درآمدی کوئلے کو مقامی تھر کوئلے سے تبدیل کرنے کے منصوبے سے پاکستان کو آئندہ 26 برسوں میں 3.239 ارب ڈالر کا مجموعی معاشی فائدہ حاصل ہوگا۔
یہ انکشاف ڈورنیئر گروپ اور ای وائی پارتھینن کی جانب سے تیار کردہ بینک ایبل فزیبلٹی اسٹڈی میں کیا گیا، جو وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو پیش کی گئی۔
فزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق جیمشورو پاور پلانٹ یونٹ-01، جو پاکستان کا جدید الٹرا سپرکریٹیکل پاور پلانٹ ہے، میں درآمدی کوئلے کی جگہ 100 فیصد مقامی تھر لگنائٹ استعمال کیا جائے گا۔ رپورٹ میں اس تبدیلی کو تکنیکی، معاشی اور ماحولیاتی لحاظ سے مکمل طور پر قابلِ عمل قرار دیا گیا ہے۔
مطالعے کے مطابق منصوبے سے صرف غیر ملکی زرمبادلہ کی مد میں 2.113 ارب ڈالر کی بچت ممکن ہوگی، جبکہ درآمدی ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور شرح مبادلہ کے خطرات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ منصوبے کا لاگت و فائدہ تناسب 1.8 گنا بتایا گیا ہے، جو اسے مالی طور پر انتہائی سودمند بناتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاور سیکٹر کو مجموعی طور پر 1.720 ارب ڈالر کا خالص فائدہ حاصل ہوگا، جس میں بجلی کی پیداواری لاگت میں 1.051 ارب ڈالر کی کمی اور تھر مائن کی توسیع سے 669 ملین ڈالر کے اضافی فوائد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کو غیر ملکی قرضوں پر سود کی مد میں 1.519 ارب ڈالر کی بچت ہوگی، جس سے مجموعی معاشی فائدہ 3.239 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔
منصوبے پر مجموعی لاگت 116.6 ملین ڈالر آئے گی، جس میں 86.2 ملین ڈالر ابتدائی سرمایہ کاری شامل ہے۔ یہ ایک براؤن فیلڈ ترمیمی منصوبہ ہوگا، جس میں نئی کوئلہ پیداواری صلاحیت شامل کیے بغیر موجودہ پلانٹ میں انجینئرنگ تبدیلیوں کے ذریعے مقامی کوئلہ استعمال کیا جائے گا۔
فزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق اس منصوبے سے تھرپارکر میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، مقامی انفراسٹرکچر کو فروغ ملے گا اور درآمدی کوئلے پر انحصار کم ہونے سے ملک کی توانائی خود کفالت کی جانب پیش رفت تیز ہوگی۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے منصوبے کی نگرانی کے لیے قائم اعلیٰ سطحی اسٹیئرنگ کمیٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی کے 38 اجلاس منعقد ہوئے، جن میں سے 15 اجلاس انہوں نے خود صدارت کیے۔ اجلاسوں میں ریگولیٹرز، قرض دہندگان، تکنیکی ماہرین اور منصوبے کے اسپانسرز کے ساتھ مشاورت کے ذریعے مختلف رکاوٹوں کو دور کیا گیا۔
وزیر توانائی نے کے-الیکٹرک، جیمشورو پاور کمپنی لمیٹڈ اور پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے تعاون کو بھی سراہا اور کہا کہ یہ منصوبہ وزیراعظم شہباز شریف کے پاور سیکٹر ریفارم پلان کا اہم حصہ ہے، جس کا مقصد مقامی وسائل کے فروغ، مالی استحکام اور طویل المدتی توانائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔