وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا اسلام یا کسی بھی مذہب سے کوئی تعلق نہیں، تمام مذاہب امن، رواداری اور انسانیت کا درس دیتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک اہم بین الاقوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
یہ تقریب اسلامک ملٹری کاؤنٹر ٹیررازم کولیشن (آئی ایم سی ٹی سی) کے زیر اہتمام منعقد کی گئی، جس کا عنوان بحالی اور سماجی دوبارہ شمولیت تھا۔ پانچ روزہ اس بین الاقوامی اقدام کا مقصد دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی نفسیاتی بحالی، نظریاتی اصلاح اور انہیں دوبارہ معاشرے کا فعال اور مثبت حصہ بنانے کے لیے ماہرین کی نگرانی میں تربیت فراہم کرنا ہے۔
وزیر دفاع نے اپنے خطاب میں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی جیسے سنگین چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔ اس دوران پاکستان نے 90 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانی دی جبکہ ملکی معیشت کو تقریباً 155 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی افواج اور عوام کی عظیم قربانیاں عالمی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل وابستگی کا واضح ثبوت ہیں۔ خواجہ محمد آصف نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے بغیر نہ پائیدار امن ممکن ہے اور نہ ہی معاشی ترقی۔
وزیر دفاع نے انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی میں ری ہیبی لیٹیشن (بحالی) کو ایک اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ بحالی اور سماجی انضمام کے مؤثر اقدامات کے ذریعے انتہا پسندانہ بیانیے کو جڑ سے ختم کیا جا سکتا ہے۔