ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد اسرائیل کی مالیاتی منڈیوں پر دباؤ بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں اسٹاک مارکیٹ اور مقامی کرنسی میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اسٹاک مارکیٹ کا اہم تل ابیب 35 انڈیکس جون کے دوران 12 فیصد سے زائد گر چکا ہے، جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی کرنسی بھی دباؤ کا شکار رہی اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر تقریباً 5 فیصد کم ہوگئی۔