ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق حکومتی فیصلے کو بعض حلقوں کی جانب سے غلط رنگ دے کر یو اے ای کی ناکامی یا سعودی کامیابی جیسے بیانیے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جسے حکومتی ذرائع نے حقائق کے برعکس اور سفارتی طور پر غیر ضروری غلط فہمی قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومتِ پاکستان نے آؤٹ سورسنگ کا بنیادی فیصلہ برقرار رکھا ہے، تاہم طریقہ کار کو محدود گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ (G2G) ماڈل سے نکال کر اوپن، شفاف اور مسابقتی بڈنگ کی طرف منتقل کیا گیا ہے تاکہ بہترین آپریٹر کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر ہو سکے۔
حکومتی مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ نومبر 2025 میں ادارہ جاتی سطح پر طے پا چکا تھا، مگر میڈیا میں اس کی رپورٹنگ اب سامنے آنے کے باعث اسے تازہ یوٹرن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو درست نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آؤٹ سورسنگ سے رجوع نہیں کیا گیا بلکہ صرف طریقہ بہتر بنایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ماضی میں اسلام آباد ایئرپورٹ کو کسی دوسرے ملک کی سرکاری سطح کے ادارے کے ذریعے چلانے کا امکان ایک ابتدائی آپشن کے طور پر دیکھا گیا تھا، مگر یہ کوئی حتمی یا واحد راستہ نہیں تھا۔ بعد ازاں جب تینوں بڑے ہوائی اڈوں کے لانگ ٹرم کنسیشن میں مقامی اور بین الاقوامی فریقین کی واضح دلچسپی سامنے آئی تو شفافیت اور بہتر مالی و انتظامی قدر کے لیے کھلا مقابلہ زیادہ منطقی راستہ بن گیا۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ سعودی جیت گیا، یو اے ای ہار گیا جیسا بیانیہ سراسر غلط ہے، کیونکہ یہ کوئی مقابلہ نہیں بلکہ فیصلہ پروکیورمنٹ کے اصولوں، شفافیت اور قومی مفاد کی بنیاد پر کیا گیا ہے کسی مخصوص فریق کو فائدہ یا نقصان پہنچانے کے لیے نہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اگر G2G موڈ سے آگے بڑھنے کا فیصلہ ہوا تو یہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بالغ نظری، باہمی مشاورت اور انتظامی ضرورت کے تحت ہوا جس کی بنیاد احترام اور اعتماد ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق غیر ذمہ دارانہ تشریحات دوست ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کر سکتی ہیں جبکہ پاکستان اپنے شراکت دار ممالک کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور فیصلے ادارہ جاتی، قواعد کے مطابق اور شفاف انداز میں کرتا ہے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ اوپن بڈنگ کے ذریعے حکومت کو بہترین مالی آفر، بہتر سروس ڈیلیوری اور مضبوط کارکردگی اہداف حاصل کرنے کا موقع ملے گا جبکہ ہر فریق کو برابر مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
واضح کیا گیا ہے کہ آؤٹ سورسنگ کا دائرہ محدود ہوگا صرف لینڈ سائیڈ آپریشنز آؤٹ سورس کیے جائیں گے جبکہ ایئر سائیڈ اور سیکیورٹی سے متعلق تمام حساس امور بدستور حکومت کے پاس ہی رہیں گے۔