پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھا دیا

image

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ عالمی یومِ آب کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون پر یقین رکھتا ہے اور اس کی پاسداری کو ضروری سمجھتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پانی کے ذخائر ماحولیاتی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کے عالمی یومِ آب کا موضوع ”پانی اور روایتی علم، ثقافتی ورثے کا احترام“ پانی کی ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ پانی کو جنگ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، جسے پاکستان کسی صورت قبول نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ پانی کے ذخائر خشک سالی، سیلاب اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہیں۔ وزیراعظم کے مطابق پانی کے وسائل کا تحفظ صرف ماحولیاتی ذمہ داری نہیں بلکہ اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے عوام اور اداروں پر زور دیا کہ وہ ذاتی اور قومی سطح پر پانی کے تحفظ کے عزم کی تجدید کریں۔

دوسری جانب پاکستان نے ایک بار پھر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھا دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام عالمی معاہداتی نظام کے لیے ایک سنگین آزمائش ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط اور دیرپا پانی کی تقسیم کے معاہدوں میں شمار ہوتا ہے اور یہ صرف دو طرفہ نہیں بلکہ عالمی اہمیت کا حامل معاہدہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کے اشتراکی نظام میں یکطرفہ رکاوٹ کے سنگین انسانی، ماحولیاتی اور امن و سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے لیے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے لیے پانی کے معاہدوں کو نقصان پہنچانا عالمی اعتماد کو مجروح کرے گا اور سرحدی و تجارتی معاہدوں کو بھی کمزور کرے گا۔ پاکستان کے مندوب نے بین الاقوامی قانون سے پاکستان کی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے ذمہ داری اور ضبط کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US