نیب نے محکمہ توانائی سندھ میں تین ارب روپے سے زائد کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات شروع کردیں۔
سندھ سولر انرجی پراجیکٹ میں جعلی کسٹمز دستاویزات کے ذریعے تین ارب دو کروڑ روپے کے اسکینڈل کا انکشاف ہوا تھا، منصوبہ عالمی بینک کے دس کروڑ ڈالر قرض سے چلایا جارہا تھا۔
غیر ملکی سپلائر اور مقامی کلیئرنگ ایجنٹ نے پراجیکٹ اہلکاروں کی ملی بھگت سے فراڈ کیا۔
صوبے بھر کے کم آمدنی والے گھرانوں میں دو لاکھ سولر ہوم سسٹم کٹس تقسیم کی جانی تھیں۔