پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے دیگر شہروں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
کئی روٹس پر کرایہ 100 روپے سے بڑھا کر 500 روپے تک وصول کیا جا رہا ہے جس پر مسافروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی پہلے ہی عروج پر ہے اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں اچانک اتنا بڑا اضافہ عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ شہریوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کریں اور کرایوں کو مناسب سطح پر برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کریں۔
دوسری جانب پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سینئر نائب چیئرمین چوہدری عرفان الٰہی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تیل ذخیرہ کرنے کے الزامات کی تحقیقات کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ڈپوؤں کی سخت جانچ پڑتال کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پیٹرول پمپ مالکان کو نشانہ بنانے کے بجائے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اسٹاک اور فروخت کا ریکارڈ چیک کرے۔