وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ملک بھر میں جاری تمام سیکیورٹی آپریشنز قومی ایکشن پلان (NAP) کے تحت، صوبائی کابینہ اور وزرائے اعلیٰ کی منظوری سے کیے جا رہے ہیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے طلال چوہدری نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ 14 برس سے خیبر پختونخوا میں کس کی حکومت رہی؟ اور کہا کہ صوبے اور سابق قبائلی علاقوں میں موجودہ صورتحال پاکستان تحریک انصاف کی ناقص پالیسیوں اور نااہلی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے دوسرے مرحلے پر مکمل قومی اتفاقِ رائے موجود ہے، اور اس پر سوال اٹھانا یا اسے سیاسی رنگ دینا دہشتگردوں کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور حکومتیں NAP کے فریم ورک پر متفق ہیں۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ سابق فاٹا میں آپریشنز کے لیے 5 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں اور کسی بھی کارروائی کا آغاز صوبائی قیادت سے معاہدوں اور مشاورت کے بعد ہی کیا گیا۔
طلال چوہدری نے واضح کیا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت کیے جانے والے اقدامات بلا تعطل جاری رہیں گے، اور وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ مل کر امن و استحکام کی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔