وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ حکومت نے وادی تیراہ میں کسی فوجی آپریشن کے حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا، کم از کم تنقید کرنے والوں کو نوٹیفکیشن دیکھ لینا چاہیے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ تیراہ میں تقریباً 12 ہزار ایکڑ رقبے پر بھنگ کی کاشت ہوتی ہے، جس کا منافع 35 لاکھ روپے فی ایکڑ تک ہے، اور یہی منافع پورے معاملے میں ایک بڑا فیکٹر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس منافع سے سیاسی عناصر یا کالعدم ٹی ٹی پی فائدہ اٹھاتی ہے۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ تیراہ سے نقل مکانی کوئی نیا یا غیر معمولی معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک روٹین عمل ہے، جسے بحران بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت میں بعض لوگ طالبان کو بھتہ دیتے رہے ہیں اور یہ بھتہ ممکن ہے اسلام آباد تک بھی جاتا ہو۔
وزیر دفاع کے مطابق نقل مکانی کے معاملے پر 11 دسمبر کے جرگے کے بعد 24 اور 31 دسمبر کو وادی تیراہ کے مقامی مشران اور صوبائی حکومت کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں، جبکہ اس تمام عمل میں فوج کا کوئی کردار نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ فوج اور مبینہ آپریشن پر ڈال رہی ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔