کراچی میں سال کی سب سے بڑی ڈکیتی کا ڈراپ سین، 20 کروڑ روپے سمیت مرکزی ملزم گرفتار

image

کراچی کے علاقے جوہر آباد کی حدود میں بینک کیش وین سے 30 کروڑ روپے لوٹنے کی رواں سال کی سب سے بڑی واردات کو پولیس نے چند ہی دنوں میں حل کرتے ہوئے بین الصوبائی گروہ کے سرغنہ اور ماسٹر مائنڈ محمد علی عرف علی لنگڑا کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے ملزم کے قبضے سے لوٹی گئی رقم میں سے 20 کروڑ روپے، واردات میں استعمال ہونے والا ویگو ڈالہ اور پکسس کار برآمد کرلی ہے۔

مذکورہ واردات 12 جون 2026 کو جوہر آباد تھانے کی حدود میں نجی سیکیورٹی کمپنی کی کیش وین کے ساتھ پیش آئی تھی، جس کا مقدمہ الزام نمبر 201/2026 درج کیا گیا تھا۔ ڈی آئی جی ویسٹ زون عرفان بلوچ کی جانب سے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان کی سربراہی میں تشکیل دی گئی خصوصی ٹیم نے پیشہ ورانہ مہارت سے کام کرتے ہوئے کیس کو حل کیا۔

تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ سیکیورٹی کمپنی کی کیش وین کا چیف کریو واجد ولد میرلالا بھی اس واردات میں ملوث تھا۔ گرفتار ماسٹر مائنڈ محمد علی عرف علی لنگڑا نے پوری واردات کی منصوبہ بندی کی تھی اور لوٹی گئی رقم اپنے دو گھروں میں چھپا رکھی تھی۔ ملزم کا آبائی تعلق سوات سے ہے تاہم وہ طویل عرصے سے کراچی میں مقیم ہو کر وارداتوں کی قیادت کر رہا تھا۔

دورانِ تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ ملزم درجن سے زائد ارکان پر مشتمل ایک خطرناک بین الصوبائی گروہ کا سرغنہ ہے، جو کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، کوئٹہ اور ملتان سمیت ملک کے مختلف بڑے شہروں میں کئی برسوں سے بینک ڈکیتی اور لاکر توڑ کر سونا و ڈالرز لوٹنے کی درجنوں وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ ملزم محمد علی عرف علی لنگڑا اس سے قبل بھی راولپنڈی کے تھانہ رتہ امرال اور کراچی کے تھانوں گلشن اقبال، ڈیفنس، تیموریہ اور سولجر بازار میں درج سنگین مقدمات میں گرفتار ہوچکا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق واردات میں شامل گروہ کے دیگر ملزمان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع کرم (پاراچنار) سے ہے، جو بقیہ 10 کروڑ روپے کی رقم کے ساتھ فرار ہیں۔ مفرور ملزمان کی گرفتاری اور باقی رقم کی برآمدگی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور مختلف شہروں میں کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ گرفتار ملزم اور اس کے ساتھیوں سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US