سپریم کورٹ آف پاکستان نے کرایہ داری سے متعلق ایک اہم اور حتمی اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جائیداد مالک کے انتقال کے بعد قانونی ورثا خود بخود مالک مکان بن جاتے ہیں اور اس کے لیے کسی نئے کرایہ نامے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جبکہ جسٹس شکیل احمد نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فوت شدہ مالک کے نام پر عدالت میں کرایہ جمع کروانا قانونی ادائیگی تصور نہیں ہوگا۔ سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں کرایہ ادا نہ کرنے پر کرایہ داروں کو بے دخل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
فیصلے کے مطابق اصل مالک کے انتقال کے بعد اس کے بیٹے نے کرایہ اور بقایاجات کی ادائیگی کے لیے قانونی نوٹس جاری کیا، تاہم کرایہ داروں نے، حالانکہ وہ مالک کی وفات سے آگاہ تھے اور جنازے میں بھی شریک ہوئے، قانونی ورثا کو کرایہ ادا نہیں کیا۔
نوٹس کے باوجود کرایہ دار عدالت میں مرحوم مالک کے نام پر کرایہ جمع کرواتے رہے، جس پر قانونی وارث نے عدم ادائیگیِ کرایہ کی بنیاد پر بے دخلی کی درخواست دائر کی۔
کرایہ داروں نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت میں کرایہ جمع کروانے سے وہ بے دخلی سے محفوظ ہیں، تاہم سپریم کورٹ نے یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نوٹس کے بعد مرحوم کے نام پر کرایہ جمع کروانا درست ادائیگی نہیں ہے۔
عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ قانونی ورثا کو کرایہ ادا نہ کرنا اور اس کے باوجود مرحوم کے نام پر رقم جمع کروانا دانستہ نادہندگی (willful default) کے مترادف ہے، جس پر کرایہ دار بے دخلی کے ذمہ دار ہوں گے۔
سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے اس حکم کو بھی برقرار رکھا جس کے تحت کرایہ داروں کو 60 دن کے اندر دکانیں خالی کرکے مالک کے حوالے کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔