سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس محمد علی مظہر نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس پر 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی نوٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلد بازی، غصے یا تعصب میں کیے گئے فیصلے نہ صرف ملکی قوانین بلکہ اسلامی اصولِ انصاف کے بھی منافی ہیں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے اپنے نوٹ میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے ماضی کے انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود تسلیم کیا تھا کہ بھٹو کیس کا فیصلہ دباؤ کے تحت کیا گیا۔ جسٹس مظہر کے مطابق یہ اعتراف کسی بھی صاحبِ عقل شخص کے لیے اس حقیقت کو واضح کر دیتا ہے کہ یہ ایک عدالتی قتل تھا، اور ایسا اعتراف ایک جج کے حلف کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
تفصیلی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کوئی جج کسی فریق یا وکیل سے ناراض ہو جائے یا اپنا صبر کھو بیٹھے تو قانون کے مطابق منصفانہ انصاف فراہم کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے آبزرویشن دی کہ بھٹو کیس کی سماعت کرنے والے ججز مبینہ طور پر اپیل کی سماعت کے دوران غصے کی کیفیت میں تھے، جس کے باعث آزاد اور غیر جانبدار ذہن کے ساتھ فیصلہ کرنا ممکن نہیں رہا۔
انہوں نے واضح کیا کہ انصاف کی بنیاد غیر جانبداری، تحمل اور قانون کی بالادستی ہے، اور ان اصولوں سے انحراف کسی بھی عدالتی فیصلے کو متنازع بنا دیتا ہے۔