وہ ’تجارتی بزوکا‘ جو فرانس کے خیال میں ٹرمپ کو خوف زدہ کر سکتا ہے

معاشی جبر کی روک تھام کرنے والا آلہ تجارتی تنازعات حل کرنے کے لیے ایسا ’ہتھیار‘ ہے جس کے ڈر سے تنازعات جنم ہی نہیں لیتے۔
فرانس کے صدر ایمینوئل میخواں اور امریکی صدر ڈونڈ ٹرمپ
ANDREW CABALLERO-REYNOLDS/AFP via Getty Images
ایمینوئل میخواں میخواں نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ٹرمپ اضافی محصولات عائد کرنے کی دھمکی پر عمل کریں تو یورپی یونین بھی امریکہ کے خلاف جوابی کارروائی کرے

’یورپ خود کو بلیک میل ہونے کی اجازت نہیں دے گا‘

یہ الفاظ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن کے تھے۔ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان پر رد عمل دے رہی تھیں کہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کے منصوبے کی مخالفت کرنے پر ڈنمارک اور سات دیگر یورپی اتحادیوں پر اضافی محصولات عائد کیے جائیں گے۔

امریکی صدر نے سنیچر کے روز سماجی رابطوں کے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا: ’عالمی امن داؤ پر لگا ہے! چین گرین لینڈ چاہتا ہے اور ڈنمارک اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا۔‘

ساتھ ہی انھوں نے یہ اعلان کیا کہ ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سے امریکہ آنے والی مصنوعات پر 10 فیصد محصول لاگو ہو گا۔ جون میں یہ شرح بڑھ کر 25 فیصد ہو جائے گی اور تب تک برقرار رہے گی جب تک ڈنمارک کے حکام قطب شمالی کا یہ جزیرہ انھیں فروخت کرنے پر راضی نہیں ہوتے۔

ٹرمپ نے یہ اعلان اُس وقت کیا جب محصولات کے دائرہ کار میں آنے والے ممالک نے گرین لینڈ کی علاقائی سلامتی یقینی بنانے کے لیے وہاں فوجی بھیجے۔

اگرچہ متاثرہ ممالک کی حکومتوں نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ سفارتی رابطے شروع کر دیے ہیں اور ’خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کی بنیاد پر مکالمے میں شامل ہونے کی آمادگی‘ ظاہر کی ہے۔ لیکن اسی موقع پر کچھ ممالک نے اشارہ دیا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ غیر معمولی ٹکراؤ کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔

انھوں نے یورپی یونین میں اپنے ہم منصبوں سے کہا ہے کہ وہ اینٹی اکنامک کوئرژن انسٹرومنٹ فعال کریں تاکہ ٹرمپ کی ’نا قابل قبول‘ دھمکی کا جواب دیا جا سکے۔ اے سی آئی کو ’تجارتی بزوکا‘ (راکٹ داغنے والا ہتھیار) بھی کہا جاتا ہے۔

جرمن فوجی گرین لینڈ جانے والے طیارے میں سوار ہو رہے ہیں
AFP via Getty Images
ٹرمپ نے آٹھ یورپی ممالک کے گرین لینڈ میں فوج بھیجنے کے فیصلے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے

غیر ملکی دباؤ کے خلاف ایک ڈھال

اے سی آئی کو سنہ 2023 میں یورپی یونین نے منظور کیا تھا اور یورپی یونین کی ویب سائٹ پر درج وضاحت کے مطابق، یہ تجارتی تنازعات حل کرنے کے لیے ایسا ’ہتھیار‘ ہے جس کے ڈر سے تنازعات جنم ہی نہیں لیتے۔

یہ ہتھیار ’تیسری دنیا کے ممالک کو یونین کے مفادات کے خلاف اقدامات کرنے سے روکنے کے علاوہ یونین کو جوابی اقدامات کی اجازت بھی دیتا ہے۔‘

آپ کے خیال میں وہ جوابی اقدامات کون سے ہو سکتے ہیں؟

یہ دستاویز ’زیادہ محصولات، برآمدی یا درآمدی لائسنس، خدمات کی فراہمی، غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری یا حکومتی خریداری تک رسائی جیسی تجارتی پابندیاں‘ لگانے کی اجازت دیتی ہے۔

اگر فرانس کی درخواست منظور کر لی جاتی ہے تو یورپی یونین نہ صرف امریکہ سے یورپ آنے والی مصنوعات پر اضافی محصول عائد کر سکتی ہے بلکہ یہ بھی پابندی لگا سکتی ہے کہ امریکہ کو 27 رکن ممالک میں کسی بھی کمپنی کے حصص خریدنے، سرکاری یا نجی مالی معاونت حاصل کرنے اور ان حکومتوں کے ساتھ سرکاری معاہدوں میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔

اے سی آئی یورپی یونین کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ دباؤ ڈالنے والے ملک سے تلافی کے طور پر معاوضہ طلب کرے۔

دسمبر 2025 میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا ایک اجلاس۔
Dursun Aydemir/Anadolu via Getty Images
مختلف یورپی رہنماؤں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیوں کا مربوط جواب دیا جائے گا

چین اور امریکہ نشانے پر

اے سی آئی کا متن تیسری دنیا کے ایسے ممالک کی حوصلہ شکنی کے لیے تیار کیا گیا تھا جو ’تجارت یا سرمایہ کاری کو متاثر کرنے والے اقدامات کر کے یا ایسے اقدامات کی دھمکی دے کر یورپی یونین یا رکن ملک پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں۔‘

جرمنی سے تعلق رکھنے والے یورپی ممبر پارلیمان برنڈ لانگا نے ضابطے کی منظوری کے بعد کہا: ’یہ ہمیں دوسرے ممالک کی جانب سے دباؤ پر فوری رد عمل دینے کی اجازت دیتا ہے۔ اب ہمارے پاس مختلف قسم کے جوابی اقدامات موجود ہیں۔ اگرچہ اے سی آئی کا بنیادی مقصد تو دباؤ کی روک تھام ہی ہے لیکن ضرورت پڑنے پر ہم یورپی یونین کی خود مختاری کا دفاع بھی کر سکیں گے۔‘

یورپی یونین کے حکام نے اے سی آئی کی تیاری ٹرمپ کا پہلا دور صدارت ختم ہونے کے کچھ ہی دیر بعد شروع کی، جب بحر اوقیانوس کے دونوں جانب تجارتی تعلقات تعطل کا شکار ہوئے۔ لیکن سنہ 2021 میں ایک واقعے نے لتھوینیا کو متاثر کیا، جس کے بعد اے سی آئی کی تیاری زور پکڑ گئی۔

یہ وہ سال تھا جب لتھوینیا کے حکام نے تائیوان کے ساتھ تجارتی تعلقات بہتر بنانے کا اعلان کیا تھا۔ تائیوان ایک ایسا جزیرہ ہے جسے چین اپنا ہی ’باغی صوبہ‘ سمجھتا ہے اور اس کے الحاق کا خواہش مند ہے۔

لتھوینیا کی جانب سے تائیوان سے تجارتی تعلقات بہتر بنانے کے اعلان کے بعد چین نے اس بالٹک ملک پر تجارتی پابندیاں لگا دیں۔

یورپی پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر درج ہے: ’اعلان کے چند ماہ بعد، لتھوینیا کی کمپنیوں نے چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرنے یا پہلے سے موجود معاہدوں کی تجدید میں مشکلات کی اطلاع دی۔ اس کے ساتھ ساتھ انھیں بندر گاہ پر موجود مال منتقل کرنے کی اجازت نہ ملنے اور درآمدی درخواستوں کے مسترد ہونے جیسے مسائل کا سامنا تھا۔‘

اس وقت اے سی آئی کی منظوری کا دفاع کرتے ہوئے یورپی یونین نے دعویٰ کیا کہ عالمی تجارتی تنظیم کے معاہدوں میں ’جبر‘ شامل نہیں ہے، تو تنازعات حل کرنے کے لیے عالمی تجارتی تنظیم کا جو نظام ہے، جبر یا دباؤ جیسے تنازعات اس کے ذریعے حل نہیں کیے جا سکتے۔

گذشتہ سال جب ٹرمپ نے محصولات کی عالمی جنگ شروع کی اور یورپی یونین کو نشانہ بنایا تو اے سی آئی کے اطلاق پر غور کیا گیا، تاہم اس موقع پر برسلز نے صرف مکالمے کا سہارا لیا۔

چینی صدر شی جن پنگ تالیاں بجا رہے ہیں جبکہ ان کے وزیروں میں سے ایک یورپی نمائندے کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر رہا ہے
Maxim Shemetov - Pool/Getty Images
یورپی یونین نے معاشی جبر کی روک تھام کرنے والا آلہ (اے سی آئی) فعال کیا تاکہ چین اور امریکہ کی جانب سے محصولات کا خطرہ کم کیا جا سکے

تھکا دینے والی سفارت کاری

اے سی آئی فعال کرنے کی درخواست سے پہلے میخواں نے ٹرمپ کے اعلان پر اپنی بے چینی واضح کر دی تھی۔ انھوں نے کہا تھا: ’کوئی ڈراوا یا دھمکی ہمیں متاثر نہیں کرے گی، نہ یوکرین میں، نہ گرین لینڈ میں، نہ ہی دنیا کے کسی اور حصے میں۔‘

فرانسیسی صدر کے علاوہ آئرلینڈ کے وزیر اعظم مشیل مارٹن نے بھی یورپی یونین کے نام نہاد ’تجارتی ہتھیار‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’اس کے استعمال پر غور ہو سکتا ہے۔‘

تاہم، آئرش پبلک براڈکاسٹنگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مارٹن نے پہلے مکالمے کا راستہ آزمانے کی سفارش کی۔

جن ممالک کو ٹرمپ نے دھمکی دی ہے ان کے رہنماؤں سمیت دیگر یورپی رہنماؤں نے بھی امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ کی تیاری سے پہلے سفارت کاری کی حمایت کی ہے۔

ناروے کے وزیر اعظم جوناس گار سٹور نے نارویجیئن براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو بتایا: ’ہمیں بہت محتاط رہنا ہوگا کہ ایسی تجارتی جنگ میں نہ پڑ جائیں جو قابو سے باہر ہو جائے۔ مجھے نہیں لگتا کہ کسی کو اس سے فائدہ ہوگا۔‘

کنٹینرز کی تصویر جن پر یورپی یونین اور امریکہ کے جھنڈے بنے ہیں
Getty Images
2023 میں یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان تجارت 1.8 کھرب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی

سنہ 2023 میں یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان مصنوعات اور خدمات کی تجارت 1.8 کھرب امریکی ڈالرز تک پہنچ گئی تھی۔ یورپی کمیشن کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر پانچ ارب امریکی ڈالرز مالیت کی اشیا اور خدمات یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان موجود بحر اوقیانوس پار کرتی ہیں۔

مصنوعات کے لحاظ سے یورپی یونین نے 170 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کا سرپلس برقرار رکھا۔ کسی ملک نے جتنا خریدا، اس سے زیادہ بیچ کر جو اضافی پیسہ بچ جائے، اسے سرپلس کہتے ہیں۔

یعنی یورپی یونین امریکہ سے جتنی مالیت کی مصنوعات خریدتی ہے اس سے 170 ارب ڈالرز زیادہ کی مصنوعات امریکہ کو فروخت کرتی ہے۔ جب کہ خدمات کے شعبے میں امریکہ کو 120 ارب ڈالرز کی برتری حاصل ہے۔ یہ اعداد و شمار یورپی یونین کے ہیں۔

گذشتہ جولائی میں واشنگٹن اور برسلز (یورپی یونین کا مرکز یا عملی دارالحکومت) نے ایک معاہدہ کیا جس کے تحت واشنگٹن نے محصولات کو 25 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کر دیا۔ اس کے بدلے میں برسلز نے امریکہ میں صنعتی اور دفاعی شعبے میں اربوں ڈالرز سرمایہ کاری کا وعدہ کیا۔

اب اس معاہدے کے منجمد ہونے کا امکان بھی زیر غور ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US