وفاقی حکومت نے وادی تیراہ کو فوجی احکامات پر خالی کرانے سے متعلق خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے ان خبروں کا نوٹس لے لیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ وادی تیراہ کو فوجی احکامات پر خالی کرایا جا رہا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ دعوے بدنیتی پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف غلط تاثر قائم کرنا ہے۔
وزارتِ اطلاعات نے واضح کیا کہ نہ تو وفاقی حکومت اور نہ ہی مسلح افواج کی جانب سے وادی تیراہ میں آبادی کی منتقلی کا کوئی حکم جاری کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں، جن میں شہری آبادی کے تحفظ کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
وزارت کے مطابق ان کارروائیوں کے لیے کسی قسم کی جبری نقل مکانی کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کوئی عمل کیا جا رہا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مقامی آبادی خود علاقے میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور تیراہ میں امن و استحکام چاہتی ہے۔
وزارتِ اطلاعات نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے محکمۂ ریلیف، بحالی و آبادکاری کی جانب سے 26 دسمبر 2025 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، جس کے تحت اطلاعات کے مطابق 4 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ رقم تیراہ (باغ) کے بعض علاقوں سے ممکنہ، عارضی اور رضاکارانہ نقل و حرکت کی صورت میں پیشگی انتظامات کے لیے رکھی گئی ہے۔
بیان کے مطابق اس ممکنہ نقل و حرکت کے لیے ٹرانسپورٹ، خوراک، نقد امداد، عارضی قیام، رجسٹریشن مراکز اور دیگر سہولیات کی تیاری شامل ہے۔ وزارت نے وضاحت کی کہ یہ مجوزہ رضاکارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کے مطابق ہے، جو ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے نمائندہ جرگے کے ذریعے سامنے آئی۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق اس عمل میں موسمی حالات، انتظامی سہولیات اور مقامی عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے اور یہ نقل مکانی کیمپوں کے قیام کے بغیر بھی انجام دی جا سکتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ صوبائی حکومت یا اس کے کسی عہدیدار کی جانب سے میڈیا کو دیا گیا ایسا کوئی بھی بیان جس میں اس معاملے کو مسلح افواج سے جوڑا جائے، سراسر غلط، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہے، جو سیاسی مقاصد کے تحت سکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔
دوسری جانب کوٹ مومن میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والوں کے لیے چار ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جبکہ علاقے سے انخلاء کو پاک فوج سے جوڑنا بھی سراسر غلط بیانی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حساس علاقوں میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشنز معمول کے مطابق جاری رہتے ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت پر زور دیا کہ وہ احتجاجی سیاست کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت فرانزک لیب قائم کرے اور عوامی فلاح کے منصوبے شروع کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام احتجاج کی کالز سن سن کر تھک چکے ہیں اور احتجاج کی سیاست میں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ عوام اپنی دہلیز پر سہولیات چاہتے ہیں اور اگلے انتخابات میں فیصلہ عوامی خدمت کی بنیاد پر ہوگا، احتجاج کی بنیاد پر نہیں۔