قبائلی اضلاع تجربہ گاہ نہیں، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

image

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عوام کو جبری طور پر گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو ماہ کی مدت کے فیصلے سمیت کسی بھی معاملے پر صوبائی حکومت سے مشاورت نہیں کی گئی۔

ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں تیرہ متاثرین کے لیے قائم رجسٹریشن سینٹر کے دورے کے موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ متاثرین کو تمام ممکن سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے تنخواہ کے بغیر 70 سال تک سرحدوں کی حفاظت کی مگر ریاست نے قبائلی عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی اضلاع کوئی تجربہ گاہ نہیں، ہر حکومت آ کر نئی پالیسی آزمانا چاہتی ہے یہ ناکام پالیسی کل بھی ناکام تھی اور آئندہ بھی ناکام رہے گی۔ کسی بھی صورت اس ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے عوامی حمایت کے بغیر کوئی بھی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار قبائلی ضلع سے وزیراعلیٰ منتخب ہوا ہے کچھ لوگوں کو یہ حقیقت قبول نہیں، اسی لیے قبائلی وزیراعلیٰ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے وزیراعلیٰ نامزد ہونے کے بعد مسلسل منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے ناکام پالیسیوں پر تنقید کرنے پر مجھے دہشت گردوں کا حمایتی کہا جاتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ مجھے ٹارگٹ کرنے کے لیے میرے علاقے کے عوام کو بے گھر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی عورتوں اور بزرگوں کی بے حرمتی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے ہم بندوقوں کا مقابلہ قلم اور شعور سے کریں گے ہم اپنے بچوں کو بندوق نہیں بلکہ قلم اور تعلیم دیں گے۔سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ خون کے آخری قطرے تک آئینی حدود میں اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US