امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے مزار قائد پر یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کراچی مظلوم اہلِ کشمیر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے جمع ہے اور پوری دنیا کے باضمیر انسان کشمیری عوام کی جدوجہد کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قاضی حسین احمد نے اہلِ کشمیر کی پکار پر دنیا بھر کے باضمیر انسانوں کو ان کے ساتھ کھڑا کیا اور گزشتہ 36 برسوں سے اظہارِ یکجہتی کا یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ قیامِ پاکستان کے بعد کشمیر کی اسمبلی نے پاکستان کے حق میں قرارداد منظور کی تھی اور خود جواہر لعل نہرو کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں لے کر گئے تھے، لیکن افسوس کہ 78 سال گزرنے کے باوجود اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مظلوم اقوام کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے کہ ان پر زبردستی حل مسلط کیا جائے جبکہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کو آزادی دی جا سکتی ہے تو اہلِ کشمیر کو کیوں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ کلمہ گو ہیں اور پاکستان سے محبت کرتے ہیں، اور آج بھی ان کی جدوجہد پاکستان سے الحاق کے لیے ہے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ گزشتہ 78 برسوں میں لاکھوں کشمیری شہادتیں دے چکے ہیں، جن میں بچے، مائیں، بہنیں اور بزرگ شامل ہیں، مگر اس کے باوجود او آئی سی کے ایجنڈے پر بھی کشمیر کا مسئلہ مؤثر انداز میں شامل نہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حکمرانوں نے بھی کشمیر کاز کے لیے سنجیدہ اور مؤثر کوششیں نہیں کیں اور وہ امریکی غلامی میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی اول روز سے یہی رہی ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان اور سید علی گیلانی کی شروع کی گئی تحریک آج بھی پوری قوت سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کشمیریوں کے حقوق پر ڈاکا ہے، لیکن کشمیر کی گلیاں، بازار اور پہاڑ گواہ ہیں کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے بیلٹ گنز کا استعمال کیا، مگر اس کے باوجود کشمیریوں کے دلوں سے پاکستان کی محبت ختم نہیں کی جا سکی۔ منعم ظفر خان نے موجودہ حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ایک کرپٹ ٹولہ ہے جو عوام سے جینے کا حق چھین رہا ہے اور جمہوریت کے دعوے کر رہا ہے۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیر کاز کے لیے دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں میں کشمیری ڈیسک قائم کیے جائیں، عالمی سطح پر مؤثر سفارتی مہم چلائی جائے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں یا ہر ممکن مؤثر ذریعے سے کشمیر کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔