پرتشدد مظاہرے اور امریکی دھمکیاں: ’ایران میں حکومت پر شدید دباؤ مگر فوری تبدیلی خارج از امکان‘

ایرانی مظاہرین اور بیرون ملک موجود ان کے حامی امید کر رہے تھے کہ تہران میں اسلامی حکومت بھی ’اچانک‘ ختم ہونے والے مرحلے پر پہنچ چکی ہے لیکن موجودہ علامات ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت اگر ختم ہو بھی رہی ہے تو یہ عمل ابھی آہستہ ہے۔

کسی آمرانہ حکومت کا خاتمہ کیسے ہوتا ہے؟ جیسا کہ امریکی مصنف ارنسٹ ہمنگوے نے دیوالیہ ہونے کے بارے میں کہا تھا ۔۔۔ ’پہلے آہستہ اور پھر اچانک۔‘

ایرانی مظاہرین اور بیرون ملک موجود ان کے حامی امید کر رہے تھے کہ تہران میں اسلامی حکومت بھی ’اچانک‘ ختم ہونے والے مرحلے پر پہنچ چکی ہے۔ لیکن موجودہ علامات ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت اگر ختم ہو بھی رہی ہے تو یہ عمل ابھی آہستہ ہے۔

گذشتہ دو ہفتے کی بدامنی ایرانی حکومت کے بحران میں اضافہ کر رہی ہے۔ ایرانی عوام ماضی میں بھی سڑکوں پر غصے اور مایوسی کا اظہار کر چکی ہے لیکن حالیہ مظاہرے ان تمام عسکری نقصانات کے بعد ہو رہے ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں ایران کو اٹھانے پڑے۔

تاہم، اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کی جدوجہد کرتے، مشکل میں گھرے عام ایرانیوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ پابندیاں ہیں۔

ایرانی معیشت کو تازہ جھٹکا اُس وقت لگا جب برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے ستمبر میں وہ پابندیاں پھر سے نافذ کر دیں جو 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد ہٹا دی گئی تھیں۔ یہ وہ معاہدہ ہے جو اب ختم ہو چکا ہے۔

2025 میں کھانے پینے کی اشیا 70 فیصد سے بھی مہنگی ہو گئیں۔ دسمبر میں ایرانی کرنسی ریال کی قدر تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گئی۔

اگرچہ ایرانی حکومت شدید دباؤ میں ہے، مگر شواہد بتاتے ہیں کہ وہ ختم ہونے والی نہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز اب بھی حکومت کی وفادار ہیں۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایرانی حکام نے جبر اور دباؤ کا پیچیدہ نظام بنانے میں وقت اور پیسہ خرچ کیا ہے۔

گزشتہ دو ہفتے کے دوران حکومتی فورسز نے اپنے ہی شہریوں پر گولیاں برسانے کے احکامات پر عمل کیا۔ نتیجتاً چند ہفتے سے جاری مظاہرے ختم ہو چکے ہیں۔ جس ملک میں حکام نے اطلاعات کی ترسیل پر مکمل پابندی لگا رکھی ہے، وہاں سے ہم اتنا ہی جان پائے ہیں۔

ملک کی سب سے اہم تنظیم ایرانی پاسداران انقلاب، اس احتجاج کو دبانے میں آگے آگے تھی۔

اس کا خاص مقصد ہی یہ ہے کہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والی حکومت اور اس کے نظریے کا دفاع کرے اور یہ براہ راست ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جواب دہ ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب میں ڈیڑھ لاکھ مسلح اہلکار ہیں جو ایران کی روایتی فوج کے متوازی کام کرتے ہیں۔ یہ ایرانی معیشت کی بھی اہم کھلاڑی ہے۔

طاقت، دولت، بدعنوانی اور عقائد کے امتزاج کا مطلب ہے اس ادارے کے پاس نظام کا دفاع کرنے کی تمام وجوہات موجود ہیں۔

رات کے وقت ایک سڑک کا منظر، جہاں مظاہرین گاڑیوں کے گرد جمع ہیں۔ دھواں دکھائی دے رہا ہے اور بھیڑ کے قریب کچھ آگ لگی ہوئی ہے
West Asia News Agency via Reuters
ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے مظاہرین کو ’فوری اور سخت‘ سزائیں دینے کا وعدہ کیا ہے

ایرانی پاسداران انقلاب کے پاس ایکمعاون فورس بھی ہے، ’بسیج ملیشیا‘۔ یہ رضا کارانہ طور پر کام کرنے والا نیم فوجی دستہ ہے، جس کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس 10 لاکھ سے زیادہ ارکان ہیں۔

کچھ مغربی اندازوں کے مطابق اس کے ارکان کی تعداد سینکڑوں ہزاروں میں ہے، یہ تعداد بھی خاصی بڑی ہے۔ مظاہرین کے خلاف سخت حکومتی کارروائیوں میں بسیج کا کردار ہے۔

میں نے 2009 میں پاسداران انقلاب اور بسیج کو عملی کردار ادا کرتے دیکھا جب وہ متنازع صدارتی انتخاب کے بعد مظاہروں کو دبا رہے تھے۔ بسیج کے رضاکار ربڑ کی چھڑیوں اور لکڑی کی لاٹھیوں سے لیس سڑکوں پر کھڑے تھے۔

خودکار ہتھیار تھامے وردی پوش اہلکار ان کے پیچھے تھے۔ موٹرسائیکل سوار دستے تہران کی وسیع سڑکوں پر گشت کرتے اور احتجاج کی کوشش کرنے والے گروہوں پر حملہ آور ہوتے۔

وہ مظاہرے جنھوں نے سڑکوں کو بند کر رکھا تھا، دو ہفتے سے بھی کم وقت میں نعرے بازی کرتے اور کچرا دانوں کو آگ لگاتے چند طلبہ تک محدود ہو گئے۔

شام ڈھلتے ہی لوگ اپنی بالکونیوں اور چھتوں پر جا کر اللہ اکبر کے نعرے لگاتے، جیسا کہ ان کے والدین شاہ کے خلاف کیا کرتے تھے، لیکن رفتہ رفتہ یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا۔

پاسداران انقلاب
AFP
ایک اندازے کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب میں ڈیڑھ لاکھ مسلح اہلکار ہیں جو ایران کی روایتی فوج کے متوازی کام کرتے ہیں

ملک کے اندر سکیورٹی فورسز مضبوط نظر آتی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سپریم لیڈر اور ان کے نائب آرام سے بیٹھ سکتے ہیں، یا بیٹھیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی کارروائیوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں، ایسے وقت میں حکومت کا خاتمہ چاہنے والے لاکھوں ایرانی نفرت اور غصے کی آگ میں بھڑک رہے ہوں گے۔

تہران میں حکومت اور سپریم لیڈر بظاہر اس دباؤ کو کم کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ جارحانہ سرکاری بیانات کے ساتھ ساتھ امریکہ سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی پیشکش بھی سامنے آ رہی ہے۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ دونوں فریق ایران کے جوہری منصوبوں اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق کسی سمجھوتے پر پہنچیں گے، کیوں کہ پہلے بھی مذاکرات اسی پر ناکام ہوئے تھے۔ تاہم، مذاکرات ایران کے لیے وقت حاصل کرنے کا ایک موقع بن سکتے ہیں، خاص طور پر اگر ٹرمپ کو قائل کیا جا سکے کہ نا ممکن نظر آنے کے باوجود معاہدہ ہو سکتا ہے۔

دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش کے طور پر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہر اس ملک کی مصنوعات پر 25 فیصد محصول (ٹیرف) عائد کریں گے جو ایران سے تجارت کرے گا۔ لیکن عملی طور پر ایسا ہونا مشکل نظر آتا ہے کیوں کہ ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار چین ہے۔

گزشتہ سال ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے تجارتی جنگ بند کرنے پر اتفاق کیا تھا اور بیجنگ میں اپریل میں ایک اجلاس ہونے جا رہا ہے۔ اجلاس میں دنیا کی دو سب سے بڑی طاقتوں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا جائے گا۔ کیا صرف ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ٹرمپ اس اجلاس کو خطرے میں ڈالیں گے؟

تہران میں بوڑھے ہوتے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی سب سے بڑی ترجیح اسلامی جمہوریہ کا نظام حکومت قائم رکھنا ہے۔ مظاہرے دوبارہ پھوٹے تو سخت رد عمل کی توقع کی جا سکتی ہے۔

تاہم مظاہرین میں کوئی باضابطہ قیادت موجود نہیں۔ نصف صدی قبل انقلاب کے بعد معزول کیے گئے شاہ کے بڑے بیٹے قائد بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن خاندان کے ماضی اور اسرائیل سے قربت کی وجہ سے ان کی مقبولیت محدود دکھائی دیتی ہے۔

ایک سبق جو تہران کے علما اور فوجیوں کو پریشان کر سکتا ہے، وہ ان کے سابق اتحادی شامی صدر بشار الاسد کی مثال ہے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ جنگ جیت چکے ہیں۔ سعودی عرب اور عرب لیگ آہستہ آہستہ انھیں بحال کرتے جا رہے تھے، جب 2024 کے آخر میں انھیں باغیوں کے منظم حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

دو اہم ترین اتحادیوں، روس اور ایران نے انھیں بچانے کی کوشش کی نہ وہ ایسا کرنے کی سکت رکھتے تھے۔

چند ہی دن میں اسد اور ان کا خاندان جلا وطن ہونے کے لیے ماسکو پرواز کر چکے تھے۔

ایک آمرانہ حکومت آہستہ آہستہ بوسیدہ ہوتی ہے اور پھر اچانک گر جاتی ہے۔ جب اسد کے ہاتھ سے شام گیا، تو یہ بہت تیزی سے ہوا۔ ایک اور مثال جس پر ایران کو غور کرنا چاہیے، وہ 2011 میں تیونس کے صدر بن علی کا زوال ہے، جب ملکی سکیورٹی فورسز سے مظاہرین کو بچانے کے لیے فوج سامنے آ گئی۔

بن علی کی حکومت گرنے سے مصری صدر حسنی مبارک کے استعفے کو بھی تحریک ملی۔ اگر مصر کی فوج اپنے آپ کو بچانے کے لیے حسنی مبارک کو رخصت کرنے کا فیصلہ نہ کرتی تو شاید وہ بڑے مظاہروں کے باوجود بچ جاتے۔

کیا ایران میں بھی ایسا ہو سکتا ہے؟ شاید ابھی نہیں۔

اسلامی حکومت کے مخالفین امید رکھتے ہیں کہ اندرونی اور بیرونی دباؤ بڑھے گا اور قابل اعتبار قیادت ابھرے گی، تاکہ زوال کی رفتار بڑھ جائے، بتدریج سے اچانک کی جانب۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US