قومی اسمبلی نے گھریلو تشدد کی روک تھام اور متاثرین کے تحفظ کے لیے پیش کیا گیا گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل کثرتِ رائے سے منظور کرلیا ہے۔
اس موقع پر وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ اس قانون میں پہلی بار مردوں کو بھی گھریلو تشدد کے متاثرین کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ معاشرے میں یہ حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے کہ مرد بھی گھریلو تشدد کا شکار ہوتے ہیں، تاہم وہ اکثر اس بارے میں بات نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں کہ قانون میں صرف خواتین کے حقوق کا تحفظ ہو اور مردوں کو نظر انداز کردیا جائے۔
وزیرِ مملکت نے مزید کہا کہ یہ بل مساوات اور انصاف کے اصولوں پر مبنی ہے اور اس کا مقصد گھریلو تشدد کے ہر متاثرہ فرد کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے، چاہے وہ عورت ہو یا مرد۔
ان کے مطابق یہ قانون معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی لانے اور گھریلو تشدد جیسے حساس مسئلے پر خاموشی توڑنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔