نیرج نے 85.83 میٹر کے ساتھ چاندی کا تمغہ جیتا جبکہ دوسری جانب موجودہ اولمپک چیمپیئن پاکستان کے ارشد ندیم 77.41 میٹر کی تھرو کے ساتھ نویں پوزیشن پر رہے۔
سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں 2026 کے کامن ویلتھ گیمز میں سری لنکا کے کھلاڑی رومیش تھرنگا نے مردوں کے جیولن تھرو کے مقابلے میں طلائی تمغہ جیتا ہے۔
یہ پہلا تاریخی موقع تھا جب ایک سابق میڈیم فاسٹ بولر سے جیولن تھرو ایتھلیٹ بننے والے رومیش تھرنگا نے تاریخ رقم کرتے ہوئے سری لنکا کو کامن ویلتھ گیمز کے جیولن تھرو ایونٹ میں طلائی تمغہ دلوایا۔
گلاسگو کے سکاٹس ٹاؤن سٹیڈیم میں ان کا بہترین تھرو 89.75 میٹر رہا، جس دوران انھوں نے عالمی معیار کے کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔
اس مقابلے کے دوران وہ اپنی پہلی کوشش میں کامیاب نہ ہو سکے، تاہم دوسری کوشش میں انھوں نے 89.75 میٹر کا تھرو کیا اور یوں انھوں نے عالمی سطح کے حریفوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ کامیابی حاصل کی۔
اس فتح کے بعد اب کامن ویلتھ گیمز میں سری لنکا کے طلائی تمغوں کی مجموعی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ یہ 1950 میں ڈنکن وائٹ کی کامیابی کے بعد ایتھلیٹکس کے کسی مقابلے میں سری لنکا کا پہلا کامن ویلتھ طلائی تمغہ بھی ہے۔
یاد رہے کہ سابق فاسٹ بولر رومیش تھرنگا پاتھیراج نے اس تھرو کے ساتھ انڈیا کے نیرج چوپڑا کو دوسرے نمبر پر چھوڑ دیا۔
نیرج نے 85.83 میٹر کے ساتھ چاندی کا تمغہ جیتا جبکہ دوسری جانب موجودہ اولمپک چیمپیئن پاکستان کے ارشد ندیم 77.41 میٹر کی تھرو کے ساتھ نویں پوزیشن پر رہے۔
’پوڈیم پر سری لنکا کے قومی ترانے کی دھن سننا فخریہ لمحہ‘
اولمپکس ڈاٹ کام پر موجود رومیش تھرنگا کے انٹرویو کے مطابق اس کامیابی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نے انھوں نے کہا کہ سری لنکا کے لیے جیولن تھرو کا پہلا طلائی تمغہ جیت کر وہ ’بہت خوش ہیں۔‘
’یہ تمغہ میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ پوڈیم پر سری لنکا کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے قومی ترانے کی دھن سننا میرے لیے باعثِ فخر لمحہ تھا۔‘
رومیش تھرنگا نے مزید کہا کہ وہ فی الحال مستقبل کی قیاس آرائیوں کے بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں اور ’جیولن تھرو جیسے تکنیکی مقابلے میں ان عوامل پر توجہ دے رہے ہیں جو ان کے اختیار میں ہیں۔‘
سکاٹس ٹاؤن سٹیڈیم میں مقابلے کے دوران موسم کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’سچ کہوں تو ہمارے لیے حالات بہت مشکل تھے۔ سٹیڈیم میں ہوا کافی تیز تھی لیکن میں نے دوسروں کے تھروز سے مقابلہ کرنے کے بجائے اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کی۔‘
کوالیفائنگ میچ میں کارکردگی
رمیش تھرنگا نے 30 جولائی کو کامن ویلتھ گیمز کے مردوں کے جیولن تھرو کے کوالیفائنگ مرحلے میں فائنل کے لیے کوالیفائی کر کے سری لنکا کی تمغے کی امیدیں مزید روشن کر دی تھیں۔
انھوں نے 82.84 میٹر کی تھرو کے ساتھ اپنی پہلی ہی کوشش میں فائنل میں جگہ بنا لی تھی۔ یہ کوالیفائنگ مرحلے میں کسی بھی کھلاڑی کی جانب سے ریکارڈ کی گئی بہترین کارکردگی بھی تھی۔
یاد رہے کہ یہ رمیش تھرنگا کی کامن ویلتھ گیمز میںپہلی شرکت ہے۔
فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے کے بعد انھوں نے اپنے پہلے ہی کامن ویلتھ گیمز میں یہ کامیابی حاصل کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔
انھوں نے کہا کہ سٹیڈیم میں تیز ہواؤں کے باعث کئی تجربہ کار کھلاڑی فائنل تک رسائی حاصل نہیں کر سکے۔
ملک کی سابق نمبر ایک جیولن تھرو ایتھلیٹ سمیدھا رانا سنگھے نے بھی کوالیفائنگ مرحلے میں حصہ لیا تاہم وہ فائنل کے لیے کوالیفائی نہ کر سکیں۔
سری لنکا نے آخری بار 20 سال قبل کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ ویٹ لفٹر چنتھانا گیتھل وڈاناج نے 2006 کے میلبورن کامن ویلتھ گیمز میں یہی تمغہ جیتا تھا۔
رینکنگ کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر
23 سالہ رومیش تھرنگا اس وقت مردوں کے جیولن تھرو کی عالمی درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر ہیں۔
رومیش تھرنگا وہ ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے رواں سیزن میں مردوں کے جیولن تھرو میں دنیا کی بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔
چار جون کو روم میں ہونے والی ڈائمنڈ لیگ ایتھلیٹکس میٹ میں انھوں نے 92.62 میٹر کا تھرو کیا تھا جو نہ صرف رواں سیزن کی بہترین کارکردگی تھی بلکہ اس کے ساتھ انھوں نے جیولن تھرو میں سری لنکا کا قومی ریکارڈ بھی قائم کیا تھا۔
21 مارچ 2003 کو کالوتارا میں پیدا ہونے والے رومیش تھرنگا پاتھیراج نے اپنی ابتدائی تعلیم ہورانا کے سری پالی کالج سے حاصل کی۔
انھوں نے کولمبو کے علاقے بمبلاپیٹیہ میں واقع سینٹ پیٹرز کالج میں داخلہ لیا۔ ان کے والد شاٹ پٹ اور ڈسکس تھرو کے سابق قومی چیمپیئن رہ چکے ہیں۔
رومیش تھرنگا نوجوانی میں ایک باصلاحیت کرکٹر بھی تھے۔ 2019 میں ہونے والے یوتھ فاسٹ بولر سلیکشن ٹورنامنٹ میں انھوں نے 134 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکی تھی۔
اسی دوران جیولن تھرو کے کوچ ٹونی پرسنا کی نظر ان پر پڑی جنھوں نے انھیں اس ایونٹ میں آزمانے کی دعوت دی۔
رومیش اس وقت سری لنکا کی فضائیہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔
انھوں نے 2024 اور 2025 کی ایشین جیولن تھرو چیمپیئن شپ میں طلائی تمغے جیتے جبکہ گزشتہ سال جاپان میں ہونے والی عالمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں ساتویں پوزیشن حاصل کی تھی۔
نوعمری میں ایک تیز رفتار بولر
رومیش تھرنگا کا اس مقام تک کا سفر ایتھلیٹکس ٹریک پر نہیں بلکہ کرکٹ کے میدان سے شروع ہوا تھا۔
انڈین ایکسپریس کو ماضی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں رومیش تھرنگا کا کہنا تھا کہ سری لنکن ایتھلیٹ اس وقت کوچ ٹونی پرسنا کی نگرانی میں تربیت حاصل کرتے ہیں اور ان کے بقول اُن کی تکنیک اور زندگی کے بارے میں سوچ کو تشکیل دینے میں ان کے کوچ کا اہم کردار رہا ہے۔
رومیش تھرنگا نے کہا تھا کہ ’ٹونی کوچ ہی تھے جنھوں نے مجھے جیولن تھرو سے متعارف کرایا۔ وہ صرف میرے کوچ نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ہیں۔ وہ مجھے زندگی کے بارے میں بھی سکھاتے ہیں۔‘
نوعمری میں رومیش ایک تیز رفتار بولر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ تقریباً 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرواتے تھے اور انڈر 18 سطح پر ایک موقع پر 134 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار بھی ریکارڈ کر چکے تھے۔
اگرچہ رومیش تھرنگا کی شناخت جیولن تھرو سے جڑی ہے لیکن ان کے مطابق کرکٹ آج بھی ان کے لیے ذہنی سکون کا ذریعہ ہے۔