سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے گل پلازہ کے متاثرہ مقام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا یہاں آنے کا مقصد فوٹوگرافی نہیں بلکہ اس سانحے کی وجوہات اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام پر بات کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سانحے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، ہمارے لوگ شہید ہوئے اور 1200 سے زائد دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں، اب اصل سوال یہ ہے کہ حکومت اور چیمبر آف کامرس اس نقصان کے ازالے کے لیے کیا کریں گے۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ یہ سانحات اچانک نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے حکومتوں کی نااہلی ہوتی ہے۔ اگر حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی تو یہ سانحہ پیش نہ آتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کراچی میں موجود دیگر دکانوں اور مارکیٹوں کے لیے حکومت نے کیا حفاظتی اقدامات کیے ہیں تاکہ مزید ایسے سانحات نہ ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے واقعات میں متاثرین کی شناخت کا عمل بھی انتہائی مشکل ہو جاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ اس سانحے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے اور مستقبل میں اس نوعیت کے حادثات سے بچاؤ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
سابق وزیرِ اعظم نے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی تجویز پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں اس کا مقصد سمجھ نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں تو حکومت کا مستقل دفتر قائم ہونا چاہیے تھا تاکہ متاثرین کو فوری ریلیف اور رہنمائی مل سکتی۔
اس موقع پر متاثرہ تاجروں نے شاہد خاقان عباسی کو گھیر لیا اور شکوہ کیا کہ ہمارا کاروبار تباہ ہو گیا ہے، اب ہمارے لیے کیا کیا جائے گا اور حکومت کون سے عملی اقدامات کرے گی۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس معاملے کو حل کرنا ناگزیر ہے کیونکہ عوام کا جوڈیشل کمیشن سے اعتماد اٹھ چکا ہے اور ایسے کمیشنوں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کو چھیڑنے کے لیے بھی مکمل اور سنجیدہ بحث ہونی چاہیے تاکہ اختیارات اور ذمہ داریوں کا واضح تعین ہو سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو محض بیانات کے بجائے ٹھوس پالیسی اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ کراچی میں مزید ایسے المناک سانحات کا راستہ روکا جا سکے۔