وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قیمتی پتھروں اور معدنیات خصوصاً جیم اسٹون انڈسٹری کے فروغ سے متعلق اہم اجلاس وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں جیم اسٹونز کے وسیع ذخائر موجود ہیں جن کی استعداد کو مؤثر طور پر بروئے کار لا کر قیمتی پتھروں کی برآمدات کے ذریعے خاطر خواہ زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں مجوزہ جیم اسٹون سینٹرز کے قیام کے لیے بین الاقوامی شہرت کے حامل ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے اسلام آباد جیم اسٹون سینٹر کو اگست 2027 تک مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی ماہرین کی معاونت سے جیم اسٹون پالیسی فریم ورک پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے جیم اسٹون انڈسٹری میں ویلیو ایڈیشن کو فروغ دے کر برآمدات میں اضافے پر زور دیا اور مجوزہ سینٹرز میں جدید ٹیکنالوجی اور آلات نصب کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے جیم اسٹون انڈسٹری کے فروغ کے لیے تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس کو جیم اسٹون انڈسٹری کی ترویج کے حوالے سے اب تک کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئی منظور شدہ جیم اسٹون پالیسی پر اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کے لیے چار سیشنز کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔ اسلام آباد میں جیم اسٹون سینٹر کے قیام کے لیے شاہراہ دستور پر جگہ کا تعین کرلیا گیا ہے۔
بریفنگ کے مطابق اسلام آباد جیم اسٹون سینٹر میں بین الاقوامی معیار کی ویلیو ایڈیشن سروسز، سرٹیفیکیشن، انکیوبیشن سینٹر اور ٹریڈ سینٹر قائم کیے جائیں گے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے دفاتر بھی سینٹر میں موجود ہوں گے۔ جیم اسٹونز کے حوالے سے جیو فینسنگ پر مبنی سائنٹیفک روڈ میپ پر بھی کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔
اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔