہا کہ بس اپنی زندگی جیو، تم ابھی بہت جوان ہو۔‘

آخرکار ان کے خاندان نے ان کے فیصلے میں ان کا ساتھ دیا۔

انڈیا کے فرٹیلیٹی سپورٹ پلیٹ فارم ’فرٹیلیٹی فرینڈ‘ کی بانی گیتانجلی بنرجی کہتی ہیں کہ خواتین میں شعور میں ’بڑا بدلاؤ‘ آیا لیکن ایسے ردعمل انھیں روک سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب ہم اس پر رائے جاننا چاہتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ اوہ خدا میرا خاندان تو میری نوکری کو بھی کچھ نہیں سمجھتا، وہ میرے انڈے محفوظ کرنے کو بھلا کیسے سمجھیں گے؟‘

’میرے پاس آنے والے اس بات پر بھی فکرمند ہوتے ہیں کہ ان کے مستقبل کے شریکِ حیات اور سسرال والے اس پر کیا سوچیں گے، خاص طور پر اگر شادی ارینجڈ ہو کیونکہ زرخیزی کے اس علاج کے بارے میں ابھی بھی دقیانوسی حیالات موجود ہیں۔‘

پی سی او ایس کی تشخیص خواتین کے فیصلوں کی بڑی وجہ

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی لبی کو پولی سسٹک اووری سنڈروم (پی سی او ایس ) ہے۔ یہ ہارمون کی تبدیلی سے متعلق بیماری ہے جو زرخیزی کے مسائل پیدا کر سکتی ہے اور دنیا بھر میں تقریباً ہر 10 میں سے ایک عورت کو متاثر کرتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ میرے لیے انڈے محفوظ کرنے کے بارے میں سوچنے کی بڑی وجہ تھی۔‘

یونیورسٹی کالج لندن میں خواتین کی صحت کی لیکچرر ڈاکٹر زینپ گرتن کہتی ہیں کہ زیادہ تر نوجوان خواتین کینسر کے علاج جیسی طبی وجوہات کی بنا پر انڈے محفوظ کرتی ہیں۔

تاہم اس میں اضافہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ نوجوان خواتین میں ایسے مسائل کے بارے میں آگاہی بڑھ رہی ہے، جیسے ’پرائمری اووریئن انسفیشنسی‘(جب اووریز 40 سال سے پہلے کام کرنا بند کر دیتی ہیں) یا ’اینڈومیٹریوسس‘ (جب بچہ دانی کی تہہ جیسے خلیات جسم کے دوسرے حصوں میں بڑھنے لگتے ہیں)۔

خواتین کو زرخیزی کی ٹیکنالوجی تک بھی زیادہ رسائی حاصل ہے جیسے اینٹی مولیرین ہارمون ٹیسٹ۔ یہ خون کے ٹیسٹ اووریز میں موجود باقی انڈوں کی تعداد بتاتے ہیں اور دنیا بھر میں بغیر نسخے کے آن لائن دستیاب ہیں۔

لیکن فرٹیلیٹی فرینڈ کی بانی گیتانجلی بنرجی کہتی ہیں کہ بعض مریض انھیں ’زرخیزی کی مکمل رپورٹ کارڈ‘ سمجھ لیتے ہیں حالانکہ یہ صرف چھوٹا سا حصہ ہے۔

یہ ٹیسٹ انڈوں کے معیار کو نہیں بتاتا اور نہ ہی یہ پیشگوئی کرتا ہے کہ قدرتی طور پر حمل ٹھہرنا کتنا آسان ہو گا یا نہیں اور تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کچھ ٹیسٹ غلط نتائج دیتے ہیں۔

In this selfie, Mora looks at the camera with a smile. Her hair, which is flecked with blonde highlights, falls over her shoulders. She wears a white T-shirt and small gold earrings.
Mora Mónaco
مورا نے 26 سال کی عمر میں اپنے انڈے محفوظ کروائے

حد سے زیادہ تعداد میں انڈے محفوظ کرنا

اس علاج کی لاگت بھی بڑی رکاوٹ ہے۔ ہر جگہ اس پر خرچ ایک سا تو نہیں لیکن انڈے محفوظ کرنے کا عمل ہزاروں ڈالر تک جا سکتا ہے اور اس کے ساتھ بھاری سٹوریج فیس بھی ہوتی ہے۔

لبی کہتی ہیں کہ آسٹریلیا میں اس عمل پر 11,000 آسٹریلین ڈالرخرچ ہوئے اور ہر ماہ سٹوریج کے لیے تقریباً 50 آسٹریلین ڈالر دینا پڑتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ بوجھ ایک یونیورسٹی طالبہ کے لیے ’کافی بھاری‘ تھا۔ انھوں نے یہ پیسے اپنی ریٹائرمنٹ بچت فنڈ سے نکالے لیکن اس کے باوجود وہ اپنے فیصلے پر خوش ہیں۔ ان کے مطابق ’ یہ سوال باقی ہے کہ میں بچے پیدا کر سکوں یا نہیں۔‘

دوسری خواتین کے لیے یہ عمل اتنا آسان نہیں رہا جتنا انھوں نے سوچا تھا۔

ارجنٹینا کی مورا موناکو نے 26 سال کی عمر میں ایک دوست کے مشورے پر انڈے محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ان کے ڈاکٹر نے کہا کہ ’تم بہترین طریقے سے ہینڈل کر لو گی، تم 26 سال کی ہو، یہ سب سے اچھی عمر ہے۔‘

لیکن مورا کے لیے ایسا نہیں ہوا۔ ان کی اووریز میں انڈوں کی مقدار کم تھی اور انڈے نکالنے میں مشکل پیش آئی، جسے انھوں نے ’تباہ کن‘ قرار دیا۔

جب کوئی بچہ پیدا کرنا چاہتا ہے تو منجمد انڈے پگھلا کر زرخیزی کے علاج، جیسے’ان وٹرو فرٹیلائزیشن(آئی وی ایف) میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

لیکن ڈاکٹر گرتن خبردار کرتی ہیں کہ اس عمل میں کوئی ضمانت نہیں بلکہ کامیابی پر کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں، جیسے عمر، صحت، کتنے انڈے محفوظ رکھے گئے اور بعد میں کس کامیابی سے پگھلائے گئے اور نطفے (سپرم) کا معیار بھی اہم ہے۔

ان کیسز میں کامیابی کی شرح کا اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ اب تک زیادہ تر خواتین نے اپنے منجمد انڈے استعمال نہیں کیے۔

ہیومن فرٹیلائزیشن اینڈ ایمبریولوجی اتھارٹی کے 2016 کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال انڈے محفوظ کرنے کے صرف 18 فیصد کیس بچے کی پیدائش پر ختم ہوئے۔

تاہم اب یہ ادارہ کامیابی کی شرح کا ڈیٹا جمع نہیں کرتا کیونکہ وہ مریض کی انڈے محفوظ کرنے کی عمر کو علاج کے وقت کی عمر سے درست طور پر نہیں جوڑ سکتے، جس سے شرح زیادہ واضح دکھائی دیتی۔

یہ بھی کہا گیا کہ انڈے محفوظ کرنے کے امکانات آئی وی ایف سے کچھ کم ہیں جس میں تازہ انڈے اووریز سے نکال کر نطفے کے ساتھ ملا کر دوبارہ عورت کے جسم میں ڈالے جاتے ہیں۔

آئی وی ایف کی کامیابی فی سائیکل پانچ سے 35 فیصد تک ہو سکتی ہے تاہم یہ مریض کی عمر پر منحصر ہے۔

ڈاکٹر گرتن کہتی ہیں’سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو بھی عورت انڈے محفوظ کرنے کا سوچ رہی ہے، اسے کامیابی کی شرح کے بارے میں معلومات ہوں۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اس میں کامیابی کی مکمل ضمانت نہیں اور اسے ممکنہ خطرات اور سائیڈ ایفیکٹس کے بارے میں مکمل معلومات ہونی چاہئیں۔‘

ان خطرات میں ہارمون انجیکشن سے موڈ میں تبدیلی، پیٹ پھولنا، سر درد، انڈے نکالنے کے بعد درد اور ایک نایاب لیکن سنگین حالت ’اووریئن ہائپر سٹیمولیشن سنڈروم‘ بھی ہے جس میں شدید درد، تیزی سے وزن بڑھنا اور خون کے لوتھڑے بننا بھی شامل ہے۔

مورا نے تین بار انڈے نکالنے کے بعد کل نو انڈے محفوظ کروائے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے معلوم ہے کہ میں نے کم از کم اپنے انڈے محفوظ کرنے کی پوری کوشش کی۔‘

بی بی سی سے بات کرنے والی تینوں خواتین نے اپنی کہانیاں ٹک ٹاک پر شیئر کیں جہاں انھیں لاکھوں ویوز ملے۔ مورا کہتی ہیں کہ ’ہزاروں پیغامات آئے جن میں لوگوں نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ اپنے ڈاکٹر سے اس بارے میں پوچھنے والی ہیں۔‘

لیکن ڈاکٹر گرتن کہتی ہیں کہ بہت کم عمر خواتین کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

’میں کہوں گی کہ 24 سال سے کم عمر خواتین کو انڈے محفوظ کرنے کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے پاس کافی وقت ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US