ملتان میں سابق وفاقی وزیر مخدوم جاوید ہاشمی کے گھر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ریڈ کیا، جس کے دوران ان کی بیٹی، داماد اور نواسے کو حراست میں لے لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع پر عمل میں لائی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مخدوم جاوید ہاشمی ریڈ کے وقت گھر پر موجود نہیں تھے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی سخت کردی گئی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 8 فروری کو احتجاج کی کال دی گئی ہے، جس کے پیش نظر اسلام آباد اور پنجاب سمیت ملک بھر میں پی ٹی آئی کے ایم پی ایز اور کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی صورت میں ملک کو بند نہیں ہونے دیا جائے گا اور عوام کو مشکلات میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سیکیورٹی ادارے صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
کراچی میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے گھروں پر چھاپے
دوسری جانب کراچی میں رات گئے پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے گھروں بھاری نفری کے ساتھ چھاپے مارے، جناح ٹاون کے صدر ایڈووکیٹ رفاقت عمر کو سولجر بازار آفس سے گرفتار کرلیا گیا، ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے صدر یاسر بلوچ کو بھی پولیس نے گرفتار کرلیا یے۔
سیکریٹری اطلاعات فوزیہ صدیقی، جنرل سیکریٹری ارسلان، ملیر کے صدر راشد عباسی، ویسٹ کے نائب صدر شفیق شاہ ودیگر ممبرز کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے۔ شفیق شاہ کے واد اور بھائی کو پولیس نے حراست میں لے کر تھانے لے گئے۔ ملک عارف اعوان ویسٹ ٹاون کے چیئرمین اور کراچی کے سینئر نائب صدر کے گھر پر بھی چھاپے مارے جانے کی اطلاع ملی ہے۔