الپائن کلب آف پاکستان نے اتوار کو بتایا کہ نرمل پرجا کی لاش پہاڑ پر تقریباً 5700 میٹر کی بلندی پر تھی، جہاں مزید تین لاشیں بھی موجود ہیں لیکن ان کی شناخت کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
نیپال میں پیدا ہونے والے نرمل پرجا 2019 میں دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو صرف چھ ماہ سے کچھ زیادہ عرصے میں سر کرنے کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل کر چکے تھےپاکستان میں واقع دُنیا کی 12 ویں بلند ترین چوٹی ’براڈ پیک‘ پر جمعرات کو برفانی تودے کی زد میں آنے والے معروف نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا کی لاش مل گئی ہے۔ اس واقعے میں نو کوہ پیما ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی تاحال لاپتہ ہیں۔
الپائن کلب آف پاکستان نے اتوار کو بتایا کہ نرمل پرجا کی لاش پہاڑ پر تقریباً 5700 میٹر کی بلندی پر تھی، جہاں مزید تین لاشیں بھی موجود ہیں لیکن ان کی شناخت کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
43 سالہ کوہ پیما کی موت کا اعلان سنیچر کے روز ان کی کمپنی ’ایلیٹ ایکسپیڈیشنز‘ نے کیا تھا۔
کمپنی کے مطابق وہ برفانی تودے کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والے 10 افراد میں شامل تھے۔
برفانی تودہ گرنے کا یہ واقعہ جمعرات کو اُس وقت پیش آیا تھا جب 10 کوہ پیماؤں پر مشتمل یہ ٹیم براڈ پیک پر موجود تھی۔
الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ریٹائرڈ) عرفان ارشد نے سنیچر کی شام بتایا تھا کہ چار کوہ پیماؤں کی لاشیں اس وقت سکردو ہسپتال میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پانچ کوہ پیماؤں کی لاشوں کی جگہ کی نشاندہی ہوچکی ہے تاہم وہ انتہائی خطرناک اور مشکل مقام پر موجود ہیں جہاں سے لاشوں کو واپس لانا انتہائی خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔

پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی لاپتا
سنیچر کو نرمل پرجا کی کمپنی ایلیٹ ایکسپیڈیشنز نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ ’گہرے دکھ اور صدمے کے ساتھ اس بات کی تصدیق کی جاتی ہے کہ نرمل پرجا جمعرات کو برفانی تودہ گرنے کے حادثے میں ہلاک ہو گئے۔‘
کمپنی نے یہ بھی کہا تھا کہ ’مہم میں شامل دیگر نو ارکان بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔‘
تاہم پاکستانی حکام نے تاحال اس مہم میں شامل پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ریٹائرڈ) عرفان ارشد کے مطابق فی الحال امدادی ٹیمیں جائزہ لے رہی ہیں کہ اتنی بلندی سے لاشوں کو کیسے واپس لایا جائے۔
سنیچر کو عرفان ارشد کا کہنا تھا کہ چوتھی ملنے والی لاش نیپالی کوہ پیما گیالو شرپ کی ہے۔
الپائن کلب کے صدر عرفان ارشد نے بی بی سی کو ریسکیو آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ سنیچر کے روز ملنے والی چوتھی لاش کی جگہ کی نشاندہی ہیلی کاپٹر نے کی تھی جس کے بعد گراونڈ پر موجود ٹیم جا کر اسے بیس کیمپ لائیاور پھر وہاں سے بذریعہ ہیلی کاپٹر سکردو لایا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ رات ہونے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن روک دیا گیا ہے جسے صبح چار بجے دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
عرفان ارشد کے مطابق اس وقت بیس کیمپ میں بارہ کے قریب کوہ پیما موجود ہیں جو ریسکیو حکام میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ تمام لاشوں کو نیچے لانے تک ریسکیو آپریشن جاری رہے۔
کوہ پیما نرمل پرجا کون تھے؟
سنیچر کو تلاش کی کوششیں دوبارہ شروع کر دی گئی تھیںمختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کوہ پیماؤں کے اس گروپ کی قیادت نیپال میں پیدا ہونے والے نرمل پرجا کر رہے تھے جنھیں نمز دائی کے نام سے بھیجانا جاتا ہے۔
وہ کوہ پیمائی کے متعدد ریکارڈز کے مالک رہے لیکن ان کا سب سے مشہور کارنامہ 2019 میں صرف چھ ماہ میں دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنا رہا۔
43 سالہ نرمل پرجا 2021 میں ریلیز ہونے والی نیٹ فلکس دستاویزی فلم 14 Peaks: Nothing Is Impossible کے بعد دنیا بھر میں زیادہ معروف ہوئے۔ اس فلم میں ان کے کوہ پیمائی کے سفر کو دکھایا گیا تھا۔
نیپال میں واقع دنیا کے ساتویں بلند پہاڑ کے قریب ڈھولگیری میں جنم لینے والے نرمل نیپال میں ہی چتیوان ضلع کے میدانی علاقوں میں پلے بڑھے اور 2003 میں 18 سال کی عمر میں برٹش آرمی بریگیڈ کی گورکھا رجمنٹ میں شامل ہوئے تھے۔
ان کے کوہ پیمائی کے سفر کا آغاز تب ہوا جب وہ 2012 میں ایورسٹ بیس کیمپ تک پیدل گئے اور طے شدہ منصوبے کے مطابق واپس آنے کے بجائے اُنھوں نے پہاڑ سر کرنے کا فیصلہ کیا۔
سنہ 2018 میں نرمل نے فوج کی نوکری چھوڑی اور اگلے ہی سال دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو سب سے کم وقت میں سر کرنے سمیت کئی ریکارڈ بنا ڈالے۔
ان کی ویب سائٹ کے مطابق، یہ 14 چوٹیاں ایک ایسے ’ڈیتھ زون‘ (موت کے علاقے) کی نمائندگی کرتی تھیں جہاں انسانی زندگی کا وجود ممکن نہیں تھا۔
اس کارنامے کے بعد اپنے پیغام میں نرمل نے کہا تھا کہ ’کوئی بھی اپنے خوابوں کو حاصل کر سکتا ہے اگر وہ اس پر توجہ دے۔ یہ پہاڑ پر چڑھنے کی بات نہیں اپنے اہداف حاصل کرنے کی بات ہے۔‘
دنیا کی کئی بلند ترین چوٹیوں کو تیز ترین وقت میں سر کرنے پر ان کے نام چھ گنیز ورلڈ ریکارڈز بھی درج ہیں۔
انھوں نے 2003 میں برطانوی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور 2009 میں رائل نیوی کے خصوصی دستے سپیشل بوٹ سروس کا حصہ بنے تھے۔
اس مہم پر روانہ ہونے سے قبل پیر کو ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں پرجا کا کہنا تھا کہ شروع میں ان کا براڈ پیک سر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن پاکستان روانہ ہونے سے پہلے انھیں احساس ہوا کہ اگر وہ وہاں قیام کے دوران اسے بھی سر کر لیتے ہیں تو ’آٹھ ہزار میٹر سے بلند تمام 14 پہاڑوں کو (بغیر آکسیجن کے) دو مرتبہ سر کرنے والے تاریخ کا پہلا فرد‘ بننے کے لیے صرف ایک اور پہاڑ سر کرنا باقی رہ جائے گا۔
ایکس پر پرجا نے لکھا تھا کہ ’اے براڈ پیک میں تجھ سے صرف اُوپر جانے اور بحفاظت واپس آنے کا طلبگار ہوں۔ میں کسی بھی پہاڑ کو معمولی یا یقینی نہیں سمجھتا۔‘
نرمل پرجا کی ہلاکت کی تصدیق نیپال کے وزیرِ اعظم بالن شاہ نے بھی کی۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’پاکستان کے قراقرم پہاڑی سلسلے میں عالمی ریکارڈ ہولڈر نرمل پرجا سمیت چھ نیپالی اور چار دیگر غیر ملکی کوہ پیماؤں کی المناک ہلاکت نے ہمیں صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔‘
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ ’ان کی جرات، لگن اور خدمات کی تاریخ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
نظیرہ احمد عبداللہ الحارثی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی عمانی خاتون
کوہ پیماؤں کا یہ گروپ نرمل پرجا اور ان کے پانچ نیپالی ساتھیوں، پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی، امریکہ اور عمان سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کوہ پیماؤں اور ایک چینی کوہ پیما پر مشتمل تھا۔
سب سے پہلے حکام نے ان میں سے عمان کی کوہ پیما نادیرا احمد الحارثی، امریکہ کی میلوعی گیئس اور نیپال کے شرپا یکتا کی ہلاکت کی تصدیق کی۔
لاپتہ کوہ پیماؤں میں سے ایک کے ’مینٹور‘ سیمسن شراف نے کلائمبنگ نامی ویب سائٹ سے جی پی ایس ڈیٹا شیئر کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برفانی تودہ مقامی وقت کے مطابق صبح 08:57 اور 09:30 کے درمیان گرا اور اس وقت عمان کی خاتون کوہ پیما نظیرہ احمد عبداللہ الحارثی 1651 میٹر (5417 فٹ) نیچے کی جانب گئیں۔
نظیرہ الحارثی 2019 میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی عمانی خاتون بنی تھیں۔ اس کے بعد انھوں نے دنیا کی کئی بلند چوٹیوں کو سر کیا، جن میں مناسلو، کے ٹو اور نانگا پربت شامل ہیں۔ 2022 میں وہ کے ٹو کی چوٹی پر پہنچنے والی پہلی عمانی خاتون بنیں جبکہ 2024 میں انھوں نے نانگا پربت بھی سر کی۔
شرپا یُکتا
نیپال کے شرپا یُکتا انٹرنیشنل فیڈریشن آف ماؤنٹین گائیڈز ایسوسی ایشنز سے سند یافتہ کوہ پیما تھے۔
وہ 14 بلند ترین چوٹیاں سر کرنے کا چیلنج مکمل کرنے کے بہت قریب تھے اور براڈ پیک اس فہرست کی 13ویں چوٹی تھی۔
گذشتہ موسم بہار میں یکتا نے نیپال کی تین آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیاں سر کیں اور اس سیزن کے اختتام تک وہ ایورسٹ کی 10 کامیاب مہمات اور آٹھ ہزار میٹر سے بلند پہاڑوں کی 12 کامیاب مہمات اپنے نام کر چکے تھے۔
یکتا اس ٹیم کا بھی حصہ تھے جس نے وہ ایک صدی پرانا جوتا دریافت کیا تھا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ برطانوی کوہ پیما اینڈریو ’سینڈی‘ ارون کا ہے، جو 1924 میں جارج میلوری کے ساتھ ایورسٹ پر لاپتہ ہوئے تھے۔
میلوری گیئس جن کے ساتھ براڈ پیک پر پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی گئے
ہلاک ہونے والی تیسری کوہ پیما امریکہ کی میلوری گیئس تھیں۔
میلوری گیئس کے جی پی ایس ٹریکر کے مطابق جب تودہ گرا تو اس کے بعد ان کا ٹریکر 543 میٹر (1781 فٹ) نیچے کی جانب گیا۔
تاحال لاپتہ پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی اس مہم پر امریکی خاتون کوہ پیما میلوری گیئس کے ساتھ گئے تھے۔
ان کے علاوہ ان کوہ پیماؤں میں کچھ اور بڑے نام بھی تھے جن میں کلی پیمبا شرپا قابلِ ذکر ہیں۔ کلی پیمبا اب تک 15 بار ایورسٹ سر کر چکےتھے۔
پاکستان الپائن کلب کی ترجمان نائلہ کیانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نظیرہ اور یُکتا کی لاشیں مکمل حالت میں ملیں جبکہ میلوری کی ٹانگ اور جوتوں سے انھیں شناخت کیا گیا۔
برفانی تودہ گرنے کا واقعہ کب پیش آیا
بلند ترین علاقوں میں خراب موسم اور دشوار گزار حالات ریسکیو کارروائیوں کو مشکل بنا دیتے ہیں جمعرات کو جب 10 کوہ پیماؤں پر مشتمل یہ ٹیم براڈ پیک پر موجود تھی تب یہ برفانی تودہ گرا۔
تودہ گرنے کے 48 گھنٹے بعد مقامی پاکستانی کوہ پیما رضاکارانہ طور پر تلاش کی کارروائی میں شریک ہوئے جبکہ نیپال سے تعلق رکھنے والے دیگر کوہ پیما بھی قریبی کے ٹو مہمات ترک کر کے اس آپریشن میں شامل ہو گئے تھے۔
جمعے کو کمشنر بلتستان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق 30 جولائی 2026 کو صبح نو بجے کوہ پیماؤں کی ٹیم سے آخری مرتبہ رابطہ ہوا، اور رات آٹھ بجے اطلاع ملی کہ تقریباً 6,600 میٹر کی بلندی پر کیمپ ٹو سے کیمپ تھری کی جانب پیش قدمی کے دوران ٹیم کو برفانی تودے کا سامنا کرنا پڑا۔
بیان کے مطابق اس مہم کے ٹور آپریٹرز کی باضابطہ درخواست پر 31 جولائی کو صبح 8:30 بجے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا اور پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے تین رکنی سول ریسکیو ٹیم کو براڈ پیک بیس کیمپ پہنچایا گیا۔
خیال رہے براڈ پیک کو کوہ پیمائی کی مہمات کے لیے مشکل ترین پہاڑوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
براڈ پیک: مشکل پہاڑوں میں سے ایک
پاکستان میں واقع ’براڈ پیک‘ کو کوہ پیمائی کی مہمات کے لیے انتہائی مشکل پہاڑوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور یہ دنیا کا 12 ویں بلند ترین جبکہ قراقرم کے سلسلے کا تیسرا سب سے اونچا پہاڑ ہے۔
اس کی بلندی 8047 میٹر ہے اور اسے براڈ پیک یا چوڑی چوٹی کا نام اس کے غیرمعمولی طور پر چوڑے ’سمٹ رج‘ کی وجہ سے دیا گیا جو تقریباً دو کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔
براڈ پیک ان 14 ’ڈیتھ زون‘ (انتہائی خطرناک بلندی والی) چوٹیوں میں شامل ہے جنھیں نرمل پرجا نے 2019 میں چھ ماہ سے کچھ زائد عرصے میں سر کیا تھا۔
سنہ 2022 میں نیٹ فلکس کی ایک فلم اسی نام سے جاری کی گئی تھی جس میں اس پولش کوہ پیما کی کہانی بیان کی گئی تھی جس نے اس پہاڑ کی چوٹی کو موسمِ سرما میں پہلی بار سر کرنے کی کوشش کی تھی۔
براڈ پیک کو پہلی بار 1957 میں سر کیا گیا تھا جب آسٹریا کی چار رکنی مہم چوٹی تک پہنچی تھی۔ اس کے بعد سے، جہاں سینکڑوں لوگ اسے سر کر چکے ہیں وہیں درجنوں اس دوران اپنی جان سے ہاتھ بھی دھو چکے ہیں۔
2013 براڈ پیک پر مہمات کے لیے مہلک ترین سالوں میں سے ایک تھا جس میں کم از کم چھ اموات ریکارڈ کی گئیں۔
مارچ 2013 میں دو پولش کوہ پیماؤں کو جن کی عمریں 27 اور 58 سال تھیں، اس وقت مردہ قرار دیا گیا جب وہ چوٹی سے اترتے وقت لاپتہ ہوئے۔چند ماہ بعد تین ایرانی کوہ پیماؤں کا بھی یہی انجام ہوا اور پھر ایک جرمن کوہ پیما پہاڑ سے پھسل کر ایک پہاڑی نالے میں گر کر ہلاک ہوئیں۔