رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر انیس احمد نے آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام کے طلبہ سے پاکستان کے ماضی، حال اور مستقبل کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔
خطاب میں ڈاکٹر انیس احمد نے کہا کہ آج کی نوجوان نسل کو پاکستان کے ماضی کے بارے میں زیادہ تر آگاہی کتابوں اور مصنفین کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تاریخ کو تنقیدی اور ذمہ دارانہ انداز میں سمجھا جائے۔
انہوں نے نوجوانوں کو قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ وہ مستقبل کے معمار کے طور پر اپنی قومی ذمہ داریوں کا ادراک کریں اور مثبت کردار ادا کریں۔
وائس چانسلر نے علامہ اقبال کے تصورِ قومیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسلمان ایک منفرد قوم ہیں جن کی جداگانہ ثقافت، عقیدہ، معیشت اور اسلامی اقدار تھیں، جو متحدہ ہندوستان میں محفوظ نہیں رہ سکتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ دو قومی نظریہ ہی پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا، جسے قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے تین سنہری اصولوں میں سمو دیا۔
ڈاکٹر انیس احمد نے قائداعظمؒ کے پیغام کو دہراتے ہوئے کہا کہ فرقہ واریت اور صوبائیت ایک بیماری ہیں جن کا مؤثر علاج اسلامی تعلیمات میں موجود ہے، اور ان سے نجات ہی پاکستان کی ترقی اور استحکام کی ضمانت ہے۔