اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے موقع پر ہونے والے خودکش حملے میں 31 نمازیوں کی شہادت اور متعدد کے زخمی ہونے پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس ظلم کا جواب ریاست پوری قوت سے دے گی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ مسجد میں نمازیوں کو شہید کرنے والے دین اور وطن کے دشمن ہیں، اور حملے میں ملوث دہشت گرد کے افغانستان آنے جانے کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے بھارت اور طالبان کے مبینہ گٹھ جوڑ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے جنگ لڑ رہا ہے کیونکہ اس کے پاس براہِ راست جنگ کرنے کی ہمت نہیں۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ سیکیورٹی گارڈز نے حملہ آور کو چیلنج کیا، جس پر اس نے فائرنگ کی اور آخری قطار میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
پولیس کے مطابق دھماکا مسجد و امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں نماز جمعہ کے دوران ہوا۔ عینی شاہدین نے دھماکے سے پہلے فائرنگ کی آوازیں سننے کی تصدیق کی، جبکہ دھماکے کے فوراً بعد پولیس، فوج اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
تمام زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کیا گیا اور اسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کردی گئی۔