دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم نے گزشتہ روز مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو بھی کی جس میں رمضان المبارک کی مبارکباد کا تبادلہ کیا گیا اور ایران کی قیادت کے ساتھ اظہار تعزیت کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے خطے میں جاری کشیدگی اور حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے خلاف حملوں کی مذمت کی ہے۔ ساتھ ہی ایران کی جانب سے سعودی عرب، بحرین، اردن، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات پر حملوں کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ پاکستان نے ان ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زیادہ سے زیادہ تحمل اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔
ترجمان کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات میں دو پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے جن کی میتیں پاکستانی سفارت خانے کی مدد سے وطن منتقل کردی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ خطے میں پھنسے پاکستانیوں کی مدد کے لیے وزارت خارجہ کا کرائسس مینجمنٹ یونٹ 24 گھنٹے فعال ہے جبکہ بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں میں خصوصی سہولت ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے خطے اور دنیا کے متعدد رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں جن میں سعودی عرب، قطر، اردن، بحرین، عمان، ترکیہ، آذربائیجان اور دیگر ممالک شامل ہیں۔
بریفنگ میں پاکستان نے کینیڈا اور بھارت کے درمیان طویل المدتی یورینیم سپلائی معاہدے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ترجمان کے مطابق یہ معاہدہ عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کے لیے نقصان دہ اور خطے میں اسٹریٹجک توازن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن، مذاکرات اور سفارتی حل کی حمایت جاری رکھے گا اور تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی پاسداری کریں۔