سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کی ذیلی کمیٹی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے گوداموں سے ضبط شدہ سگریٹ کی بڑی چوری کے معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کمیٹی کے رکن سینیٹر محمد طلحہ محمود بھی شریک تھے۔ اجلاس میں سوات اور مردان میں ایف بی آر کے گوداموں سے 2 ہزار 828 کارٹن سگریٹ چوری ہونے کے معاملے پر غور کیا گیا، جس کی مالیت تقریباً 25 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔
اجلاس میں ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ گزشتہ اجلاس میں دی گئی ہدایات پر عمل کیا جائے گا۔ ایف بی آر نے تجویز دی کہ کیس کی مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے حوالے کیا جائے۔
ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کیس وزارت داخلہ کے ذریعے ریجنل پولیس ہیڈ کوارٹرز سے ادارے کو بھجوایا گیا ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق گودام میں انتظامی غفلت کے کئی سنگین پہلو سامنے آئے ہیں، جن میں گودام کا کوئی انچارج افسر نہ ہونا، لاگ بک اور اسٹاک رجسٹر کا ریکارڈ موجود نہ ہونا، عملے کی ڈیوٹی روسٹر کا فقدان اور سی سی ٹی وی کیمروں کی عدم موجودگی شامل ہے۔
اس کے علاوہ ضبط شدہ سامان کو ایک گودام سے دوسرے گودام منتقل کرنے کے لیے کوئی معیاری طریقہ کار (SOPs) موجود نہیں تھا جبکہ ڈرائیورز کے گیٹ پاس کا ریکارڈ اور موبائل اسکواڈ کی آمد و رفت کا اندراج بھی نہیں کیا جاتا تھا۔
ذیلی کمیٹی کے کنوینر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایف بی آر، ایف آئی اے اور علاقائی پولیس کو ہدایت کی کہ تحقیقات جلد مکمل کرنے کے لیے باہمی رابطہ مزید مضبوط کیا جائے اور واقعے میں ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے جیو فینسنگ بھی کی جائے۔
سینیٹر محمد طلحہ محمود نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں اس معاملے میں صرف نچلے درجے کے ملازمین کو ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر سینئر افسران بھی ملوث پائے جائیں تو انہیں بھی قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔ انہوں نے آئندہ اجلاس میں گودام کی ویڈیو فوٹیج پیش کرنے اور وہاں تعینات عملے کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کی بھی سفارش کی۔
اجلاس میں ریجنل ٹیکس آفس پشاور نے سگریٹ بنانے والی مشینری سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایسی مشینری کی قیمت ایک ارب روپے سے زائد ہوتی ہے اور اگر اس پر غیرقانونی سگریٹ سازی ثابت ہو جائے تو مشینری ضبط کر لی جاتی ہے اور کیس عدالت کے فیصلے تک متعلقہ حکام کے پاس بھیج دیا جاتا ہے۔
دریں اثنا اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود نے ایک اور معاملہ بھی اٹھایا جس میں بتایا گیا کہ پاکستان کسٹمز نے جون 2011 سے 2025 تک نصف ٹن سے زائد سونا ضبط کیا۔ کسٹمز حکام کے مطابق ضبط شدہ سونا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالے کیا جاتا ہے جہاں اسے پگھلا کر اس کی مالیت قومی خزانے میں جمع کر دی جاتی ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ضبط شدہ سامان کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں نیلامی کے قابل اور تلف کیے جانے والے اشیا شامل ہیں۔ کسٹمز کے مطابق چھالیہ، سگریٹ اور دیگر نشہ آور اشیا کو نیلام نہیں کیا جا سکتا بلکہ انہیں تلف کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ایسے سامان کے چوری ہونے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں۔
کمیٹی نے پاکستان کسٹمز کو ہدایت کی کہ 2012 سے اب تک ضبط کیے گئے تمام سامان بشمول سونا، چاندی، الیکٹرانکس، سگریٹ اور منشیات کی مکمل تفصیلات دس دن کے اندر کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔