وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ٹیکس چوری اور ٹیکس فراڈ کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر نگرانی کا نظام اپنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت ریونیو سے متعلق اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مارکیٹوں، دکانوں، شادی ہالز، فوڈ چینز، کاروباری مراکز اور دیگر شعبوں میں مالی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کی جائے گی تاکہ ٹیکس چوری کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
اجلاس میں طے پایا کہ میرج ہالز، مارکیز، فارم ہاؤسز اور بڑی فوڈ چینز میں کیمرے نصب کیے جائیں گے تاکہ کاروباری لین دین اور سیلز کو شفاف بنایا جا سکے۔ حکومت کے مطابق جعلی رسیدیں جاری کرنے اور سیلز چھپانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جبکہ ہر مالی لین دین کا مکمل ریکارڈ محفوظ کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ اگر دنیا ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف منتقل ہو سکتی ہے تو پاکستان بھی یہ تبدیلی لا سکتا ہے۔ انہوں نے بڑے ریسٹورنٹس میں نقد ادائیگی کے بجائے ڈیجیٹل پیمنٹ کو فروغ دینے کی تجویز پر غور کی ہدایت بھی کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکس چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ ان کے مطابق جدید نگرانی کے نظام کے تحت کیمرے اور ڈیجیٹل ٹولز مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی میں مددگار ثابت ہوں گے۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی کی وصولیوں میں 38 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ ریونیو 250 ارب روپے سے بڑھ کر 346 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ادارے کا دائرہ کار 10 اضلاع سے بڑھا کر 26 اضلاع تک وسیع کر دیا گیا ہے اور اس میں مختلف نئے ونگز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
مالی سال 2026-27 کے لیے ریونیو ہدف 528.5 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے پی آر اے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انفورسمنٹ، انسانی وسائل اور ٹیکنالوجی کی استعداد مزید بڑھانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ٹیکس آگاہی مہم کو مؤثر بنانے کے لیے میڈیا ونگ کو فعال کیا جائے اور ہر کارروائی کی تفصیلات عوام تک شفاف انداز میں پہنچائی جائیں تاکہ ٹیکس کلچر کو فروغ دیا جا سکے۔