ایران کے حمایت یافتہ ایک گروہ نے عراق میں امریکی فوجی طیارے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی فوجی طیارے کو ’عراق کی قومی خودمختاری اور فضائی حدود کے دفاع‘ میں نشانہ بنایا دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ ہے کہ اس واقعے میں ’دوستانہ یا دشمن کے فائر کا کوئی عمل دخل نہیں‘ ہے۔
- امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ عراق میں اس کا ایک طیارہ گِر کر تباہ ہو گیا
- اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کے پیشِ نظر یروشلم کے مقدس مقامات پر عبادات 'عارضی طور پر معطل' کر دی گئی ہیں
- امریکی صدر نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال 'بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے' اور 'بہت اچھی ہے۔'
- امریکہ کو ایران پر حملے کے لیے فضائی و علاقائی حدود نہیں استعمال کرنے دیں گے: اماراتی وزیر
- وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات میں مملکت سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے
ایران کے حمایت یافتہ گروہ کا عراق میں امریکی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، جہاز گرنے کے بعد ریسکیو کا عمل جاری: سینٹ کام