گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے گل پلازہ سانحے میں ہونے والی اموات کا ذمہ دار ریسکیو اداروں کے سست انتظامات کو قرار دے دیا۔ انہوں نے اس حوالے سے جوڈیشل کمیشن کو اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا ہے۔
اپنے جواب میں تنویر پاستا نے مؤقف اختیار کیا کہ آگ لگنے کے بعد فائر بریگیڈ کی پہلی گاڑی رات 10 بج کر 55 منٹ پر موقع پر پہنچی، تاہم صرف 20 منٹ کے اندر فائر ٹینڈر میں پانی ختم ہو گیا۔ مزید دو فائر ٹینڈر ساڑھے 11 بجے پہنچے مگر اس وقت تک آگ گراؤنڈ فلور پر تینوں اطراف پھیل چکی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو اہلکاروں کے پاس مناسب آلات، ماسک اور حفاظتی سامان موجود نہیں تھا جبکہ فائر فائٹرز کے پاس فوم یا کیمیکل بھی دستیاب نہیں تھا۔ ان کے مطابق ابتدائی امدادی کارروائیاں انتہائی سست تھیں جس کے باعث مارکیٹ انتظامیہ کو اپنی مدد آپ کے تحت نجی واٹر ٹینکرز کا انتظام کرنا پڑا۔
تنویر پاستا کے مطابق امدادی سرگرمیاں فجر کے بعد تیز ہوئیں، مگر اس وقت تک آگ شدت اختیار کر چکی تھی۔ عمارت میں پھنسے افراد کی لوکیشن ملنے پر کچھ لوگوں کو اپنی مدد آپ کے تحت نکالا گیا، تاہم مناسب ریسکیو سہولیات نہ ہونے کے باعث کئی افراد کو بچایا نہیں جا سکا۔
انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ واقعے کے وقت عمارت میں تقریباً ساڑھے تین ہزار افراد موجود تھے جن میں سے بیشتر کو نکال لیا گیا۔ پلازہ کے تمام 16 راستے کھلے تھے اور ہزاروں افراد انہی راستوں سے باہر نکلے۔ معائنے کے دوران دوسری منزل پر ایک شٹر بند پایا گیا تاہم اس پر تالا نہیں تھا اور ممکنہ طور پر آگ کی شدت کے باعث اس کا اسپرنگ متاثر ہونے سے شٹر بند ہوا۔
اپنے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پلازہ میں مصنوعی پھول، کھلونے، گارمنٹس، اسپرے اور دیگر آتش گیر سامان موجود تھا جبکہ عمارت کی چھت پر 7 ڈیزل جنریٹر نصب تھے جن میں سے 5 فعال تھے۔ ان کے مطابق جاں بحق ہونے والے 72 افراد میں سے 51 افراد مارکیٹ سے وابستہ تھے۔
ادھر جوڈیشل کمیشن کے ذرائع کے مطابق گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر نے کسی بھی دکان کے ٹائٹل فراہم نہیں کیے جبکہ دکانوں کی قانونی حیثیت، مینٹیننس فیس کی وصولی اور تنظیم کے بائی لاز سے متعلق بھی مکمل ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔