پاکستان اور سعودی عرب نے خطے میں جاری کشیدگی کو پرامن طریقے سے حل کرنے اور اسے مسلم ممالک کے درمیان تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ مفاہمت وزیراعظم شہباز شریف کے سعودی عرب کے مختصر مگر اہم دورے کے دوران جدہ میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں سامنے آئی۔ وزیراعظم کے ہمراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔
پاکستانی وفد نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور بڑھتی علاقائی کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ موجودہ حالات فوری اور مؤثر سفارتی کوششوں کے متقاضی ہیں تاکہ کشیدگی میں مزید اضافہ روکا جا سکے اور تنازعات کو محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔
ملاقات کے دوران اس پالیسی کا اعادہ بھی کیا گیا کہ مسلم دنیا کے اندر تنازعات سے ہر ممکن حد تک گریز کیا جانا چاہیے اور ایسی صورتحال سے بچنا ضروری ہے جو مسلم ممالک کے درمیان وسیع تصادم کا باعث بن سکتی ہو۔
پاکستانی قیادت نے اس موقع پر سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ حکام کے مطابق پاکستانی وفد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلام کے مقدس ترین مقامات کے محافظ کی حیثیت سے سعودی عرب کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور ان مقامات کا تحفظ پاکستان اور اس کی مسلح افواج کے لیے باعثِ اعزاز اور ذمہ داری ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں ایک علامتی پہلو بھی نمایاں رہا جب فیلڈ مارشل عاصم منیر جنگی یونیفارم میں شریک ہوئے، جسے پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت کے سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے متحد عزم کی علامت قرار دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستانی وفد کے اعزاز میں خصوصی عشائیہ بھی دیا جس میں صرف وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر شریک ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور خصوصی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
دونوں فریقوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے موجودہ ماحول میں دشمنی کم کرنے، مزید تناؤ کو روکنے اور مسلم دنیا میں اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔